قارئین! سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں 30 ہزار سے زاید رکشے ہیں۔ ہزاروں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ ان گاڑیوں کا ماہانہ چالان 1 کروڑ روپے سے زاید بنتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ٹریفک پولیس، عوام سے بھتے کی صورت میں وصول کر رہی ہے۔ ٹریفک پولیس کے انچارج کے مطابق 11 لاکھ روپے ماہانہ صرف مینگورہ میں رکشوں سے جرمانوں کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں۔ ان جرمانوں میں پولیس اہل کار سے لے کر ڈی پی اُو تک کمیشن کی صورت میں ہر ماہ اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔
قارئین، پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ گاڑیوں کو کنڑول کرنا ان کا کام نہیں۔ ان کا کام صرف ریاست کے لیے کام کرنا ہے۔ وہ سارا نزلہ ’’ایکسایز‘‘ والوں پر ڈالتے ہیں۔ دوسری طرف ’’ایکسایز‘‘ والے کہتے ہیں کہ یہ حکومتی مسئلہ ہے۔ اس تمام تر صورتِ حال میں حکومت کہتی ہے کہ عوام کے پاس روزگار نہیں، اگر غیر قانونی رکشوں اور گاڑیوں پر ہاتھ ڈالا گیا، تو ان بے روزگاروں کو روزگار کون دے گا؟
اس تمام تر صورتِ حال میں شور اور دھواں اُڑاتی گاڑیوں کے بارے میں ماحولیات والے کہتے ہیں کہ وہ ان گاڑیوں کو جرمانہ کر رہے ہیں۔ جرمانہ، جرمانہ اور بس جرمانہ……! ایسا لگتا ہے کہ حکومت صرف ہر ماہ رقم بٹورنے کے لیے اور عوام سے جرمانے کی صورت میں بھتا وصول کرنے کے لیے موجود ہے……!
ایسے میں مذکورہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سے عوام پر جو اثرات مختلف امراض، ذہنی تناو، جرایم میں اضافے، وقت کے ضیاع اور دیگر لاتعداد پیدا ہونے والے مسایل کی شکل میں پڑتے ہیں، اس کا ادراک کس کی ذمے داری ہے؟ آخر کون یہ مسئلہ حل کرے گا؟
قارئین، اگر دیکھا جائے، تو اصول یہی ہے کہ حکومت ہی ان مسایل کا خاتمہ کرے گی…… مگر حکومت کے ادارے جن میں پولیس، ماحولیات، ضلعی انتظامیہ، ایکسایز اور سب سے بڑھ کر منتخب نمایندگان ہیں…… سب اپنے فرایض سے چشم پوشی اختیار کر رہے ہیں…… اور قصور وار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔
قارئین! یہ مسئلہ محض چند سال قبل اتنا سنگین نہیں تھا…… مگر مسلسل نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے سنگین تر ہوتا چلا گیا۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ مختلف چوراہوں پر پولیس اور گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات باہم مشت و گریباں نظر آتے ہیں۔ پولیس کے خلاف عوام کے سینوں میں نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ریاست کے خلاف بھی سینوں میں نفرت کا لاوا پکتا چلا جا رہا ہے۔ کیا حکومت ایک بار پھر ایک اور بڑے حادثے کی منتظر ہے؟
جن اداروں نے ان ہزاروں غیر قانونی رکشوں کو چلانے کی اجازت دی ہے، جن پر نمبر پلیٹ تک نہیں اور ان کے ڈرائیور بھی کم عمر ہیں، ان کے انجن ناکارہ اور فرسودہ ہوچکے ہیں…… اُن اداروں سے باز پرس کون کرے گا؟
طرفہ تماشا یہ ہے کہ مذکورہ رکشوں کو مردان، نوشہرہ اور پشاور میں ناقابلِ استعمال قرار دیا جاچکا ہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے ’’ٹو سٹروک‘‘ رکشے چلانے پر پابندی عاید کی ہے…… مگر سوات میں مسلسل قانون کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں۔ پولیس 200 روپے جرمانہ کی پرچی تھما کر غیر قانونی گاڑیوں کو پورے مہینے سڑکوں پر دوڑنے کا اجازت نامہ تھما دیتی ہے۔ اس مسئلے کا حل کسی کے پاس نہیں…… اور نہ اس کی سنگینی کا ادراک ہی کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ صدا کسی کے کانوں میں پڑتی بھی ہے یا دیگر صداؤں کی طرح یہ بھی ہوا میں تحلیل ہوتی ہے؟
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔