تبدیلی کے متعلق سوچنا، اس کا تواتر سے ذکر کرنا اور اس کے لیے سرگرم رہنا اور پھر تبدیلی کی ان سب باتوں کو معاشرے میں عام کرنا گویا عوام کو یہ امید دلانا ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں خوش گوار تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ ہرتبدیلی سے پہلے تبدیلی کی ہوا چلتی ہے، جس کا مقصد لوگوں کو ذہنی طور پرتبدیلی کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔
اکثر یہ ہوا اتنی تیز اور مضبوط ہوتی ہے کہ اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ٹھہر سکتی۔ طوفان کی طرح مضبوط درختوں تک کو جڑ سے اکھاڑدیتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک تیز ہوا 1970ء کو ہمارے علاقے میں آئی تھی جو روٹی، کپڑا اور مکان کے نام سے مشہور تھی۔ اس ہوا کے سامنے تمام سیاسی مینار زمین بوس ہوگئے تھے۔ بڑے بڑے خوانین اور مولوی اس کے سامنے ڈھیر ہوگئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ہوا عام لوگوں کے احساسات کی ترجمانی کرتی تھی اور اس ہوا کو تیز بنانے میں عام آدمی نے خود اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کے بعد 2011ء میں ’’انصاف‘‘ کی ہوا آئی تھی۔ اس ہوا کی بنیاد یہ تھی کہ لوگ دو پارٹیوں (مسلم لیگ اور پی پی) کے طرزِ حکم رانی سے تنگ آچکے تھے اور وہ تبدیلی کی کسی تیز ہوا کی شدت سے منتظر تھے۔
یہ بھی 1970ء کی طرح عام لوگوں کی ہوا تھی۔ لوگ تبدیلی چاہتے تھے اور جب یہ ہوا اُٹھی تو عام لوگ اس کے ساتھ اتنی گرم جوشی اور نئے جذبے کے ساتھ دوڑنے لگے تھے کہ ’’بے نظیر انکم سپورٹ‘‘ جیسا ’’سوشل سیکورٹی‘‘ کا پروگرام بھی کوئی کام نہ کرسکا…… حالاں کہ یہ مغرب کی طرز پر عوامی بہبود کا ایک مثالی پروگرام تھا…… اور ہماری تحصیل میں اس سکیم کے تحت تقریباً 27 ہزار کارڈ ایشو کیے گئے تھے۔
ان دونوں ہواؤں کی طرز پر آج کل ایک نئی اور تازہ ہوا چل پڑی ہے۔ لوگ پی پی اور پی ٹی آئی سے مطمئن نہیں رہے۔ ان دونوں پارٹیوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے بطن سے یہ ہوا نکلی ہے کہ بس بہت ہوچکا…… بجائے اس کے کہ ہم دوبارہ پی ٹی آئی اور پی پی میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں، ہم کسی ایسے شخص کا انتخاب کیوں نہ کریں جو آسانی سے دستیاب ہو۔ وہ کوئی میٹنگ ویٹنگ کا بہانہ نہ کرے…… اور عوام کے مفاد کے لیے انتظامیہ کے ساتھ دوٹوک بات کرنے کا اہل ہو۔
تحصیلِ بٹ خیلہ کی موجودہ ہوا کا رنگ سرخ ہے۔ کیوں کہ اس میں سرخ ٹوپیوں اور جھنڈوں کا بکثرت استعمال ہو رہا ہے…… اور سرخ رنگ عموماً اے این پی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے…… جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے…… اور اس کی تبدیلی کی ہوا مذکورہ بالا دونوں ہواؤں سے زیادہ تیز ہے۔ لوگ اور خاص کر نوجوان طبقہ جوق درجوق سرخ ہوا کے ساتھ شامل ہو رہا ہے۔ یہ ہوا تحصیلِ بٹ خیلہ کے جس علاقے سے بھی گزرتی ہے، لوگوں کو اپنا ہم نوا بنا کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ کیوں کہ یہ عام لوگوں کی زبان بولتی ہے۔ عام آدمی کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا پیغام بہت سادہ اور واضح ہے کہ اس دفعہ اس تیسری قوت کو آزمانا چاہیے جو امن کی بات کرتی ہے اور اپنے وسایل، جمہوری اصولوں اور جمہوری روایات کی پاسداری کی بات کرتی ہے۔
عام لوگوں نے محسوس کیا ہے کہ اس ہوا میں مساوات کی خوشبو رچی بسی ہے اور اس ہوا کے ذریعے جس تبدیلی کی بات کی جاتی ہے، اس میں تمام لوگوں کے لیے یکساں حیثیت کا پیغام پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحصیلِ بٹ خیلہ کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے آگرہ، ٹوٹئی وغیرہ میں اس ہوا کے تیز جھونکے لوگوں کے دلوں میں امید اور آمادگی کے جذبات ابھار رہے ہیں۔
ایک صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ متعلقہ علاقوں میں نوجوانوں کے لیے سرخ ٹوپیوں کا بندوبست کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ان کے ساتھ وسایل کی کمی ہے۔ آگرہ، ٹوٹئی، مونگئی، کوٹ، برچڑئی، حصار، طوطہ کان، بڑہوال، پیر خیل، میخ بند، جولگرام، ڈھیری، بٹ خیلہ اور پیران ملاکنڈ جیسے علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے بڑے بڑے اجتماعات یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ تحصیلِ بٹ خیلہ میں حقیقت میں کوئی تازہ ہوا چلی ہے۔
قارئین! اب امید کی جاتی ہے کہ 31 مارچ کی شام کو یہ ’’سرخ ہوا‘‘ تحصیلِ بٹ خیلہ کے لوگوں کو عوامی نیشنل پارٹی کی کامیابی کی صورت میں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچا دے گی۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔