مذہبی اور عصری تعلیم ایک بہترین مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ معاشرے کی بہتری کے لیے خواتین کی تعلیم کا حصول بھی انتہائی اہم اور ضروری ہے۔
علم حاصل کرنا ہر مرد عورت کا بنیادی حق ہے۔ خواتین میں شعور پیدا کرنے، سماجی تعلقات قایم کرنے اور معاشرے میں اچھا مقام حاصل کرنے کے لیے تعلیم کا حصول ضروری ہے۔ اس سے عورتوں کو قانونی نظام، انسانی وسایل کی ترقی، سیاست اور دوسرے اہم شعبوں میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔ ان کے تحفظات کا سنا جانا یقینی ہو سکتا ہے۔ خواتین کی تعلیم ایک ایسا طاقت ور ہتھیار ہے…… جو خواتین کو مہارتیں، علمی وقت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مددگار ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے شعبوں جیسا کہ صحت، بچوں کی دیکھ بھال، غذائیت، صفائی میں بھی اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ان کی ذہنی تعمیر و ترقی میں مدد دینے اور انہیں انتظامی مہارتوں کے ساتھ ساتھ تجزیاتی سوچ کا حامل بناتی ہے۔
پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کے لیے خواتین کی تعلیم اہم ہے۔ خواتین کا خواندہ ہونا ہمارے مستقبل کی نسلوں کو بہتر تعلیم سے آراستہ کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان کے پس ماندہ علاقوں میں خواتین کو اعلا تعلیم دلوانا تو دور…… ابتدائی تعلیم کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ گوکہ لوگوں کی سوچ میں اب کافی حد تک تبدیلی آئی ہے۔ ایک وہ بھی دور تھا جب سندھی اخبارات میں ’’کارو کاری‘‘ کے باعث عورتوں کے قتل ہونے کی خبریں عام تھیں۔ وہ وقت کب کا گزر گیا…… جب جرگوں میں لڑکیوں کے بارے میں وڈیرے فیصلے کرتے تھے…… لیکن سندھ میں خواتین کو اب نئی خطرناک صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے…… وہ بھی دور دراز دیہاتوں گوٹھوں میں نہیں…… بلکہ شہروں میں قایم اعلا تعلیمی اداروں میں۔
ان تعلیمی اداروں میں طالبات کے ساتھ پیش آنے والے ناخوش گوار واقعات نے اعلا تعلیمی اداروں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں سندھ کے تعلیمی اداروں…… سابق وزیرِ اعظم پاکستان ’’محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید)‘‘ کے شہر میں چانڈکا میڈیکل کالج…… سندھ یونیورسٹی جامشورو میں نایلہ رند، ڈاکٹر نمرتا چندانی اور نوشین کاظمی کی جانب سے خود کشی کے تواتر سے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر نمرتا، آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی فاینل ایئر کی طالبہ تھیں…… جن کی نعش ہاسٹل سے 16 ستمبر 2019ء کو برآمد ہوئی۔
ایک سال بعد اسی کالج میں میڈیکل سیکنڈ ایئر کی طالبہ نوشین کاظمی کی نعش 24 ستمبر 2021ء کی صبح پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔
اُس سے قبل سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ماروی ہاسٹل میں دادو کے علاقے میہڑ سے تعلق رکھنے والی طالبہ نایلہ رند بھی ہاسٹل کے باتھ روم میں مردہ پائی گئی…… جب کہ پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ میں زیرِ تعلیم سیتا روڈ دادو سے تعلق رکھنے والی طالبہ ڈاکٹر عصمت طور نے گذشتہ ماہ ایک ریٹایرڈ فوجی شمن سولنگی کی جانب سے بلیک میلنگ سے تنگ آکر گھر میں فایرنگ کرکے خود کشی کی تھی۔
اب تازہ ترین واقعہ اسی پیپلز میڈیکل یونیورسٹی نواب شاہ میں ڈاکٹر پروین رند کو پروفیسر کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکل میں پیش آیا ہے۔
اس واقعے کے متعلق ڈاکٹر پروین رند نے صحافیوں کو آنسوؤں کے ساتھ اپنے بیان میں بتایا کہ انہیں ڈائریکٹر غلام مصطفی راجپوت کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا کہ وہ کسی بڑے افسر سے تعلقات رکھیں۔ انہوں نے جب انکار کیا، تو ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بیٹیاں خودکشیاں نہیں کرتیں۔ پہلے ہمیں مار دیا جاتا ہے اور پھر لٹکادیا جاتا ہے۔
نوکوٹ میں تنگڑی برادری کی جانب سے راجپوت برادری کی دو کم عمر لڑکیوں کو اِغوا کرنے کے بعد اجتماعی زیادتی اور برہنہ حالت میں گشت کروانے کے شرم ناک واقعے کی گرد ابھی بیٹھی نہیں تھی کہ نواب شاہ میں ڈاکٹر پروین کا شرم ناک واقعہ سامنے آگیا ہے۔
سندھ کے تعلیمی اداروں میں ایسے شرم ناک واقعات سے تعلیمی ادارے نہ صرف اپنا تعلیمی معیار کھو چکے ہیں…… بلکہ سندھ کے تشخص کو بھی داغ دار کرچکے ہیں۔
ایک وہ دور تھا جب علامہ آئی آئی قاضی نبی بخش بلوچ جیسے اسکالر، شیخ ایاز جیسے انقلابی شاعر ہماری یونیورسٹیوں کے سربراہ تھے…… لیکن آج سندھ یونیورسٹی سے لے کر شاہ لطیف یونیورسٹی تک جو افراد ان اعلا تعلیمی اداروں کے سربراہ ہیں…… ان میں سے کئی نیب اور اینٹی کرپشن کو مطلوب ہیں۔
تعلیمی اداروں کے انتظامی اور اخلاقی معیار کے زوال پذیر ہونے کی بڑی وجہ تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر اعلا سطحی عہدوں پر افسران کا تعین ہے۔ ایسے زوال پذیر انتظامی اور اخلاقی سسٹم میں قوم کا مستقبل نایلہ رند، ڈاکٹر نمرتا اورنوشین کاظمی کی طرح موت کی شکل میں موت کے پھندے پر جھولتا رہے گا۔
سندھ کے دیگر انتظامی اداروں کی طرح بدقسمتی سے اعلا تعلیمی ادارے بھی انتظامی اور اخلاقی کرپشن کے جال میں قید پرندے کی طرح ہیں۔ اخلاقی کرپشن کے انسان نما گد قوم کی بیٹیوں پر اپنی ناپاک نگاہیں گاڑھے رکھتے ہیں…… اور موقع ملتے ہی ان کی عزت پر جھپٹ کر شکار کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ان بد کردار لوگوں کی وجہ سے ادارے زوال کی علامت بن چکے ہیں۔
امن و آتشی اور شاہ بھٹائی سچل سرمست جیسے صوفیائے کرام کی اس دھرتی کا یہ حال کیوں ہے…… اور کب تک رہے گا؟
یہ سوال مجھ سمیت ہر فرد حکمرانوں اور ذمہ داروں سے ان کا ضمیر جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پوچھ رہا ہے ۔



…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔