38 total views, 1 views today

آج کل پورا ’’مین سٹریم میڈیا‘‘ تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے بہت متحرک ہے۔ آپ کسی بھی چینل، کسی بھی اخبار حتی کہ فیس بک صفحات، یو ٹیوب چینل، ٹویٹر، انسٹاگرام جہاں کہیں دیکھیں، تو اولین موضوع ہے ’’تحریکِ عدم اعتماد۔‘‘ اب تک کی موصولہ اطلاعات کے مطابق عدم اعتماد کی یہ مجوزہ تحریک وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان کے خلاف پیش کی جا رہی ہے…… لیکن ہم ذاتی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک کامیاب ہو یا ناکام، یہ بحث ہی نہیں۔ کیوں کہ ناکامی یا کامیابی کا انحصار تو تب ہے کہ جب یہ پیش کی جائے۔ جب کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ تحریک پیش ہی نہیں کی جاسکتی۔ کیوں کہ اس کا اول نظریہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آیا۔ آپ ہزار اختلاف کرلیں…… لیکن آصف زرداری کی سیاسی دانش کو نہ ماننا خود فریبی ہے۔ اب آصف زرداری جیسا ایک تجربہ کار سیاست دان اگر اس اقدام کی ابتدا کر رہا ہے، تو سمجھنے والے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ پھر اس اقدام کے مقاصد و نتایج شاید وہ نہیں کہ جو نظر آرہے ہیں۔ ویسے سچ بات تو یہ ہے کہ اس اقدام میں فایدہ اول پی پی پی کا ہے، دوم حکومت کا…… جب کہ مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمان اس تمام صورتِ حال میں سو فیصد ناکام ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے آئیں ذرا حقایق کا جایزہ لیتے ہیں کہ اس تحریک کی کامیابی کی صورت میں ہماری سیاسی قیادت مستقبل کے حالات کیا چاہتی ہے؟
اول، پاکستان پیپلز پارٹی:۔ کیوں کہ اس اقدام کی محرک پی پی ہے۔ پی پی کی کوشش ہے کہ تب مستقبل کا وزیرِاعظم پی پی کا ہو اور ممکنہ طور پر یہ وزیراعظم آصف علی زرداری خود ہوں گے۔ سو اگر بالفرض یہ ہو جاتا ہے، تو پی پی کی یہ پوری کوشش ہوگی بلکہ وہ پی ڈی ایم سے یہ گارنٹی لے کر آگے بڑھے گی کہ پھر اسمبلیاں مدت پوری کریں گی۔ کیوں کہ تب زرداری صاحب ملک خصوصاً پنجاب میں کچھ سیاست کے پرانے کھلاڑیوں کو پی پی میں آسانی سے شامل کرکے آیندہ الیکشن میں کم از کم قومی اسبملی میں نمبر دو حیثیت چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زرداری صاحب اپنے اور اپنے دوستوں کے مقدمات کو بھی باآسانی صاف کرسکتے ہیں…… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جیالوں کو ایک بار پھر پُرجوش اور پُرامید کرلیں گے۔
دوم، پاکستان تحریک انصاف:۔ اس تحریک کی کامیابی سیاسی طور پر سو فی صد تحریکِ انصاف کے لیے منافع کا سودا ہے۔ اب عالمی حالات ہوں، حکومت کی نااہلی ہو یا کچھ اور…… لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس سے حکومت، تحریکِ انصاف خاص کر عمران خان کے لیے وہ کمبل بن گئی ہے جو اُوڑھی جاسکتی ہے اور نہ چھوڑی۔ اس تحریک کی کامیابی کے بعد دو معقول نعرے عمران خان کے ہاتھ آجائیں گے۔ ایک یہ کہ ’’عوام دیکھیں مجھے نکال کر یہ کیا تیر مار سکتے ہیں!‘‘ اور دوسرا نوجوان انصافیوں کے لیے وہی منترہ ’’دیکھا مَیں نہ کہتا تھا کہ یہ مافیا ہیں اور مافیا نے میرے خلاف اپنی کرپشن بچانے کے لیے سازش کی۔
سوم، ن لیگ:۔ ن لیگ بشمول مولانا فضل الرحمان یہ چاہتے ہیں کہ اس وقت تحریکِ انصاف تاریخ کی غیر مقبول ترین حکومت ہے۔ سو اس سے پہلے کہ حکومت آخری حصہ میں کچھ انقلابی اقدامات کرے…… اور پھر سے مقبول ہو فوری طور پر اسمبلیاں کو تحلیل کرکے نئے انتخابات ہوں، تاکہ ان کے لیے ایک معقول اکثریت کی گنجایش بن جائے۔ اس وجہ سے وہ عمران خان کو تبدیل کر کے اسمبلی توڑنا چاہتے ہیں۔
چہارم، حکومت کے اتحادی جیسے ایم کیو ایم سندھ اتحاد اور ق لیگ:۔ یہ سب اس تمام صورتِ حال کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی اہمیت جتلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں اپنا حصہ زیادہ چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ اس کا خوف بتا کر حکومت کو بلیک میل کرکے مزید مفادات کا حصول چاہتے ہیں۔
اب درجِ بالا صورتِ حال کا اگر گہرائی سے جایزہ لیا جائے، تو عملی طور پر تحریکِ عدم اعتماد کا کوئی امکان سرے سے نظر ہی نہیں آتا…… کیوں کہ تمام جماعتوں خاص کر تین بڑی جماعتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عدم اعتماد کا پیش کرنا عملاً ممکن ہی نہیں، تو پھر یہ ہنگامہ برپا کیوں ہے؟ اس کا سادہ (اور سیاست سمجھنے والوں کے لیے) جواب ہے کہ جب اس کے محرک آصف علی زرداری صاحب ہیں، تو پھر مان لیں کہ اس تمام صورتِ حال کا کلی فایدہ اٹھانے والا بھی آصف زرداری ہی ہے۔ اس نے بہت ہوشیاری سے جہاں ایک طرف پی پی کو براہِ راست سیاست کا مرکز بنا دیا، وہاں انہوں نے ایک پیترے سے دونوں بڑی جماعتوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ عدم اعتماد کے لیے رضا مندی دینے سے پہلے محترم نواز شریف کو یہ غور کرنا چاہیے تھا کہ اگر اسمبلیاں ٹوٹتی ہیں، تو پھر اس میں پی پی کا کیا فایدہ ہے؟ آخر آصف زرداری کہ جس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس صورتِ حال میں زیادہ سے زیادہ وہ چند سیٹیوں میں اضافہ کرسکتے ہیں…… ویسے اتنا ہی امکان کم ہونے کا بھی ہے، مزید سندھ حکومت قربان کر کے دوبارہ نہ آنے کا بھی رسک ہے۔ تو پھر وہ اسمبلی تو بالکل نہیں توڑنا چاہیں گے اور اگر اسمبلی نہیں ٹوٹتی، تو اس کا کیا فایدہ ن لیگ کو ہے؟ کیوں کہ حکومت میں آکر پی پی تو بہتری کی طرف جا سکتی ہے، کیوں کہ اس کا مدعا ہی آیندہ قومی اسمبلی میں دوسری پوزیشن حاصل کرنا ہے…… لیکن ن لیگ حکومت لے کر کہ جب اس میں پی پی کا بڑا حصہ ہو اور ساتھ ق لیگ، مولانا، ایم کیو ایم ہو، تو ان حالات میں اس واسطے تو اپنی مقبولیت کو کم کرنے کا ایک احمقانہ طریقہ ہی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آصف زرداری کہ جن کے بارے میں ان کے کارکن کہتے ہیں ’’سب پر بھاری‘‘ نے خود کو بھاری ثابت کیا…… اور اپنے مقاصد کو حاصل کر کے پی ڈی ایم کو عملاً ناک آوٹ کر دیا۔
قارئین! ویسے میرا ذاتی خیال ہے کہ جب آصف زرداری نے یہ تصور مطلب عدم اعتماد کی تحریک کا تصور پیش کیا ہوگا، تب بھی ان کو یہ بخوبی احساس ہوگا کہ یہ عملاً ممکن نہیں…… لیکن ایسا ماحول بنا کر وہ پی پی کو ایک دفعہ پھر بطور ایک سیاسی قوت کے منوا سکتے ہیں۔ سو انہوں نے بے شک اس میں کامیابی حاصل کی۔
اب اصل سیاسی رن تو پڑنا ہے پنجاب…… خصوصا شمالی پنجاب میں، تو یہاں بے شک تحریکِ انصاف اور ن لیگ آپس میں الجھتے رہیں…… ہمارا کیا لینا دینا۔ البتہ اس صورتِ حال میں وہ شمالی پنجاب کے چند اپنے ایلکٹ ایبل مثلاً پرویز اشرف، قمر الزمان کایرہ، ثمینہ گھرکی، حیدر زمان وغیرہ کی کامیابی کے لیے ق لیگ سے مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اب عوام کو آیندہ چند ماہ میں واضح یہ محسوس ہوتا نظر آئے گا کہ دونوں بڑی جماعتیں شدید بے چینی میں ہوں گی۔ جہاں تحریک انصاف، ق لیگ اور ایم کیو ایم سے مزید بلیک میل ہوگی۔ جہانگیر ترین کی منتیں کرے گی۔ ان کے مطالبات مانے گی…… وہاں ن لیگ کو روز ٹی وی پر حکومتی وزرا کی جانب سے ناکامی کے طعنے اور اپنے ورکروں کی مایوسی دیکھنے کو ملے گی…… جو بے شک اس کے لیے ایک نفسیاتی شکست بن کر آئے گی۔
سو یہ ہے اس سیاسی صورت حال کا کل حاصل۔ اس کے علاوہ اور کوئی سنجیدہ بات نہیں۔ البتہ آصف زرداری کا ایک احسان بے شک میڈیا کے نام نہاد دانش وروں پر بھی ہے کہ آیندہ چند ماہ میں میڈیا کو ایک لچھے دار موضوع مل گیا ہے۔ اب روز رات سات تا گیارہ بجے تمام ٹی وی چینلوں پر خوب سیاسی سرکس سجے گی اور بقولِ ہمارے سابقہ وزیر قانون (مرحوم) وصی ظفر’’آرہا ہے…… جا رہا ہے‘‘ کا منترہ نشر ہوگا۔ عوام غیر ضروری بحثیں فرمائیں گے اور اس طرح اگلا ڈیڑھ سال باآسانی گزر جائے گا۔ پھر نئے انتخابات، وہی نعرے، وہی جلسے، وہی دعوے اور رات بارہ بجے کے بعد اعلان وہ نہیں ہوگا جس کے لیے یہ نظام بنایا گیا یا جس کو عوام منتخب کریں گے…… بلکہ اعلان وہ ہوگا کہ جس کا فیصلہ راولپنڈی میں صدر بازار کے آخری حصہ مال روڈ پر ہوگا۔ اس کا اجرا آبپارہ مارکیٹ سے کیا جائے گا۔ اﷲ اﷲ خیر صلا۔
لیکن ہم بہرحال یہ امید رکھتے ہیں کہ آیندہ انتخابات نہ صرف صاف و شفاف ہوں بلکہ یہ شفافیت صرف پولنگ والے دن ہی نہیں بلکہ انتخابی اتحادوں اور مہم میں بھی نظر آئے اور خاص کر کاغذاتِ نام زدگی کے وقت مروجہ قوانین کا استعمال مکمل سختی سے کیا جائے، تاکہ کسی کرپٹ اور قوم فروش کا انتخابات لڑنے کا موقع ہی باقی نہ رہے۔
آخر میں ہم گذشتہ دنوں دو بہت اہم اشخاص یعنی رحمان ملک اور پرفیسر مہدی حسن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ دونوں کے نظریات سے اختلاف کے لیے بہت گنجایش ہے…… لیکن ایک بات ان میں مشترک تھی کہ دونوں بہت دلیر اور نظریہ سے وابستہ رہنے والے اشخاص تھے۔ حق مغفرت کرے۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔