قارئین، 44 سالہ ادریس باچہ کا تعلق بریکوٹ سے ہے۔ تعلیم یافتہ اور روشن خیال ہے۔ سماجی کارکن ہے۔ جہاں بھی ظلم ہوتا ہے…… اُس کے خلاف سب سے آگے رہتا ہے۔ اپنے ملک اور لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ اکثر اپنی تقاریر میں کہتا ہے کہ سب لوگ اور ادارے آئینِ پاکستان پر من و عن عمل کریں۔
ادریس باچا نے خود بھی یہ حلف اٹھایا ہے کہ ’’مَیں صدقِ دل سے اللہ تعالا کو حاضر و ناظر جان کر حلف اُٹھاتا ہوں کہ میں خلوصِ نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی حمایت کروں گا، جو عوام کی خواہشات کا مظہر ہے!‘‘
ادریس باچا ان سب لوگوں سے جنہوں نے یہ حلف اٹھایا ہے، کہتا ہے کہ وہ اپنے حلف پر عمل پیرا رہیں۔
اس سماجی کارکن کی تعلیم سے اتنی محبت تھی کہ اس نے بریکوٹ میں ’’السید پبلک سکول‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بھی کھولا تھا۔
ادریس باچا ہر قسم دہشت گردی اور دہشت گردوں کا حقیقی مخالف ہے۔ سوات میں شورش کے دوران میں بھی اس نے دہشت گردوں کی مخالفت کی اور ان کے خلاف بولتے بھی رہے۔ شکر ہے کہ وہ دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ رہے۔ کراچی میں بے گناہ قتل ہونے والے نقیب اللہ کے دہشت گرد قاتل ایس پی راو انور کے خلاف بھی اس نے احتجاج کیا تھا۔ جہاں بھی پشتونوں یا کسی ذی روح پر ظلم ہوتا…… ادریس باچا نے ہم خیال ساتھیوں سمیت اس کے خلاف احتجا ج کیا۔
اب اگر باہر ممالک میں کوئی ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیتا، تو اس کو تمغۂ امتیاز یا شجاعت سے نوازا جاتا جیسا کہ پاکستان میں اداکارہ ’’مہوش حیات‘‘ اور دیگر لوگوں کو نوازا گیا ہے…… لیکن یہاں تو گنگا الٹی بہتی ہے۔
ادریس باچا کہ درجِ بالا خدمات کے نتیجے میں ریاست نے کن کن تمغوں سے اسے نوازا ہے، اُن میں کچھ تمغوں اور اعزازات کی بات کرتے ہیں:
ادریس باچا کی اہلیہ جو کارِ مسیحائی کرتی ہے۔ ہسپتال میں سرکاری نوکر ہے۔ ریاست نے پہلے اس کا تبادلہ ’’بلا وجہ‘‘ ہزارہ ڈویژن کیا…… جس کے بعد ادریس باچا نے اس کے خلاف عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کیا۔ اس کے بعد ریاست نے اس کی اہلیہ کی تنخواہ بلا وجہ بند کر دی۔ حالاں کہ وہ باقاعدگی سے ڈیوٹی پر جاتی ہے…… جس کے خلاف بھی ادریس باچا نے عدالت سے حکمِ امتناعی ہی حاصل کیا۔ اس کے بعد محکمۂ صحت کے کئی اداروں نے اس کے گھر پر چھاپے مارے کہ یہاں پر آپ لوگ غیر قانونی کلینک چلاتے ہیں۔ حالاں کہ ادریس کے گھر میں کوئی کلینک نہیں تھا۔
سوات میں غیر قانونی کلینک چلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے والے ادارے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ تمام غیر قانونی کلینک چلانے والوں سے ماہانہ بھتا وصول کرتے ہیں۔ اس لیے ہر گلی میں غیر قانونی کلینک خوب پھول پھل رہا ہے۔
شاید ریاست کا جی ابھی بھرا نہیں تھا، تو اس نے ادریس باچا کے سکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کو کہا کہ اپنے بچوں کو اس سکول سے نکال دیں۔ کیوں کہ سکول کا مالک ایک ’’غدار‘‘ ہے۔ یوں سکول سے والدین نے اپنے بچوں کو بھی نکال دیا۔ جب طلبہ کم ہوگئے، تو چار و ناچار ادریس باچا نے بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر سکول کا فرنیچر وغیرہ فروخت کردیا۔ حقیقت میں محب وطن ادریس ہے۔ اب بھی پاکستان کی آئین کی پاس داری کر رہا ہے۔ اتنے ظلم کے بعد بھی اس کے منھ پر حرفِ شکایت تک نہیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ گذشتہ روز خیبر پختون خوا حکومت کے محکمۂ ہوم اینڈ ٹرائبلز آفیئرز نے ادریس باچا کا نام دہشت گردوں کی لسٹ ’’شیڈول فور‘‘ میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے ’’سیکشن 11EE‘‘ کے تحت ڈال دیا۔ اس کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بنک اکاونٹ بند کردیا گیا۔ اب اس بے یار و مددگار کو محب وطن سے غدارِ وطن قرار دینے کے بعد اسے درجِ ذیل ریاستی ہدایات پر سختی سے عمل در آمد کرنا ہوگا۔ یہ حلفیہ بیان دینا ہوگا کہ ’’مَیں مسمی ادریس باچا، ریاستی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہوں گا۔
یہ کہ مَیں مسمی ادریس باچا بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر پبلک سیکورٹی اور مذہبی معاملات میں بد امنی پیدا کرنے والے امور میں ملوث نہیں ہوں گا۔
یہ کہ میرے پاس کسی دہشت گردی یا مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں کوئی اطلاع براہِ راست یا کسی ذریعے سے موصول ہوگی، تو اس کو متعلقہ انتظامیہ کو بتلانے کا ذمہ دار ہوں گا۔
یہ کہ مَیں کسی بھی وقت گھر چھوڑ کر کہیں بھی جاؤں گا، تو متعلقہ پولیس اسٹیشن کے انچارج سے پیشگی اجازت لوں گا…… اور آمد و رفت کے مقامات سے متعلق اور دورانِ قیام ملاقات کرنے والے اشخاص کے بارے میں مطلع کرنے کا پابند ہوں گا۔
یہ کہ مَیں درجِ ذیل مقامات میں کسی بھی مقام پر جانے سے پہلے متعلقہ آفیسر انچارج پولیس سٹیشن سے تحریری اجازت لوں گا:
٭ ایسے سکول، کالج اور دیگر ادارے جہاں 21 سال سے کم عمر مرد اور خواتین کو تعلیم یا تربیت دی جاتی ہو۔
٭ تھیٹر، سنیما، میلے، تفریحی پارک، ہوٹل، کلب، ریسٹورنٹ، چائے خانہ، عوامی تفریح یا تفریح کے کسی دوسرے مقام جانے پر پابندی ہوگی۔
٭ ائیر پورٹ، ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، ٹیلی فون ایکسچینج، ٹیلی وِژن، ریڈیو اسٹیشن اور دیگر ایسے مقامات جانے پر پابندی ہوگی۔
٭ پبلک یا پرائیویٹ پارک، کھیل کے میدان اور باغات میں بغیر اجازت جانے پر پابندی ہوگی۔
٭ کسی پبلک میٹنگ، جلسوں کا منظر دیکھنا، خواہ کسی بند جگہ یا دیگر کسی عوامی اہمیت کے فیسٹول اورتقریبات کے سلسلے میں منعقد ہو، میں بھی جانے پر بغیر اجازت پابندی ہوگی۔‘‘
قارئین، اب ریاست کے ان احکامات پر اگر ادریس باچہ عمل کرے گا، تو وہ 24 گھنٹے گھر میں قید رہے گا۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادریس باچا نے کون سی دہشت گردی کی ہے، وہ کس دہشت گرد تنظیم کا حصہ تھا، اس نے کتنے قتل کیے ہیں، کتنے بم دھماکے کیے ہیں،اس کے خلاف دہشت گردی کی کتنے ایف آئی آردرج ہیں اور کون کون سے پولیس سٹیشن میں درج ہیں؟ یقینا ان سوالات کا جواب نفی میں ہوگا۔ اس لیے کوئی تُک نہیں بنتی کہ ایک محب وطن پاکستانی شہری کا نام دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کرکے اس کو ذہنی طور پر مفلوج کیا جائے…… اور جو حقیقی دہشت گرد ہیں، وہ سوات میں سرِعام گھومیں پھریں۔ اس لیے خدا کا واسطہ ہے کہ مزید محب وطن پاکستانیوں کو زبردستی دہشت گرد نہ بنایا جائے۔ ادریس باچا اور اس جیسے دیگر شہریوں کے نام دہشت گردوں کی لسٹ سے نکال کر ان کو مزید اذیت نہ دیں…… اور ان کو اپنے وطن سے نفرت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ محب وطن شہری، ریاست کے اس بُرے رویے کی وجہ سے واقعی دہشت گرد نہ بن جائیں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔