64 total views, 3 views today

کالم لکھنے بیٹھ گیا تو خبر آئی کہ پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بینچ نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ موخر کردیا ہے۔
اب جلد یا بہ دیر لیکن الیکشن کا انعقاد تو ہوگا…… لیکن مختلف پارٹیاں امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینے میں ابھی سے مصروف ہیں۔ خیبر پختون خوا حکومت نے تو بہت کوشش کی کہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں، مگر عدالتی حکم پر چار و ناچار جماعتی بنیادوں پر ان انتخابات کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوچکا ہے…… جس میں حکم ران پارٹی مجموعی طور پر تیسری نمبر پر رہی ہے۔
اب دوسرا اور آخری مرحلہ ہونے کو ہے، تو بھی برسرِ اقتدار پارٹی کو نفسیاتی شکست کا سامنا ہے۔ آج ہی تحریک انصاف کے ایک پرانے ورکر سے سرِراہ ملاقات ہوئی، تو وہ خود کہنے لگا کہ ’’دیگر باتیں تو ایک طرف…… مگر ہمارا مقابلہ مہنگائی کے یساتھ ہے!‘‘
یہ حقیقت بھی ہے کہ مہنگائی کا جن واقعی بوتل سے باہر آچکا ہے۔ خود وزیرِ اعظم بھی کہہ رہے کہ انہیں مہنگائی کا احساس ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک اس بدترین مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اقدامات واضح طور پر نظر نہیں آرہے۔
مہنگائی میں شدت بجلی کے بِلوں نے بھی پیدا کی ہے۔ گاؤں میں اس مہینے بجلی کا ایک بِل دیکھنے کو ملا……جس میں کُل صرف شدہ یونٹس کی قیمت 220 روپے تھی…… جب کہ ’’فیول پرایس ایڈجسٹمنٹ‘‘ کے نام پر لیا جانے والا بھتا 850 روپے تھا۔ یوں مجموعی طور پر 1070 روپے دینے پڑے۔ حالاں کہ ہمارے صوبے میں 4 ہزار سے زاید میگاواٹ سستی پن بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ پھر بھی ’’فیول پرایس ایڈجسٹمنٹ‘‘ کے نام پر بھتا لیا جا رہا ہے۔ اس کے بارے میں نہ کبھی ہمارے معزز وزیرِ اعلا صاحب نے وفاق سے شکوہ کیا اور نہ سوات سے تعلق رکھنے والے اُس ’’وفاقی وزیر‘‘ نے احتجاج ہی کیا…… جس نے کبھی آئی ایم ایف کے منھ پر 200 ارب روپے مارنے کا شوشا چھوڑا تھا۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکم ران پارٹی کا واقعی مقابلہ صرف ’’مہنگائی‘‘ سے ہے…… لیکن اپوزیشن کا دامن بھی کچھ اتنا صاف نہیں کہ نچوڑیں تو فرشتے وضو کرلیں؟
اب ابھی سینٹ میں پورے پاکستان نے دیکھ لیا۔ جب سٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش ہوا، تو آسانی کے ساتھ پاس ہوگیا۔ اگرچہ سینٹ میں حکومت اقلیت اور اپوزیشن اکثریت میں ہے…… لیکن باوجود اس کے کہ اپوزیشن تواتر سے عوام کو یہ بتاتی رہی کہ یہ بِل سٹیٹ بینک کو بیچنے کا سودا ہے۔ اگر یہ پاس ہوگیا، تو قومی بینک براہِ راست آئی ایم ایف کی نگرانی میں چلا جائے گا۔ ملکی مالیاتی خود مختاری ختم ہوجائے گی وغیرہ وغیرہ……. لیکن جب بِل پر ووٹنگ کا دن آیا، تو ایوانِ بالا میں اپوزیشن لیڈر جو اسپیکر اور ملک کے وزیرِ اعظم بھی رہے ہیں…… دیگر سمیت غیر حاضر رہے۔ یوں آسانی سے حکومت نے ترمیمی بِل پاس کیا۔ اب اپوزیشن ’’سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹو‘‘ والی صورتِ حال سے دوچار ہے۔
ذاتی حیثیت میں مجھے اپوزیشن کا یہ رویہ حیران کن نہیں لگا۔ کیوں کہ یہ عین ’’پاکستانی سیاست‘‘ ہے…… جس میں نظریات، اصول اور نعرے فقط عوام کو گم راہ کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ہرپارٹی مقتدر حلقوں سے ساز باز میں مصروف رہتی ہے…… تاکہ اسے حکومت مل جائے…… اور اصل قوتوں کے ساتھ مل کر قومی خزانے کا ستیا ناس کرے۔
بجلی کے یہ مہنگے ترین معاہدے جس نے ملکی معیشت کو جھکڑ کر رکھا ہے…… کیا یہ خلا میں ہوئے تھے؟ کیا قومی سلامتی کے ادارے بے خبر تھے؟ ایسا تو ممکن نہیں…… البتہ ایسا قوی امکان ہے کہ مبینہ طور پر ہر طاقت ور نے اپنا حصہ بہ قدرِ جثہ وصول کیا ہے…. اور بوجھ اب عام لوگ اٹھا رہے ہیں۔
قارئین، تحریر کے آغاز میں ہم بات کر رہے تھے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی، جس کا ہونا قریب ہے…… مگر سوشل میڈیا اور گلی محلوں میں ابھی سے ماحول بنا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس لیے گزارش یہی ہے کہ سیاست کریں۔ کیوں کہ یہی جمہوریت ہے…… مگر پارٹی، نعرے، نظریے اور لیڈر کے لیے کبھی سینوں میں کدورت کو جگہ نہ دیں۔ اختلاف رائے کو برداشت کیا کریں۔ کیوں کہ ابھی سینٹ ہی میں ہم نے دیکھ لیا کہ کیا اپوزیشن اور کیا حکومت…… جب ان کے مفادات ہوتے ہیں، تو سب کے سب ایک ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ورکرز کسی بھی پارٹی کے ہوں، وہ بھی حوصلہ رکھیں۔ برداشت کیا کریں۔ بغض اور دشمنی سے پرہیز کریں۔ کیوں کہ مقامی انتخابات میں پارٹی اور نظریات سے زیادہ اثر خاندان، رشتوں اور محلے داری کا ہوتا ہے۔
لہٰذا سیاست ہوتی رہے گی…… بس رشتوں کو بچائیں اور دلوں سے کدورت دور کریں۔ سیاسی اختلاف اصل معنوں میں جمہوریت کا حسن ہے۔ یہ بات سمجھنے کی کوشش کریں۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔