37 total views, 1 views today

وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
مگر بدقسمتی سے مملکتِ خداداد پاکستان میں سیاست کا ڈھب ہی الگ ہے۔ پاکستانی سیاسی زندگی میں قوم نے وہ وہ کمالات دیکھے جن کا کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ایسا ہی کچھ 9 اپریل 2022ء کو دیکھنے کو ملا ۔ ملکی سیاسی تاریخ میں وزارتِ عظمیٰ کی مدت پوری کرنے کا ریکارڈ تو حسبِ روایت نہ ٹوٹ سکا۔ البتہ پاکستان میں پہلی مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد کامیاب ہوگئی اور اس سنسنی خیز انداز میں کامیاب ہوئی کہ ہر لمحہ کبھی حزبِ اقتدار کے چہرے لٹکتے رہے…… اور کبھی حزبِ اختلاف کے۔ اس بپھری ہوئی تحریکِ عدمِ اعتماد کے نتیجے میں سادگی، کفایت شعاری اور ریاستِ مدینہ کے داعی وزیرِ اعظم عمران خان کو اپنی وزراتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔
اگر ہم ماضی کی طرف نظر دوڑائیں، تو پہلی تحریکِ عدمِ اعتماد بینظیر بھٹو کے خلاف آئی، جو ناکام ہوئی۔ پھر شوکت ترین نشانہ بنے۔ وہ بھی بچ گئے۔ اب کی بار تحریکِ عدم اعتماد اپنے پورے لاؤ لشکر اور پوری تیاری کے ساتھ عمران خان کے خلاف آئی، جو پاکستانی تاریخ میں پہلی بار کامیاب ہوئی۔ یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔
’’میرے پیارے پاکستانیو! آپ کو پرانا پاکستان مبارک ہو۔ ‘‘ عمران خان کی جگہ لینے والا وزیراعظم یہ الفاظ بول سکتا ہے، کیوں کہ نیا پاکستان جس نے ریاستِ مدینہ بننا تھا، زیادہ دیر نہ چل سکا اورآخرِکار پرانے پاکستان میں ضم ہوگیا۔ بدقسمتی سے جس لہجے اور تکبر سے نئے پاکستان کے وزیراعظم، وزرا اور مشیر بات کرتے تھے، شاید وہی ان کو لے ڈوبا۔ عمران کے نہ بننے والے چپڑاسی شیخ رشید نے جس طرح امیرلمومنین عمران خان کو آسمان پر چڑھایا تھا، اس سے ہر ذی شعور کو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن اسے کھجور میں اٹکائے گا۔ جس وقت وزیراعظم کی آسمان سے زمین پر لینڈنگ ہونے لگی، تو شیخ صاحب یک دم منظر سے غائب ہوگئے۔
اگر ’’نئے پاکستان‘‘ کے قیام پر ذرا سی روشنی ڈالی جائے، تو سب کچھ عیاں ہوجائے گا۔ خان صاحب کی حب الوطنی پر اگر کوئی شک نہ بھی کیا جائے، لیکن جس طرح انہوں نے ماہرین کی ٹیم تیار کی اور اس ٹیم نے کپتان سمیت جو گل کھلائے ان پر تھوڑی بات ضروری ہے۔ ’’چڑیا چگ گئیں کھیت ‘‘کے مصداق اب فوری طور پر شاید کوئی تلافی ممکن نہیں۔ کیوں کہ جو بویا گیا، وہی آخرِکار کاٹ لیا گیا ۔ وزیراعظم بننے سے پہلے آپ نے ’’نئے پاکستان‘‘ کا جو روشن اور اجلا چہرہ دکھایا، اس پر بہت سے لوگ فدا ہوگئے، مگر افسوس آج آپ کی کمانڈ اور کنٹرول پہ رونا آ رہا ہے۔ آپ نے دکھوں کی ماری قوم کو جو سنہرے خواب دکھائے تھے، وہ آپ نے اپنے ہی ہاتھوں چکنا چور کردیے۔ آپ نے کسی بھی خواب کو شرمندۂ تعبیر نہ ہونے دیا۔
جب اقتدار کی ہما آپ کے سر بیٹھی اس وقت تقریباً سارا پاکستان آپ کے ساتھ تھا۔ ڈھیر ساری سیاسی جماعتیں آپ کی قیادت میں روشن پاکستان کی متمنی تھیں۔ کیوں کہ دہشت گردی آپ کے آنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی۔ لوڈ شیڈنگ کا جن بھی قابومیں آچکاتھا۔ کراچی میں امن و امان قایم ہوچکا تھا۔ ان شواہد سے عالمی سطح پر آپ کو بڑی پزیرائی مل رہی تھی۔ با اثر ممالک آپ کی پشت پر تھے، مگر یہ سب کچھ ہونے کے باوجود آپ قوم کو وہ سب نہ دے سکے جس کا وعدہ کیا تھا۔
وزیراعظم اور گورنر ہاؤس عوام کے لیے وقف کرنے، پاکستانی، تارکینِ وطن اور دیگر ممالک کے لوگوں کو ملازمتیں دینے، آئی ایم ایف کے آگے جھکنے اور قرضہ لینے کی بجائے خودکشی کرنے، کرپشن مٹانے، چوروں اور لٹیروں کو راستہ نہ دینے جیسے بہت سے بلند بانگ دعوؤں میں سے کسی ایک کی بھی تکمیل نہ ہوسکی۔
اس طرح آپ اپنے وعدے کے مطابق مختصر اور قابل کابینہ کے ساتھ اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر عوام کی مشکلات کم کرکے ان کا معیارِ زندگی بہتر بنا سکتے تھے، لیکن افسوس آپ نے اپنی کابینہ کے جم غفیر اور سپورٹرز کے ذریعے اپنی تمام تر توانائیاں صرف اس بات پر لگا دیں کہ ’’مَیں اپوزیشن کو رُلاؤں گا‘‘، ’’مَیں ان کو تکلیف پہنچاؤں گا۔‘‘ واقعی آپ پوری یکسوئی سے اپوزیشن کی کردار کشی میں لگے رہے۔ آپ اپنی جماعت کے لوگوں پر کرپشن کے لگے داغ دھونے میں بے بس نظر آئے۔ یہ تو نہیں معلوم کہ اپوزیشن روئی یا نہیں، اور اگر روئی تو کتنا……؟ لیکن خان صاحب آپ کے زریں دور میں غریب عوام کی چیخیں نکل گئیں۔ آٹا، چینی، آئل اور میڈیسن مافیا آپ کی حکومت کی گود میں بیٹھ کرعوام کو لوٹتا رہا، لیکن آپ شان بے نیازی سے مخالفوں کو دبوچنے میں مصروف رہے۔ آپ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی بجائے ساری ذمہ داری پچھلی حکومتوں پر ڈال کر انہیں مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ آپ عوام کو کہتے رہے کہ ’’آپ نے گھبرانا نہیں‘‘ اور خود گھبرا کر رات کے اندھیرے میں نکل گئے۔ آپ ریاستِ مدینہ کی باتیں کرتے تھے۔ سادگی کی باتیں کرتے تھے اور خود جاتے ہوئے ہیلی کاپٹرکے بغیر وزیراعظم ہاؤس سے نہ نکلے۔
جس طرح عمران خان آپ نے سنہرے خواب دکھا کر حکومت لی، اسی طرح اب اپوزیشن نے عوامی باتیں کرکے اقتدار ہاتھ میں لیا ہے، مگر دیکھنا ہے کہ اب کوئی ماضی سے سبق سیکھتا ہییا اسی چلن کو برقرار رکھتا ہے؟
امتِ مسلمہ نے قاید اعظم کی قیادت میں پاکستان رمضان المبارک میں حاصل کیا۔ رمضان کی با برکات مہینے میں اب ہم ’’نئے پاکستان‘‘ سے واپس اپنے پاکستان میں آئے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ نئے پاکستان سے نکلنے کے بعد حکم ران قاید کے پاکستان کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ کیا وہ ہر چیز پرانی والی سطح پر لائیں گے یا ہر کام ’’نئے پاکستان‘‘ والا ہوگا؟ کیا نئی حکومت پرانی عوام کو پاکستان کی پرانی قیمتیں لوٹا دے گی؟ کیا چینی ایک بار پھر 40 روپے، پیٹرول 80 روپے، گھی 250 روپے، مرغی کا گوشت 150 روپے، بڑا گوشت 300 روپے اور دیگر اشیا کی پرانی قیمتیں بحال ہونگی یا خان صاحب والا رویہ اختیار کیا جائے گا؟
یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ ’’نیا پاکستان‘‘ ہے نہ ’’پرانا‘‘، یہ قاید کا پاکستان ہے اور اس کی بقا میں ہم سب کی بقا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔