52 total views, 1 views today

اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں کچھ واقعات اور ’’کورونا وایرس‘‘ جیسی قدرتی آفات کی وجہ سے مہنگائی کی سطح کافی بلند ہوگئی ہے…… جس میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی سروے رپورٹس کے مطابق عام آدمی، سرکاری ملازمین اور بزرگ پنشنرز کی زندگیاں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے شدید تر مشکل ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ سال صوبائی اور مرکزی حکومتوں نے اپنے ملازمین کو مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے 15 فیصد ’’ڈسپریٹی الاؤنس‘‘ دیا لیکن ریٹایرڈ سرکاری ملازمین کو اس سے محروم رکھا گیا…… جو کہ ایک غیر منصفانہ پالیسی ہے۔ حالاں کہ بزرگ ریٹایرڈ سرکاری ملازمین بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے سخت نالاں ہیں۔
سالِ موجودہ یعنی 2022ء میں بھی مرکزی حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں یکم مارچ سے 30 جون تک 15 فیصد ڈسپریٹی الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے، جس کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے…… لیکن اس بار پھر ریٹایرڈ سرکاری ملازمین کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مرکزی اور صوبائی دونوں حکومتیں بزرگ سرکاری ریٹایرڈ ملازمین کو ڈسپریٹی الاؤنس دے کر ان کی دعائیں لیں۔
حکومت ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسوں میں اضافہ کرتی ہے…… جس کی مدد سے موجودہ مہنگائی کا بمشکل مقابلہ کیا جاتا ہے…… لیکن پھر بھی ان کی اشک شوئی تو ہوتی ہے۔ لیکن اس بڑھتی ہوئی ہوش رُبا مہنگائی میں بجٹ میں صرف 10 فیصد اضافہ کرکے پنشنرز حضرات کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالاں کہ مہنگائی سال میں 500 فیصد بڑھتی ہے۔ لہٰذا ٓیندہ بجٹ میں بزرگ سرکاری ریٹایرڈ ملازمین کی پنشن اور اس میں شامل میڈیکل الاؤنس میں کم از کم چالیس فیصد اضافہ کرکے بزرگ پنشنرز کی اشک شوئی کی جائے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان خو د بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اعتراف کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی اور صوبائی وزرا وغیرہ بھی وقتاً فوقتاً مہنگائی اور اس سے پیدا ہونے والے مشکلات کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ان ہی حالات کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بزرگ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی مالی مشکلات حل کرنے میں خصوصی دلچسپی لیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔