47 total views, 1 views today

حزبِ اختلاف کی جانب سے ’’مہنگائی مکاؤ مارچ‘‘ اور حزبِ اقتدار کی جانب سے ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کے نام سے اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ یہ جو معاملات روز بہ روز نازک اور سنگین ہورہے ہیں…… یہ پارلیمانی نظام کی روایات کو نہ اپنانے کی وجہ سے ہورہے ہیں۔ مملکتِ خداداد پاکستان میں پارلیمانی نظام کبھی استحکام کا باعث نہیں رہا۔ کیوں کہ یہاں حکم ران اقتدار سے چمٹے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتیں اخلاقی، قانونی تقاضوں اور اصول و ضوابط کو نظر انداز کر کے ہمیشہ ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کا سہارا لیتی ہیں…… اور پھر اس کا خمیازہ انہیں اس وقت بھگتنا پڑتا ہے جب حکومت پر کوئی کڑا وقت آتا ہے…… جیسا کہ آج کل پی ٹی آئی کی حکومت کو سامنا ہے۔
دنیا کے دوسرے جمہوری ممالک جن کا تذکرہ ہمارے حکم ران تواتر سے کرتے ہیں، عدمِ اعتماد کی تحریکیں کسی بڑی سیاسی لڑائی کے بغیر منتخب ایوانوں میں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے ٹھوس دلایل پر مبنی بحث مباحثے کے بعد خوش اسلوبی سے نمٹاتے ہیں۔ وہاں حکم ران اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ہر جایز و ناجایز ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں نہ اپوزیشن انہیں ہر قیمت پر بے دخل کرنے کے لیے تل جایا کرتی ہے۔
جب کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک میں تمام آئینی روایات پامال ہوتے دکھائی دے رہی ہیں اور معاملے کی پارلیمنٹ سے زیادہ سڑکوں اور عدالتوں میں چلے جانے کی نوبت آ گئی ہے۔
تحریکِ انصاف کی موجودہ حکومت کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان لاکھ دعوا کریں کہ انہوں نے ملک کو سیدھی راہ پر ڈال دیا ہے، مگر زمینی حقایق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ بلاشبہ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت اپنے ولولہ انگیز وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کو انتقامی غضب کا نشانہ بنایا۔ میڈیا کی آزادی کو ختم کیا۔ پارلیمنٹ کو پسِ پشت ڈالا۔ احتساب کو سیاسی انتقام اور سماجی و سیاسی ماحول کو خراب کرتے ہوئے ایک ’’مکروہ سیاسی کلچر‘‘ متعارف کرایا۔ مذہبی انتہا پسندی کو روکنے اور دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کے ساتھ عمران خان نے ناسمجھی میں پاکستان کو تنہا اور ’’سی پیک‘‘ کو غیر فعال کر دیا…… اور یوں پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔
پنجاب میں گورننس کا جو حال ہوا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اپوزیشن سے بات تک کرنے کو اپنے لیے شجرِ ممنوعہ بنائے رکھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’آر ڈی نینسز‘‘ کے ذریعے کام چلایا جاتا رہا۔ حالات بڑھتے بڑھتے عدمِ اعتماد کی تحریک تک آ گئے اور اس وقت دونوں طرف سے الزامات اور القابات کی پٹاری کھلی ہوئی ہے۔
تحریکِ انصاف کے ناراض اراکینِ اسمبلی کو اپوزیشن کے حق میں ووٹ کے استعمال سے روکنے کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دایر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکم ران پارٹی ایک طرف منحرفین کی قیام گاہوں اور گھروں پر پُرتشدد مظاہرے کرا رہی ہے…… اور انہیں ضمیر فروش اور غدار جیسے الزامات سے نواز رہی ہے، تو دوسری طرف وزیرِ اعظم انہیں واپس لانے کے جتن بھی کر رہے ہیں…… اور دھمکیاں دینے کے علاوہ ان کے لیے ’’عام معافی‘‘ کے اعلانات بھی کر رہے ہیں۔ کیوں کہ ان کے بغیر حکومت کا چلنا ناممکن نظر آتا ہے۔
بلاشبہ اقتدار آنی جانی چیز ہے۔ حکم رانوں اور قایدین کو صرف اقتدار حاصل کرنے کی امنگ ہی نہیں، اقتدار سے علاحدگی کا ادراک بھی ہونا چاہیے۔ بہتر تھا کہ پارلیمنٹ کا معاملہ پارلیمنٹ ہی میں طے کیا جاتا۔ اس میں اداروں کو ملوث کیا جاتا نہ عدالتوں کو۔ یا پھر حکومت اس برس عام انتخابات کا اعلان کردیتی…… اور انتخابی اصلاحات اور قومی اتفاقِ رائے کے لیے دونوں اطراف با مقصد مذاکرات کا آغاز کردیا جاتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیساکھیوں کے سہارے کچھ دیر تک تو کھڑا رہا جاسکتا ہے…… مگر مستقل طور پر کھڑے رہنا نا ممکن ہوتا ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان کے لیے بھی بہتر راستہ یہی ہے کہ اگر ان کی پارٹی کے 10 سے زیادہ ایم این اے ان کی پالیسیوں پر اعتماد نہیں کر رہے، تو ان کو قانون کے مطابق مطلوبہ افراد کی حمایت حاصل نہیں رہی۔ وہ باعزت طریقے سے قوم کو اعتماد میں لیں اور ایسے متنازع اقتدار کو چھوڑ دیں۔ اس طرح عوام ان کے زیادہ گرویدہ ہوجائیں گے۔ بہت سے لوگ اقتدار سے باہر رہ کر زیادہ محترم ہوجاتے ہیں۔
یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سنگین حالات میں حکومتیں ہمیشہ مصالحت کی کوشش کرتی ہیں۔ صبر و تحمل سے کام لیتی ہیں…… اور تصادم اور توڑ پھوڑ روکنے کی تدابیر کرتی ہیں…… مگر بدقسمتی سے یہاں خود حکومتی عمایدین ہی اشتعال انگیزی اور مار دھاڑ کے اسباب پیدا کرنے میں پیش پیش ہیں۔
بہرحال تحریکِ عدمِ اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا ناکام…… لیکن ملک اگر ایک بحران سے نکلتے نکلتے کسی نئے بحران میں پھنس گیا، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
موجودہ تشویش ناک صورتِ حال میں یہ خبر امید کی ایک کرن کے طور پر سامنے آئی ہے کہ ملک و ملت کے بعض بہی خواہ حکومت اور اپوزیشن کو آمنے سامنے بٹھا کر معاملات سلجھانے کی راہ دکھا رہے ہیں۔ اس وقت ملک جس بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ مسایل جس قدر بڑھ چکے ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ ملک میں قومی حکومت قایم نہیں ہوسکتی، تو کم از کم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ’’ورکنگ ری لیشن شپ‘‘ تو قایم کی جا سکتی ہے۔ جمہوری کلچر کے فقدان اور بڑھتے ہوئی سیاسی محاذ آرائی کے پیشِ نظر، ایسی تمام کوششوں سے گریز کیا جانا چاہیے…… جو جمہوری پارلیمانی عمل کو پٹری سے اتار سکتی ہوں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔