ابھی چند ہفتے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت ہوئی تھی۔ ویسے تو اس عدالت کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ ججوں کی بحالی تحریک کے قایدین میں شامل تھے اور جب سے جج بنے ہیں، عدلیہ کی آزادی کی جنگ اپنے فیصلوں کے ذریعے لڑ رہے ہیں۔ گم شدہ افراد کا مسئلہ ہو، اسلام آباد چڑیا گھر میں جانوروں کی دیکھ بھال کا المیہ ہو…… یا اب مبینہ بیانِ حلفی کیس میں سابق چیف گلگت بلتستان کورٹ رانا شمیم پر توہینِ عدالت کیس کا فردِ جرم عاید کرنا ہو، مطلب مجموعی طور پر جسٹس اطہر ایک دبنگ منصف بن کر نظر آ رہے ہیں…… مگر مذکورہ ان تمام کیسوں سے زیادہ اہم اور حساس فیصلے جسٹس اطہر نے ایسے کیے ہیں…… جو آنے والی نسلوں کے ساتھ خیر خواہی ہیں۔ ان میں سے ایک فیصلہ وزارتِ دفاع کے ماتحت اداروں کے خلاف تھا، جنہوں نے روال جھیل کے کنارے ’’سیلنگ کلب‘‘ اور مارگلہ کے پہاڑوں پر ایک مشہور ’’ریسٹورنٹ‘‘ قایم کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ’’مارگلہ نیشنل پارک بحالی کیس‘‘ میں مذکورہ دونوں مقامات کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ساتھ میں تجاوزات قایم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔
تازہ ترین معلومات کے مطابق دونوں ادارے سیل ہوچکے ہیں۔ بظاہر تو یہ معمولی واقعہ ہے…… مگر جن اداروں نے یہ تجاوزات کیے تھے، ان کے نام ہم کالم میں نہیں لکھ سکتے، تو ان کے خلاف فیصلہ دینا اور پھر اسے عملی کرنا واقعی خلافِ معمول ہے…… خاص کر پاکستان میں۔ کیوں کہ یہاں کچھ ادارے ایسے ضرور ہیں…… جو حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر ہر قانون و ضابطے سے خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔
بہرحال اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ مستحسن فیصلہ مجھے اس لیے یاد آیا کہ گذشتہ ہفتے جمعہ کو میں بونیر گیا تھا۔ ضلع بونیر سابقہ ریاستِ سوات کا اہم حصہ رہا ہے۔ چاروں طرف سے بلند پہاڑوں میں گھرا یہ علاقہ ملاکنڈ ڈویژن میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ سوات، دیر، ملاکنڈ وغیرہ سے بونیر تک جانے کا آسان راستہ بریکوٹ والا ہے جس میں ’’کڑاکڑ‘‘ کے مشہورِ زمانہ پہاڑ میں بنی پختہ سڑک پر جاتے وقت واقعی انسان کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ جاتی ہے۔ جب کہ دوسری بڑی شاہراہ رستم (مردان) اور صوابی والی ہے۔ ’’سوات ایکسپریس وے‘‘ سے بھی بونیر بذریعہ کاٹلنگ اور پلئی انٹرچینج ’’کنیکٹ‘‘ ہوچکا ہے، مگر اس کے لیے بھی خم دار پہاڑی راستوں سے گزرنا ہوگا۔
کڑاکڑ کے علاوہ اس ضلع کی ایک اور اہم چوٹی کا نام ’’ایلم‘‘ ہے، جس کا آدھا حصہ سوات میں ہے۔ بونیر میں مشہور ولی ’’پیر بابا‘‘ کا مزار بھی ہے جو مرجع خلایق ہے۔ یہاں کے رہنے والوں کی پہچان اور شناخت عالم گیر ہے۔
بونیر میں اگر ہم کہیں راستہ بھول جاتے اور کسی راہ گیر سے پوچھ لیتے، تو خوش اخلاقی سے نہ صرف ہمیں مکمل تفصیل کے ساتھ راستے کا بتاتے…… بلکہ چائے پلانے کی پُرخلوص دعوت بھی دے جاتے۔ یہاں کے لوگوں کی نیک خصلتی پر درجنوں صفحے سیاہ ہوسکتے ہیں…… لیکن آج میرا مدعا لوگوں کے اوصاف بیان کرنا نہیں بلکہ اس ضلع کے پہاڑوں کا نوحہ بیان کرنا ہے۔
قدرت کے شاہکار یہ فلک بوس پہاڑ مصورِ کاینات کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ زمین پر میخوں کی طرح مضبوطی سے لگائے گئے ہیں…… جن پر ایستاہ درخت ثنائے رحمان میں مصروف ہیں۔ ان پہاڑوں سے گاہے بہ گاہے صاف، شفاف پانی کے چشمے نکل رہے ہیں…… لیکن بونیر میں ان پہاڑوں کے چہرے بدنما ہوچکے ہیں۔ کوئی پہاڑ سلامت نہیں۔ ہرچوٹی کا سینہ ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی خوب صورت شخص کا آگ سے جھلسا ہوا چہرہ۔ ان پہاڑوں کے آنسو یہاں کے ندی نالوں میں بہہ رہے ہیں جو بالکل دودھ جیسے نظر آ رہے ہیں۔ پہاڑوں کی کرشنگ جاری ہے جس سے سنگِ مرمر کے ’’دیدہ زیب‘‘ ٹکڑے بنائے جا رہے ہیں۔ یہاں دیگر علاقوں تک ٹرکوں کے ذریعے بھاری پتھر منتقل کیے جارہے ہیں، جن سے کئی بار مقامی لوگوں کا جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ میرے صحافی دوستوں اور کالم نگار بھائیوں شبیر بونیری اور عزیز بونیری سمیت کئی ایک لوگوں نے ان پہاڑوں کے ساتھ جاری اس ظلم پر آواز اٹھائی ہے…… لیکن یہ ’’مافیا‘‘ سرکاری ملی بھگت کے ساتھ مکمل آزاد اور فعال ہے۔
کاش! پشاور ہائی کورٹ میں کوئی جسٹس اطہر من اللہ ہوتا جو بونیر کے پہاڑوں پر کرشنگ کو ناجایز قرار دے کر یہ مکروہ فعل روک لیتا۔ کاش! بونیر، اسلام آباد میں ہوتا جہاں ’’مارگلہ نیشنل پارک‘‘ کے ضمن میں محفوظ ہوجاتا۔ کاش! بونیر کے عوام اُٹھ جائیں اور اس مافیا کو نکیل ڈالیں۔ کیوں کہ یہ مافیا صرف پہاڑوں کا قاتل نہیں، بلکہ یہاں کی آنے والی نسلوں کا دشمن ہے۔ کاش اے کاش……! لیکن مَیں نے ارادہ کرلیا ہے کہ اگر یہ عمل جاری رہا، تو آیندہ میرا بونیر جانا مشکل ہے، کیوں کہ یہ ظلم کم از کم مجھ سے تو نہیں دیکھا جاتا۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔