’’ہمیں غایب کیا جاتا ہے۔ ہماری لاشوں کو مسخ کیا جاتا ہے اور اب ذہنوں کو بھی غصب کرنا شروع کردیا گیا ہے۔ ہماری زبانوں کو بند کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہاں بولنے تو کیا…… سوچنے پر بھی پابندی ہے۔ مسئلہ کیا ہے…… وہ سب کو معلوم ہے! کیوں کہ یہ سب کچھ تو 73 سال سے کہا اور سنا جا رہا ہے…… مگر اس کا حل کیا ہے…… اس کا جواب کون دے گا؟‘‘
قارئین! یہ باتیں ایک بلوچ لڑکی کی ہیں…… جو ایک سرکاری یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے۔ قومی سلامتی اور بلوچستان کے عنوان پر منعقدہ پروگرام میں جب مقررین نے تقاریر کیں، تو سوال و جواب کی نشست میں اس بلوچ بچی نے یہی کچھ کہا جو تحریر کی اولین سطور میں رقم ہوچکا۔
قارئین! خود مجھے گذشتہ ہفتے نصف درجن کے قریب ایسے پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا……جن میں اکثر کے موضوعات قومی سلامتی اور بلوچستان کے مسایل سے متعلق تھے۔ بعض پروگراموں میں اعلا عسکری شخصیات نے بریفنگ دی، تو بعض میں اعلا سویلین لوگ مقررین تھے۔ بعض میں سویلین، عسکری اور انتظامی افسران سے بیک وقت گفت و شنید کا سلسلہ شامل تھا۔ ان سب نشستوں میں شرکت، گفت گو اور سوال و جواب کے بعد ڈھیر سارے نتایج اخذ کیے گئے، ان کے علاوہ اور بھی نتایج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ ان محفلوں اور مباحثوں میں بتایا گیا کہ ’’بلوچستان کا مسئلہ اب عسکری سے زیادہ سیاسی اور سماجی ہے۔ یہاں دہشت گردی سے بڑا مسئلہ سیاسی مخلص قیادت اور انتظامی اہلیت کا فقدان ہے۔‘‘
اس حوالے سے جو اندازے دیے گئے، ان کے مطابق دہشت گردی صرف 20 فیصد ہے۔
قارئین! آئیے اس بات کو ایک آسان مثال کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم بلوچستان کو ایک گول دایرہ تصور کرلیں، تو اس دایرے کا صرف 20 فیصد عسکری جب کہ 80 فیصد سیاسی اور دیگر وجوہات پر مبنی ہے۔ مطلب یہ کہ بلوچستان کی شورش اور بدامنی میں دہشت گردی کا حصہ صرف 20 فیصد ہے…… جب کہ سیاسی، انتظامی اور مالی ناکامی اور بدعنوانی کا حصہ 80 فیصد ہے۔ اب اگر ایسا ہی ہے، تو 20 فی صد غلطی کو درست کرنے یا دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے عسکری ادارے فعال ہیں…… جن کے جوان روزانہ کے حساب سے تحفظِ وطن پر قربان ہو رہے ہیں۔ بے شک عسکری اداروں خاص کر ایف سی کے رویے سے لوگوں کو شکایتیں بھی ہیں…… جن کا اِزالہ غیر ضروری چیک پوسٹس کے خاتمے کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ غیر عسکری طور پر تعلیم و ترقی کے کاموں کا آغاز بھی کیا گیا ہے…… مثلاً پاکستان کی آزادی سے لے کر سنہ 2000ء تک پورے بلوچستان میں صرف ایک یا دو جامعات تھے۔ اب اس صوبے کے مختلف علاقوں میں کل ملا کے 9 سرکاری جامعات فعال ہیں۔ اس طرح 1947ء سے لے کر 2005ء تک پورے صوبے میں ایک ہی میڈیکل کالج ’’بولان‘‘ قایم تھا…… جب کہ اب مزید تین یا چار سرکاری میڈیکل کالج قایم اور فعال ہوچکے ہیں۔ اس طرح دو فی میل کیڈٹ کالجوں میں سے ایک فعال اور دوسرا عن قریب شروع ہونے والا ہے۔ ’’سی پیک‘‘ اور ’’گوادر‘‘ کا شور بھی سنائی دے رہا ہے۔ ’’ریکورڈک‘‘ اور ’’چیندک‘‘ جیسے اہم خزانوں کے نام بھی لیے جا رہے ہیں۔ پھر بھی اس بدقسمت صوبے میں عوام کی زندگی بدل رہی ہے نہ بے یقینی کا خاتمہ ہی ہو رہا ہے۔
ممکن ہے کہ بیرونی خفیہ ادارے یہاں فعال ہوں جیسا کہ کلبھوشن کو یہاں سے پکڑا گیا تھا، لیکن ہمارے اداروں کا نام بھی تو "BAP” (بلوچستان عوامی پارٹی) جیسی پارٹیوں کے قیام میں لیا جا رہا ہے۔ اب اگر واقعی ایسا ہی ہے، تو پھر مخلص، حقیقی اور سیاسی قیادت کہاں سے آئے گی؟ پھر تو اُس بلوچ بچی کی باتیں درست ہیں۔
بلوچستان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کو سوچنا ہوگا کہ اگر اس صوبے میں خوف کو امن میں بدلنا ہے اور مرکز بے زار قوتوں کو مرکزی دایرے میں شامل کرنا ہے، تو پھر خوف کے سائے سے عوام کو چھٹکارا دلانا ہوگا۔ پھر آوازوں کو دبانے کی بجائے انہیں سننا ہوگا۔ کیوں کہ اس صوبے کے رہنے والے اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے لاہور اور اسلام آباد کے رہنے والے ہیں۔
لہٰذا شکوہ شکایتوں سے ملکی سلامتی ختم نہیں ہوتی…… بلکہ شکایتوں کو نہ سننے سے غم، نفرت میں بدل کر غصہ بن جاتا ہے۔ اس وقت بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ نفرتوں کا غصہ میں تبدیل ہونا ہے۔ حل جس کا بہت آسان ہے۔ زبان بندی، لوگوں کو غایب کرنے اور ذہنوں پر پہرہ بٹھانے کی بجائے لوگوں کو بولنے اور سننے دیا جائے۔ عام لوگوں تک رسائی حاصل کی جائے۔ بنیادی ضروریات کو فراہم کرکے ان کے ذہنوں کو ملکِ عظیم کی ترقی کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔
اگر بلوچستان میں امن دیکھنا ہے، تو سیاسی، انتظامی اور عسکری تینوں قوتوں کو اعلا ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ یہی آسان ترین حل ہے بلوچستان مسئلے کا۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔