رمضان کا مبارک مہینا شروع ہوچکا ہے۔ شیطان کو قید کیا جاچکا ہے۔ انسانی نفس مگر ابھی تک آوارہ ہے۔ 11 مہینوں کی آوارہ گردی ختم ہونے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ بہرحال چند ہی دنوں میں زیادہ تر نفوس راہِ راست پر آجائیں گے کہ یہی فطرت ہے۔
انسان ماحول کے ساتھ بدلتا ہے۔ اس ماہِ مبارک کے مبارک ماحول میں انسان جلد ہی مبارک ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وطنِ عزیز میں اس دفعہ یہ سب کچھ ذرا مشکل سے ہوگا۔ کیوں کہ ابھی کل پرسوں، گذشتہ ہفتے اور دنوں میں جو کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے، اس کا اثر اتنی جلدی ختم ہونے والا نہیں۔ الزام تراشی، دشنام طرازی، فتوے بازی سمیت غداری کے خطابات تک دیے گئے۔ ایک بے یقینی کی کیفیت ہے جس میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے سیاست دانوں بارے مشکوک ہیں اور سیاست دان اداروں پر کم زوری کا الزام لگا رہے ہیں۔
بیچ میں خط کا ذکر ایسے کیا گیا کہ بھولا ہوا ’’قطری خط‘‘ لوگوں کو یاد آگیا۔ وہ قطری خط جو سابقہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پیش کیا تھا…… مگر جو تقدیر کا لکھا ہوا ہو، وہ دعاؤں سے تو بدل سکتا ہے ’’خطوط‘‘ سے نہیں۔ لہٰذا قطری خط نے بھی نواز شریف کو کوئی فایدہ نہیں پہنچایا تھا…… لیکن آج کل جس خط کا تذکرہ زبان زدِ عام ہے۔ اس کو یار لوگوں نے ’’خطری خط‘‘ کا نام دیا ہے۔ جس نے اگر بظاہر عمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچایا…… لیکن خود عمران خان کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے میں کامیاب ہوا۔
اب اگر ان دنوں انتخابات ہوجائیں، تو قوی امکان ہے کہ تحریکِ انصاف دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپس آسکتی ہے، جس کا اندازہ گذشتہ مہینے کی آخری تاریخ کو خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتایج سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں سوات میں سوائے ایک تحصیل کے باقی تمام نشستیں تحریک انصاف جیتنے میں کامیاب ہوئی۔
اسی طرح ضلع ملاکنڈ جو پیپلز پارٹی کا ’’مِنی لاڑکانہ‘‘ کہلاتا تھا…… وہاں بھی تحریکِ انصاف کی جیت ہوئی ہے۔
’’دیر‘‘ جہاں جماعتِ اسلامی والوں کا دعوا تھا کہ دیر پائین اور دیر بالا صرف جماعتِ اسلامی کا علاقہ ہیں…… اب وہاں بھی تحریکِ انصاف نے کامیابی حاصل کی ہے…… جو کہ بلاشبہ جماعت اسلامی کے لیے بدترین شکست ہے۔ کیوں کہ جماعتِ اسلامی ویسے بھی عرفِ عام میں صرف دیر بالا، پائین اور بونیر وغیرہ تک محدود پارٹی ہے۔ اب اگر ان اضلاع میں بھی جماعتِ اسلامی کو شکست کا سامنا ہے، تو پھر سراج الحق صاحب کو سوچنا چاہیے کہ جماعت کو مزید برباد کرنا ہے…… یا اس کو ’’الخدمت‘‘ تک محدود کرکے معاشرے میں کم ازکم نیک نامی تو کمائی جائے۔
خیر، ہم بات کر رہے تھے ایک خط کی…… جس نے ملکی سیاست میں بہت کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اب سیاست میں واضح دراڑ آچکی ہے۔ دو صفوں میں واضح خلیج ہے۔ ایک فریق کا سربراہ عمران خان ہے…… جس نے اس خط کو بہترین انداز میں اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ اور اب وہ لوگ جن کا تعلق بے شک تحریک انصاف سے تھا اور نہ رہے گا، مگر وہ بھی سمجھتے ہیں کہ عمران خان کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ امریکہ سمیت کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ پاکستان کی ’’خارجہ پالیسی‘‘ کو موڑنے کے لیے دباو ڈالے…… یا حکومتوں کو بدلنے کے لیے اپوزیشن کو اکسائے؟
دوسرا سیاسی فریق وہ ہے جس کا نام ’’متحدہ اپوزیشن‘‘ ہے۔ اس اتحاد کا کوئی متفقہ اور مضبوط صدر تو نہیں…… لیکن عملی طور پر پیپلز پارٹی آصف زرداری کی قیادت میں اس اتحاد پر فیصلہ کن اثر رکھتی ہے۔
اب اس تمام تر صورتِ حال میں بہتر فیصلہ عوام کا ہوگا…… انتخابات جب بھی ہوں گے، فیصلہ اسی میں سامنے آئے گا…… لیکن اگر بغور دیکھا جائے، تو اپوزیشن کی حالت عوام کی نظروں میں مشکوک ضرور ہوگئی ہے۔ باوجود اس کے کہ عدمِ اعتماد آئینی، قانونی اور جمہوری عمل تھا…… مگر وقت کے انتخاب اور ’’خطری خط‘‘ نے اس آئینی اور جمہوری عمل کو بھی ہمیشہ کے لیے داغ دار کر دیا ہے۔
قارئین! مجھے نہیں لگتا کہ یہ داغ آسانی سے دھل جائے گا…… بلکہ عین ممکن ہے کہ یہ داغ پھیلتے پھیلتے اپوزیشن کے پورے دامن کو ہی گھیر لیے۔
جاتے جاتے اک لطیفہ سنیے گا۔ ایک اخباری خبر کے مطابق جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے سوات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ’’خطری خط‘‘ کے بارے میں بتایا: ’’یہ عمران کو اس کی بیوی کا لکھا ہوا خط ہوسکتا ہے۔‘‘
قارئین! اب دیکھنا یہ ہے کہ خط کی یہ کہانی کہاں تک طول پکڑتی ہے؟ سرِ دست تو رمضان کا مہینا جاری ہے…… جس میں شیطان تو قید ہے، مگر نفسِ انسانی کو قید ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔