افلاطون کے مطابق ’’نام نہاد انصاف بدترین انصاف ہے۔‘‘
افلاطون کا یہ قول ہمارے عدالتی نظام کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ کمیشن برائے قانون و انصاف پاکستان کے مطابق ملک بھر میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 2.15 ملین سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان میں سے 390,713 مقدمات اعلا عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔
انصاف کی فراہمی میں دیر کا مطلب انصاف مہیا کرنے سے انکار کے مترادف ہے۔ ہم نام نہاد انصاف کے نام پر معصوموں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیتے، جیلوں میں بند کر دیتے اور مجرمین کو بری کر دیتے ہیں۔
ملک میں انصاف کی عدم دستیابی کے برعکس سپریم اور ہائی کورٹ کے تقریبا 134 جج صاحبان عوامی ٹیکسوں سے ماہانہ 159 ملین روپے تنخواہوں کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شیفر کاریں، 500 لیٹر پٹرول 65,000 سے زاید رہایشی کرایہ، تعلیم مفت، علاج مفت، سفر مفت، بلوں کی ادائی سے استثنا، فون مفت، پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں، یومیہ الاؤنس، مہنگائی الاؤنس، مہمان الاؤنس اور دیگر مراعات تنخواہ کے علاوہ ہیں۔
قارئین، یہ سب پیسہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے غریبوں کے خون پسینے کی کمائی سے جاتا ہے اور غریب انصاف کے لیے ترستاہے۔
سپریم کورٹ کا ہر جج ماہانہ 799,699 سے زیادہ رقم تنخواہ کے طور پر وصول کر تا ہے۔ 370,597 سپیریئر جوڈیشل الاؤنس اور قیام گاہ کے کرائے کی مد میں وصول کر تا ہے۔ اس طرح ہر جج 1.7 ملین روپے وصول کر تا ہے اور اس میں رہایش کا کرایہ شامل نہیں۔
اعلا عدلیہ کے ججوں کی کل تنخواہ اور جوڈیشل الاؤنسز ملا کر رقم 17.5 ملین ماہانہ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اگر اس رقم میں چیف جسٹس کی تنخواہ شامل کرلی جائے تو یہ رقم 18.71 ملین سے تجاوز کر جاتی ہے۔
پاکستان میں اعلا عدلیہ کے جج تنخواہوں کی مد میں سالانہ 8.9 ملین روپے وصول کرتے ہیں۔ ان بھاری تنخواہوں کے علاوہ 15 فی صد میڈیکل الاؤنس، دو شیفر کاریں،600 لیٹر پٹرول، 5000 سے زیادہ یومیہ الاؤنس، ٹکٹوں پر رعایت، بلوں سے استثنا، تعلیم، فون اور دیگر مراعات اور سہولیات شامل ہیں۔
پنجاب کے اعلا جج عوامی ٹیکسوں سے ماہانہ 1.05 ملین روپے وصول کر تے ہیں۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ 784,608 سے زیادہ ماہانہ تنخواہ، 296,477 روپے سپریم جوڈیشل الاؤنس، 65,000 رہایشی کرایہ کے علاوہ دیگر متذکرہ مراعات اور سہولیات سے بھی مستفید ہوتے ہیں۔
پاکستان کے پانچ چیف جسٹس صاحبان اور گلگت بلتستان کے چیف جسٹس ماہانہ 6.48 ملین روپے وصول کر تے ہیں۔
اس طرح ہائی کورٹ کے جج صاحبان 754,432 روپے ماہانہ تنخواہ جب کہ 296,477 روپے سپریم جوڈیشل الاؤنس کی مد میں وصول کرنے کے علاہ رہایشی کرائے کی مد میں بھاری رقم وصول کر تے ہیں۔
ملک بھر میں ہائی کورٹ کے تقریباً 128 جج ہیں اور ان کی مجموعی ماہانہ تنخواہ کا حجم 134 ملین سے تجاوز کر جاتا ہے۔
قارئین، غریب پیٹ پہ پتھر باندھ کر انصاف کی فراہمی کے لیے یہ بھاری رقوم ٹیکسوں کی مد میں دیتا ہے…… مگر ہمارا عدالتی نظام اتنا خراب ہوچکا ہے کہ ہم عدالت سے انصاف کی امید لگانے کی بجائے روزِ محشر حساب لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہمارے ملک میں موجود عدالتی نظام، ظالمانہ اور استحصالی ہے۔ سرکاری اور سول بیورو کریسی اس عدالتی بدانتظامی کی ذمہ دار ہے۔ یہ وقت کی عین ضرورت ہے کہ غریب کا استحصال ختم کیا جائے۔ ایک ایسا ملک جہاں 25.3 فی صد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہوں، جن کی ماہانہ آمدن 3030 روپے ہواور وہ انصاف کے لیے اتنی بھاری رقوم ادا کرنے کے باوجود انصاف سے محروم رہیں، تو اس سے بڑا المیہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کی سول سروس میں گریڈ 22 کا افسرماہانہ تقریباً300,000 بنیادی تنخواہ، الاؤنس اور دیگر مراعات لیتا ہے…… جو عام آدمی کی ماہانہ اوسط آمدن 16400 سے کئی گناہ زیادہ ہے۔
ہائی کورٹ او ر سپریم کورٹ کے ایک جج کی کل ماہانہ تنخواہ، الاؤنس اور مراعات عام آدمی کی ماہانہ آمدن سے 80 تا 100گنا زیادہ ہے۔
اس طرح اگر ہم پاکستان کا موازنہ امریکہ کے سپریم کورٹ کے ججوں سے کریں، تو امریکی سپریم کورٹ کا جج 244000 امریکی ڈالر وصول کرتا ہے…… جو عام امریکی کی ماہانہ آمدنی سے محض4 گنا زیادہ ہے۔ اس طرح مغربی ممالک میں لوگ انصاف کے لیے روزِ محشر کی بجائے عدالت سے لینے کی بات کر تے ہیں۔
پاکستان میں اشرافیہ، غریبوں کے پیسوں پر اپنے آپ کو امیر سے امیر تر کرتی جا رہی ہے…… جب کہ غریب روز بروز غریب سے غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ملک کے پوش علاقوں میں قومی ملکیتی زمینیں اونے پونے داموں اشرافیہ میں تقسیم کی جاتی ہیں…… اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اشرافیہ کس بے دردی سے قومی اثاثہ جات کی بندر بانٹ میں مگن ہے۔
’’ریاستِ مدینہ‘‘ میں توغریبوں کی ضروریات پوری کی جاتی تھیں…… جب کہ یہاں غریب کو امیر کی قربان گاہ پر ذبح کیا جا رہا ہے۔
قومی اراضی سے ملک کے پوش علاقے میں ایک کنال کا پلاٹ اشرافیہ اور بیوروکریسی کو الاٹ کرنے کا مطلب ہے گویا غریب آدمی کی جیب سے تقریباً 20 ملین ہتھیا لیے جائیں۔
قانون کی من پسند چھتری کے نیچے ان غیر قانونی اقدامات کو قانونی تحفظ مہیا کیا گیا ہے۔ منتخب یا غیر منتخب حکومتیں اس ناسور کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں…… بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس کی آبیاری بھی ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر کی جاتی ہے۔ کوئی بھی دلیل، ناانصافی کودرست ثابت نہیں کرسکتی۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں انصاف زبانی جمع خرچ اور دعوؤں تک محدود ہے۔ مقتدرہ کو چاہیے کہ وہ عدالتی ریفارمز کے لیے ٹھوس اقدامات کرے…… تاکہ لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد بحال ہو…… اور عام آدمی کے خون پسینے کی کمائی کے ٹیکسوں کے پیسوں کے بدلے انصاف ملے…… اور لوگ اپنا حق لینے کے لیے قیامت کا انتظار نہ کریں۔
وما علینا الا البلاغ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔