60 total views, 1 views today

عرب ممالک کے ساتھ بھارت کی دوستی روز بہ روز گہری ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے پاکستانی تحفظات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارت کے ساتھ معاشی اور دفاعی میدان میں تعلقات کو بے پناہ وسعت دی ہے۔ گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان ایک نیا معاہدہ ہوا۔ طے پایا کہ دونوں ممالک موجودہ تجارتی حجم جو 60 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے…… کو بڑھا کر اگلے 5 برسوں میں 100 ارب ڈالر تک بڑھائیں گے۔
سعودی فوج کے سربراہ نے بھی بھارت کا سہ روزہ دورہ کیا ہے۔ دونوں ممالک دفاعی میدان میں تعاون کے دایرۂ کار کو تیزی سے وسعت دے رہے ہیں۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے خبر آئی تھی کہ متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کے ایک کافی بڑے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ شارجہ سے سری نگر کے لیے فلایٹس بھی شروع کی جاچکی ہیں۔ اسلام آباد نے سرکاری طور پر اس پیش رفت پر عمومی طور پر خاموشی اختیار کی…… تاکہ عرب امارات کے ساتھ کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو…… لیکن پاکستانی رائے عامہ کے لیے یہ اطلاع رنجیدہ کردینے والی تھی۔
اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں غیر معمولی سرعت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ عرب ممالک کی لیڈر شپ کو احساس ہے کہ تیل پر دنیا کے انحصار کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ سولر، بجلی کی بیٹریوں اور امریکہ میں دریافت ہونے والے شیل تیل کے وسیع ذخایر بھی اس کی ایک وجہ ہیں۔ وہ تیل کے متبادل معیشت کھڑی کرنے کے لیے سرپٹ دوڑ رہے ہیں…… بلکہ بعض اوقات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ چھوٹا ملک ہونے کے باوجود متحدہ عرب امارات کاروبار، تجارت اور سیاحت کے شعبوں میں سعودی عرب سے آگے ہے۔
سعودی عرب کا خیال ہے کہ بھارت کے ساتھ کاروباری تعلقات کے فروغ سے محمد بن سلمان کے وِژن 2030ء کے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ چناں چہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں بھارتی ہنرمندوں کی اپنے ممالک میں آمد کو آسان بنانے کے لیے ملکی قوانین میں تبدیلی کر رہے ہیں۔
اگرچہ عرب امارات کے ساتھ بھارت کے تعلقات زیادہ گہرے ہیں…… لیکن اب سعودی عرب بھی اسی راستے پر گام زن ہے…… بلکہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں بھارت کے ساتھ کاروباری مراسم بڑھانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں ہیں۔
اگرچہ پاکستان کے ساتھ بھی ان دونوں ممالک کے گہرے دوستانہ اور کاروباری تعلقات ہیں…… لیکن یہ ممالک محض پاکستان کی خاطر اب دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے گریزاں نہیں۔ خاص طور پر میاں نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان نے یمن کے خلاف فوج بھیجنے سے انکار کیا، تو عرب امارات کو ناگوار گزرا۔ چناں چہ بھارت کو سنہری موقع ملا کہ وہ ان ممالک میں اپنی رسائی بڑھائے اور پاکستان کے روایتی اثر و رسوخ کو کم کرے۔
عرب ممالک اور بھارت میں ایک قدرِ مشترک امریکہ کے ساتھ گہرے دوستانہ اور کاروباری روابط ہے۔ دنیا میں جو نئی سرد جنگ شروع ہوچکی ہے…… اس میں بقولِ امریکی حکام، وہ پاکستان کے ساتھ محدود تعلقات رکھنے کے خواں ہیں…… نہ کہ کثیر الجہتی تعلقات کے روادار ہیں۔
اس طرح پاکستان کی چین کے ساتھ شراکت بھی امریکیوں کو بے کل رکھتی ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان دھائیوں سے پائی جانے والی خلیج اب کشیدگی اور تناو کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔ اس طرح دشمن کا دوست بھی دشمن ہوا۔
سعودی عرب چوں کہ مسلم دنیا میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں ابھی تک دلچسپی رکھتا ہے اور ’’اُو آئی سی‘‘ کے ذریعے مسلم دنیا کی سربراہی بھی اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے…… لہٰذا وہ پاکستان کے جذبات اور تحفظات کا کسی حد تک احساس کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے پاکستان کے دفاعی اداروں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات ہیں۔
گذشتہ کئی عشروں سے دونوں ممالک کی افواج کے مابین مختلف امور پر کامیاب شراکت داری چل رہی ہے…… لیکن جیسے کہ پہلے عرض کیا کہ ان ممالک نے اپنی معیشت کو تیل کی بجائے سیاحت، کاروبار اور جدید صنعتوں پر استوار کرنا ہے…… اس لیے وہ پاکستان کی طرف نہیں دیکھ رہے…… بلکہ ان ممالک سے روابط استوار کرنے کی کوششوں میں ہیں…… جہاں سے انہیں مالی اور کاروباری مفادات حاصل ہوسکتے ہوں۔
گذشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں بدعنوانی کا راج رہا۔ راہبر ہی راہ زن تھے۔ سیاسی عدم استحکام اپنے عروج پر رہا۔ سیاست دان اور ریاستی اداروں کے باہمی ٹکراو اور عداوت کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی مسلسل چپقلش نے ملک کو ترقی کی راہ پر گام زن ہونے ہی نہیں دیا۔ چناں چہ بمشکل پورے سال 25 ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات تک نہ کرسکے۔ چنانچہ عرب ممالک کی دلچسپی بھی پاکستان میں کم ہوتی گئی۔ وہ ایسی مارکیٹ تلاش کررہے ہیں…… جہاں وہ سرمایہ کاری کرسکیں اور جہاں کے ہنرمندوں اور سیاحوں کو اپنی ترقی کے سفر میں ہم سفر بناسکیں۔
قارئین! کسی کو دوش دینے کی بجائے پاکستان کو اپنا گھر سیدھا کرنے پر دھیان دینا ہوگا۔ سیاسی عدم استحکام نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہر حکومت کو دھڑکا لگا رہتاہے کہ وہ آج گئی کہ کل گئی۔
بے پناہ وسایل اور استعداد کے باوجود پاکستان ترقی کی منزلیں طے کرنا تو دور کی بات، اس سیڑھی پر چڑھ ہی نہیں پاتا۔ کیوں کہ ہماری داخلی لڑائیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ بیرونی طاقتیں بھی اس صورتِ حال میں اپنا لچ تلتی ہیں۔ شورش کو ہوا دے کر ایک طرح سے جلتی پر تیل ڈالتی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ مضبوط معیشت تعلقات کے لیے جامع ’’فریم ورک‘‘ فراہم کرتی ہے۔ محض مذہبی، تاریخی اور سماجی رشتوں پر انحصار عصرِ حاضر میں کافی نہیں۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔