66 total views, 1 views today

تحریر: حنیف قیس

جب سے بلدیاتی انتخابات 2022ء کا شیڈول جاری کیا گیا ہے…… تب سے عوام میں ہر روز اور ہر جگہ یہ مسئلہ زیرِ بحث ہوتا ہے کہ انتخابات برائے نام ہیں۔
اس ملک میں کوئی ادارہ، کوئی بھی پارٹی یا فرد آزاد نہیں۔ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے وہی ہوتا ہے اور جس کو لانا چاہے، صرف وہ آگے اور سامنے آتا ہے۔ پچھلے چار سال سے تو تمام پارٹیاں اور تمام جمہوری ادارے بیک آواز یہی نعرہ بلند کیے ہوئے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو!‘‘ یعنی عوام کی رائے کا احترام کرو۔ عوامی رائے کا احترام نہ کرنا انسانی حقوق کی پامالی ہے…… لیکن عام عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ملک میں موروثی سیاست بھی ایک وبا سے کم نہیں۔ تمام پارٹیوں کے اندر خود بھی جمہوریت نہیں۔ پارٹی کے قایدین جو چاہیں اور جس کو چاہیں مراعات اور انتخابی ٹکٹ سے نوازتے ہیں۔ خواہ پارٹی کے تمام ورکر اس فیصلے سے ناخوش ہی کیوں نہ ہوں…… پھر بھی ان پارٹیوں کے قایدین اسٹیبلشمنٹ کا رونا روتے ہیں اور آزادی چاہتے ہیں…… لیکن اپنے پارٹی ورکروں کی رائے کا احترام نہیں کرتے اور اپنے من پسند لوگوں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ دے کر نوازتے ہیں۔
موجودہ بلدیاتی انتخابات میں اور پارٹیوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے قاید جناب انجینئر امیر مقام صاحب نے بھی پورے ضلع میں اپنی من مانی کا لوہا منوایا اور پارٹی کو خوب نقصان پہنچایا۔ نتیجتاً جیتی ہوئی نشستوں کو اپنے ہاتھ سے دوسروں کی جھولی میں ڈال دیا۔
قارئین! تحصیلِ مٹہ اور تحصیلِ خوازہ خیلہ میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بہت سے اہم اور سرکردہ لوگ پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں چلے گئے۔ اب امکان ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے فوراً بعد کچھ اور لوگ بھی چلے جائیں گے…… لیکن چوں کہ ہمارا موضوع تحصیلِ چارباغ تک محدود ہے…… اس لیے ہم یہاں تحصیلِ چارباغ کے مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے غلط فیصلے کو زیرِ بحث لائیں گے۔
تحصیلِ چارباغ ’’خاص چارباغ‘‘ کے علاوہ جو کہ تحصیلِ چارباغ کا سب سے بڑا قصبہ ہے…… تحصیلِ چارباغ میں چار اور بھی بڑے بڑے گاؤں ہیں، الہ آباد، دکوڑک، گلی باغ اور عالم گنج….. اس کے علاوہ باقی پوری تحصیلِ چارباغ چھوٹے چھوٹے گاوؤں اور مضافات پر مشتمل ہے۔ انجینئر امیر مقام صاحب کو چاہیے تھا کہ چارباغ سے عالم گنج تک اپنے ورکروں میں کسی کا انتخاب کرتے اور یہ انتخاب اس علاقے کے مسلم لیگی ساتھیوں کے صلاح و مشورے سے کرتے، تو کامیابی یقینی تھی۔ میرے خیال میں چارباغ سے یاسر بیروم خان، جاوید بھائی جان، محبوب علی خان، لنڈاکے دکوڑک سے محمد ضیا اور عالم گنج سے سہراب خان اچھے امیدوار تھے۔ ان سب کو ایک ساتھ بٹھا کر، مذاکرات کرکے اگر متفقہ طور پر کوئی ایک امیدوار سامنے لایا جاتا، تو بہت اچھے نتایج برآمد ہوتے۔ لیکن فیصلہ تو ’’فردِ واحد‘‘ نے کرنا تھا…… اور رشتہ داری کی بنیاد پر کرنا تھا…… اس لیے پارٹی ورکروں کو اعتماد میں لینے کی کیا ضرورت تھی؟
جب سے پارٹی ٹکٹ کی بات چلی تھی، تو عام لوگوں کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ سہراب خان کو ٹکٹ دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سابقہ گلی باغ یونین کونسل کے وہ دو دفعہ ناظم منتخب ہوچکے ہیں…… جس میں تحصیلِ چارباغ کے چار بڑے گاؤں…… الہ آباد، دکوڑک، گلی باغ اور عالم گنج شامل ہیں۔ تحصیلِ چارباغ کے سب سے بڑے قصبے ’’خاص چارباغ‘‘ کا سابقہ ناظم یاسر بیروم خان بھی سہراب کو سپورٹ کرتے ہیں اور رشتہ دار بھی ہیں…… تو اس لیے چارباغ میں بھی سہراب خان کا خاصا اثر و رسوخ ہے۔ انجینئر امیر مقام صاحب نے سہراب خان کی اس حیثیت اور پوزیشن کو دیکھ کر اُسے آخر وقت تک اندھیرے میں رکھا…… اور آخری دن تک یہ بتاتے رہے کہ ابھی تک ہم نے ٹکٹ دینے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
کاغذاتِ نام زدگی داخل کرانے کی آخری تاریخ سے ایک دن پہلے کسی نے سہراب خان کو بتایا کہ عصر کے وقت مسلم لیگ ’’ن‘‘ کی طرف سے محمد ابرار خان نے کاغذاتِ نام زدگی داخل کیے ہیں۔ جب لوگوں کو پتا چلا تو الہ آباد، دکوڑک، گلی باغ، عالم گنج، روڑیا اور ملحقہ تمام مضافات کے لوگ صبح سویرے سہراب خان کے حجرے میں حاضر ہوئے۔ سہراب خان کو مجبور کیا کہ وہ آزاد حیثیت سے کاغذاتِ نام زدگی داخل کریں…… یا کسی دوسری پارٹی میں چلے جائیں۔ بہرحال سہراب خان نے آخری دن کے آخری وقت میں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور کاغذاتِ نام زدگی داخل کیے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت بھی نہ تو سہراب خان کو بتایا اور نہ اعتماد میں لیا گیا تھا۔ چپ چاپ رشتہ داری کی بنیاد پر محمد ابرار خان کو ٹکٹ دے دیا تھا۔
جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا کہ تحصیلِ چارباغ کے چار بڑے گاؤں اور مضافات کے سہراب خان دو بار ناظم رہ چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے میں وہ پارٹی کے علاوہ اپنا ذاتی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور پچھلے دو دفعہ وہ پارٹی کی نہیں بلکہ سہراب خان کی حیثیت سے جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یاسر بیروم خان اور اس کے ساتھیوں، دوستوں وار رشتہ داروں کی ایک بہت بڑی تعداد چارباغ سے بھی سہراب خان کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر پارٹی بھی پشت پر ہوتی، تو کوئی بھی سہراب کو شکست نہیں دے سکتا۔
لیکن شاید پارٹی قایدین کو پارٹی کی جیت سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس لیے ایک انتہائی غلط فیصلہ کیا گیا اور ٹکٹ محمد ابرار خان کے ہاتھوں تھما دیا گیا۔
محمد ابرار خان کو مَیں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ وہ سیر کے گاؤں کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں…… لیکن میرے جاننے یا نہ جاننے سے کیا ہوگا! سیاست میں کنڈیڈیٹ کی حیثیت اور شخصیت کام آتی ہے۔ محمد ابرار خان کا تعلق چوں کہ سیر گاؤں سے ہے…… اور تحصیلِ چارباغ کے بڑے بڑے گاؤں اور مضافات کے لوگوں کے ساتھ نہ کوئی راہ و رسم ہے…… اور نہ جان پہچان۔ اس لیے عالم گنج، گلی باغ، دکوڑک، الہ آباد اور اس کے مضافات کے 98 فی صد لوگ محمد ابرار خان کو جانتے ہیں اور نہ محمد ابرار خان ان لوگوں کو جانتے ہیں۔
اب عام ووٹر محمد ابرار خان کو کیوں اور کیسے ووٹ دے؟ بلدیاتی انتخابات زیادہ تر لوگوں کی جان پہچان، رشتہ داری اور تعلقات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ محمد ابرار خان کی جان پہچان صرف ملم جبہ وادی تک محدود ہے۔ ملم جبہ سے تحصیل چیئرمین کے لیے 5 یا 6 امیدوار اور بھی ہیں۔ اس لیے وہاں بھی سارے ووٹ محمد ابرار خان کو نہیں پانچ چھے جگہ تقسیم ہوں گے۔ میرے خیال میں محمد ابرار خان کی پوزیشن پوری تحصیل میں بہت کم زور ہوگی۔ ادھر ’’خاص چارباغ‘‘ سے بھی تقریباً 7 کنڈیڈیٹ مختلف پارٹیوں اور آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں، تو خاص چارباغ کے ووٹ بھی تقسیم ہوں گے۔
رہا گلی باغ یونین کونسل جو کہ تحصیل چارباغ کے 4 بڑے گاوؤں اور مضافات پر مشتمل ہے، میں سہراب کے علاوہ صرف ایک امیدوار ہے۔ یہاں سہراب خان 2 بار جیت چکے ہیں۔ اب بھی لوگوں کی اکثریت سہراب خان کی حمایت کرتی ہے۔ اس لیے یہاں سہراب خان کی پوزیشن خاصی مستحکم ہے…… لیکن لوگوں کی رائے ہے کہ پوری تحصیل میں سہراب خان اور جمعیت العلمائے اسلام کے امیدوار کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
میری رائے کے مطابق نتیجہ جو بھی ہو، لیکن سہراب خان کی ذاتی حیثیت سے پوزیشن اور مسلم لیگ ’’ن‘‘ کی پوری پارٹی جو کہ محمد ابرار خان کو سپورٹ کرتی ہے، سے بہتر ہوگی۔ اس سے پتا چلے گا کہ مسلم لیگ ’’ن‘‘ میں سہراب خان کی حیثیت کیا تھی؟ میرا خیال ہے کہ اگر یہ مسئلہ محترم ڈاکٹر عباد اللہ صاحب کے حوالے کیا جاتا، تو ڈاکٹر صاحب میں یہ صلاحیت ضرور ہے کہ وہ تمام ساتھیوں کو ایک ساتھ بٹھاتے اور بہتر نتیجے پر پہنچ جاتے۔ آج ہم بھی یہ رونا نہ روتے، لیکن……!
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔