4 دسمبر2019 ء کو شایع شدہ میرے کالم بعنوان ’’سوات کو دوسرا لاہور بنانا کہاں کی دانش مندی ہے؟‘‘ کو نئی ابھرتی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں 15 جنوری 2022ء کو روزنامہ آزادی میں مکرر کے طور پر شایع کیا گیا ہے جس میں وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے لاہور میں ماحولیاتی آلودگی اور اس حوالے سے حکومتی اقدامات پر لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کہ ’’لاہور میں گذشتہ 10 سال میں 70 فیصد درخت کاٹے گئے ہیں جس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہوا ہے‘‘ اور اس طرح اسلام آباد میں کلین اینڈ گرین انڈیکس پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اس بیان کہ’’جب لاہور میں ترقیاتی کام ہو رہے تھے، تو کسی نے نہیں سوچا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ پچھلے 10 برسوں کے اندر لاہور کے 70 فیصد درخت کاٹے گئے، اس کا نتیجہ تو آنا تھا۔ ‘‘ کے تناظر میں اور گذشتہ دنوں ایک دوسرے کالم بعنوان ’’سوات ایکسپریس وے یا سوات کی بربادی کا منصوبہ؟‘‘ میں سوات ایکسپریس وے کے سوات میں مجوزہ منصوبے کے چند پہلوؤں کے منفی عواقب کا تجزیہ موجود ہے۔ لہٰذا یہاں کوشش ہوگی کہ اس منصوبے کے "public interest” یا "public purpose” یعنی ’’عوامی مفاد‘‘ یا ’’عوامی مقصد‘‘ والے زاویہ یا نقطۂ نظر سے جایزہ لیا جائے۔
’’عوامی مفاد‘‘ یا ’’عوامی مقصد‘‘ والے پہلو کے نقطۂ نظر سے اسلام آباد اور پشاور میں پالیسی سازوں اور فیصلے کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سڑکوں کے حوالے سے سوات کی صورتِ حال صوبے کے دوسرے علاقوں سے بالکل مختلف ہے۔ چکدرہ سے مدین تک، جہاں پر ایکسپریس وے کے ’’فیزٹو‘‘ یا ’’دوسرے مرحلے‘‘ کا مجوزہ منصوبہ ہے، وادیِ سوات میں ایک نہیں بلکہ دو متوازی سڑکیں ہیں۔ ایک کا گزر دریائے سوات کے دائیں جانب کے علاقے سے ہوتا ہے اور دوسرے کا بائیں جانب کے علاقے سے۔ اور جیسا کہ مذکورہ بالا دونوں کالموں میں ذکر ہوا ہے…… ان دونوں سڑکوں کو چکدرہ سے مدین تک پہلے ہی سے لوگوں سے’’عوامی مفاد‘‘ یا ’’عوامی مقصد‘‘ کے نام پر ان کی تعمیرات اور دکانوں وغیرہ، حتیٰ کہ بعض جگہوں پر مساجد، کے کچھ حصے گروا کر کشادہ کیے گئے ہیں۔ جس چیز کی کمی رہ گئی ہے…… وہ بلیک ٹاپنگ یا تارکول والے حصوں کو چوڑا نہ کرنے کی ہے۔ اس ضمن میں مذکورہ بالا دونوں کالموں میں نشان دہی کی گئی ہے کہ اگر چکدرہ تا مدین وادیِ سوات کی دونوں جانب والی سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ یا تارکول والے حصوں کو چوڑا کیا جائے، تو کم خرچ بالا نشین کے مصداق ٹریفک کا مسئلہ بھی حل ہوگا، زرعی زمین بھی بچ جائے گی اور بڑے اخراجات یعنی قرضوں اور ان کے دور رس منفی عواقب اور اثرات سے بھی نجات مل جائے گی۔
جیسا کہ میرے پچھلے کالم میں تجویز کیا گیا ہے’’عوامی مفاد‘‘ یا ’’عوامی مقصد‘‘ کے لیے ٹریفک کے مسئلے کے حل کی خاطر سوات آنے والے سیاحوں کے لیے وادی کی ایک طرف والی سڑک کومختص کیا جائے اور واپس جانے والوں کے لیے وادی کی دوسری طرف والی سڑک کو۔ علاوہ ازیں ٹریفک کے مسئلے کے حل کے لیے دریائے سوات پر چند چند میل کے فاصلے پر (خاص کر کبل اور چارباغ کے مقامات پر) پُل تعمیر کیے جائیں، اس کی بدولت سوات کے باشندوں کو مختلف علاقوں میں جانے کے لیے طویل چکر کاٹنے سے نجات بھی مل جائے گی اور سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ بھی کم ہوجائے گا۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ سیاحت والے علاقے صرف مدین یا بحرین اور کالام کے آگے نہیں بلکہ اس سے پہلے سوات کے دوسرے علاقوں اور اطراف میں بھی ہیں۔ علاوہ ازیں سوات میں صرف موسمی سیاحتی علاقے اور مقامات نہیں بلکہ قدیم مذہبی مقامات بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات ہیں…… اور جو سب کے سب چکدرہ اور مدین کے بیچ والے علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ مقامات خاص کر مذہبی سیاحت کے حوالے سے بہت اہم ہیں…… لیکن موجودہ سوات ایکسپریس وے کی اس حوالے سے نہ کوئی اہمیت ہے اورنہ ان تاریخی مذہبی مقامات کے زائرین اور سیاحوں کے لیے کوئی فائدہ…… بلکہ اس کا ان کے لیے اُلٹا ایک مسئلہ اور دردِ سر بننے کا خدشہ ہے۔
جیسا کہ مشاہدہ ہے کہ موجودہ سڑکوں سے گزرتے ہوئے سیاح موسم کے لحاظ سے تازہ سواتی پھل اور سبزیاں وغیرہ بھی خرید کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس سے ایک طرف سیاحوں کو تازہ پھل وغیرہ ملتے ہیں اور دوسری طرف مختلف مقامات پر سڑک کنارے ان پھلوں اور سبزیوں وغیرہ فروخت کرنے والوں کو گھر کی دہلیز پر روزگار بھی میسر ہے۔
ان سڑکوں پر جگہ جگہ دوسری قسم کی مختلف اشیا بھی سیاحوں کے لیے دستیاب ہوتی ہیں، جن سے سیاح اور دکان دار دونوں مستفید ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ پٹرول پمپ اور گیس اسٹیشن بھی بڑی تعداد میں کھولے جاچکے ہیں…… اور ایسے ہوٹل اور ریسٹورنٹ بھی جہاں سیاح سستا بھی جاتے ہیں اور کھانے اور چائے وغیرہ کی ضروریات بھی پوری کرلیتے ہیں۔ یہ تمام کاروبار بہ طورِ عمومی بڑے سرمایہ کاروں کے نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والوں کے ہیں اورو ہی ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ ایکسپریس وے کے نتیجے میں یہ پورا ڈھانچا تباہ ہوجائے گا اور کاروبار بھی متاثر ہوگا، جو کہ’’ عوامی مفاد‘‘ میں نہیں۔
اس ایکسپریس وے کے نتیجے میں مینگورہ کا کاروبار بھی متاثر ہوگا جن کے ہوٹلوں کے مالکان اور دکان دار بہ حیثیت مجموعی بڑے سرمایہ کاروں میں سے نہیں بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں میں سے ہیں۔ جب کہ ملم جبہ، کالام اور دوسرے سیاحتی مقامات کے ہوٹلوں کے مالکان بہ حیثیت مجموعی سوات کے نہیں بلکہ باہر کے سرمایہ کار ہیں۔ ان کی آمدنی سوات سے باہر ہی جاتی ہے اور اس طرح بہ حیثیت مجموعی اس کا سوات کو کوئی فائدہ نہیں۔
مذکورہ بالا اور اس طرح کی کئی دوسری باتوں اور جہتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے چکدرہ تا مدین سوات ایکسپریس وے کسی طور بھی’’ عوامی مفاد‘‘میں نہیں۔ نہ اس کے دوررس منفی ماحولیاتی اثرات کے وجہ سے، نہ تجارتی اور کاروباری نقطۂ نظر سے، اور نہ زرعی زمینوں کے کمرشل ڈیولپمنٹ اور استعمال کے حوالے سے جو کہ’’ خیبر پختونخوا پروٹیکشن آف ایگریکلچرل لینڈز ایکٹ، 2021ء‘‘ کے اغراض و مقاصد اور روح کے بھی منافی ہے۔
لہٰذا ایسے منصوبے کے لیے "Land Acquisition Act, 1894” (لینڈ ایکویزیشن ایکٹ، 1894ء) کے سیکشن 4 کے تحت زمینوں کا ان کے مالکان سے "needed for any public purpose” (یعنی کسی بھی عوامی مقصد کے لیے درکار) کے الفاظ کے تحت ان کی رضا مندی کے بغیر زبردستی لینا بھی نہ ٹھیک ہے،اور نہ’’ عوامی مفاد‘‘ اور ’’عوامی مقصد‘‘ کے لیے ہی ہے۔
پس سوات ایکسپریس وے کے ’’فیز ٹو‘‘ کی بہ جائے’’عوامی مقصد‘‘ کی خاطر ’’عوامی مفاد‘‘ میں درجہ بالا مجوزہ دوسرے آپشنز کو اپنانا ناگزیر ہے، جو کہ مسئلے کا معقول حل بھی ہے اور کم خرچ بالانشیں کے مصداق بھی۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔