مَیں نے کہیں پہلے بھی لکھا ہے کہ آج کل پڑھنے کا رواج سوشل میڈیا نے ختم کر دیا ہے۔ اب کتب و اخبار بینی بہت محدود ہوکر رہ گئی ہے، لیکن ہم جیسے لوگوں نے بہرحال اپنی اوقات میں جو ممکن ہو، وہ کرنا تو ہوتا ہے۔ میرا یہ ذاتی مشاہدہ ہے کہ میری تحاریر خواہ وہ سوشل میڈیا پر ہوں یا اخبار کی زینت بنیں…… زیادہ تر دوست تنقید شدید کرتے ہیں۔ خاص کر میرے تحریکِ انصاف کے جذباتی نوجوان پڑھ کر اول کچھ نا مناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ میں ’’لفافہ‘‘ ہوں۔ خواہ مخواہ مجھے حزبِ اختلاف خصوصاً ’’ن لیگ‘‘ کہ جس کا میں ناقدِ کُلی ہوں، کا ’’لفافہ‘‘ قرار دیتے ہیں اور پھر یہ طنز کرتے ہیں کہ میری تحریر تو کوئی پڑھتا ہی نہیں۔
بہرحال کچھ دوست میری تعریف بھی کرتے ہیں۔ چند ایک تقریباً میرے فین بن چکے ہیں۔ جن میں سے دو بہت ہی خوب صورت انداز میں مجھ جیسے جاہل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ایک شاہ نذیر نامی دوست جو سوات کے رہنے والے ہیں، اکثر وبیشتر مجھے فون کرتے رہتے ہیں اور ایک ہماری قابل احترام راولپنڈی کی باجی نسرین۔
آج ہم نے کالم کا موضوع نسرین باجی کے ایک واٹس اَپ پیغام سے لیا ہے۔ باجی نسرین ایک سابقہ سکول ٹیچر ہیں۔ سماج کے حوالے سے معاشرے کی بہتری کے لیے دردِ دل رکھتی ہیں۔ گو کہ عمر کی زیادتی اور بیماریوں کی وجہ سے وہ اب جسمانی طور پر کوئی فعال کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، لیکن وہ اکثر انتہائی قیمتی مشورے دینا ضروری سمجھتی ہیں…… اور میں جب بھی ان کا کوئی واٹس اپ پیغام ہو، بہ ہر صورت لازمی سننے کی کوشش کرتا ہوں۔ باجی نسرین کے ایک ایک لفظ میں قوم اور انسانیت کا درد ہوتا ہے اور محب الوطن شخصیت کی بے چینی کا مظہر۔ انہوں نے میرا کالم ’’چودھری پرویز اور سانحۂ مری‘‘ بارے پڑھا اور حسبِ توقع اس پر بہت بلیغ اور خوب صورت تبصرہ کیا۔ ان کے تبصرے میں ایک بات انہوں نے بہت غم سے کہی کہ ’’یہاں ملک کا مطلب کیا…… جو بھی ہے سارا کھا۔‘‘
ویسے باجی نسرین کا یہ طنز آج کل اکثر ملک کی باشعور شخصیات کا واحد تبصرہ ہے۔ باجی نسرین کبھی بھٹو صاحب اور بی بی کی فین تھیں پھر وقت آیا اور وہ تبدیلی کی لہر میں بہہ گئی۔ بہت جذباتی انداز میں وہ عمران خان کی وکالت کرتی تھیں…… مگر اب وہ بھی دوسرے لاکھوں لوگوں کی طرح شدید مایوس ہیں۔ یہی مایوسی ان کو بھی سب سے مایوس کر گئی ہے اور وہ یہ مکمل دیانت داری سے سمجھتی ہیں کہ یہاں سب ہی چور ہیں…… مطلب عمران خان سمیت۔ بہرحال میں نے جب سے باجی نسرین کا پیغام سنا، تب سے میں صرف ایک ہی بات سوچ رہا ہوں کہ ہمارے طاقت ور حلقے خواہ وہ سیاست دان ہوں، سول یا فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے سینے میں دل ہے…… یا کچھ اور! کیا کبھی ان کو یہ خیال آیا کہ اس نعرے کی بنیاد یا شروعات ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اﷲ‘‘ تھا۔ پھر یہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، ایوب کی ذاتی آماج گاہ‘‘ بنا۔ پھر ’’پاکستان کا مطلب کیا، اوپر اﷲ تھلے (نیچے) ضیا‘‘ بنا۔ پھر ’’پاکستان کا مطلب کیا، ہر سمیت ہے مشرف پیا (پڑا ہوا)‘‘ بنا۔ لیکن سول حکومتوں بارے کسی نہ کسی حد تک عوام میں نرم گوشہ رہا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ عوام کو جمہوری حکومتوں کا کوئی متبادل نظر آتا تھا…… جب کہ آمرانہ دور کا متبادل نہیں…… لیکن آپ یقین کریں کہ جب سے تحریکِ انصاف کی حکومت آئی ہے، تب سے عوام کے اندر آمرانہ اور سول دونوں طرح کی حکومتوں بارے بد اعتمادی اور نفرت بن رہی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوکہ عمران خان کو مقبول کروانے سے پہلے ایک بہت ہی منظم اور بھرپور مہم مخالفین بارے چلائی گئی۔ عمران خان کے جتنے سیاسی مخالفین تھے…… سب کے سب ڈاکو، قاتل اور چور بنائے گئے۔ عمران خان کو کردار کشی کا اوپن اجازت نامہ دیا گیا۔ تمام میڈیا کا مرکز خان صاحب کی تقریروں کا محور بنا۔ الغرض عوام کے دماغوں میں یہ بات پختہ کر دی گئی کہ ما سوائے عمران خان کے سب چور ہیں، سب غدار اور ڈاکو ہیں…… مگر جب کھینچ تان کے عمران خان کو وز یراعظم بنوا دیا گیا، تو اب دو مسایل پیدا ہوگئے۔ ایک تو خان صاحب کی حکومت جوڑ جاڑ کر بنائی گئی۔ وہی ق لیگ، وہی سندھ کے قوم پرست، وہی ایم کیو ایم وہی باپ…… یعنی جن کو خان صاحب کے منھ سے غدار قاتل کہلایا گیا، پھر وہی تبدیلی سرکار کے وزراو مشیر بنے۔
دوسری بات، کچھ داخلی و بین الاقوامی مسایل پیدا ہوگئے معیشت و سفارت کے حوالے سے۔ مثلاً کرونا اور افغانستان پر طالبان کا قبضہ۔ جس کی وجہ سے ملک کی معیشت بہت کم زور ہوئی۔ مہنگائی اور بے روگاری کا ایک منھ زور سونامی آگیا۔ اوپر سے گڈگورننس کے حوالے سے شاید یہ حکومت تاریخ کی کم زور ترین اور نااہل ترین حکومت ثابت ہوئی۔ کسی ایک شعبہ میں بھی اس حکومت کی کارگردگی قابلِ ذکر تو دور…… گزارہ لایق بھی نہ رہی۔ ہر طرف نا اہلیت کا منھ زور گھوڑا دوڑ رہا ہے۔ سرکاری دفاتر میں اب رشوت چھپ چھپا کر نہیں طلب کی جاتی…… بلکہ اب تو منت بھی نہیں کی جاتی، صاف صاف دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر پیسا دینا ہے، تو خیر وگرنہ آپ کا کام کرنا تو دور بلکہ اس کو مزید خراب کر دیا جائے گا۔
آئے دن سوشل میڈیا پر وفاقی و صوبائی وزرا کے کارناموں کی فہرست آتی رہتی ہے۔ پھر کابینہ کی آپس کی چپقلش حتی کے کچھ وزرا و ارکان اسمبلی کی براہِ راست وزیراعظم پر تنقید میڈیا کی زینت بن چکی ہے۔
قارئین، یقین کریں اس وقت باجی نسرین کی یہ بات کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، جتھے ملے سب کج کھا‘‘ یعنی پاکستان کا مطلب کیا جہاں سے ملے سب کچھ ہڑپ کر جاؤ، کی عملی تصویر بن چکا ہے۔مجھے اب یقینِ محکم ہوچکا ہے کہ عمران خان کو حکومت میں نہ صرف اس سوچ سے لایا گیا کہ سیاست دانوں کو مکمل خراب کر دیا جائے، بلکہ مستقبل میں کسی بھی جمہوری حکومت سے عوام کی توقعات کو ختم کر دیا جائے۔ اس کا براہِ راست فایدہ ان مفاد پرست طاقت ور حلقوں کو ہوگا جو ہمیشہ ہی سے سطانی جمہور سے خوف زدہ ہیں۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ جب پاکستان کے مخصوص حالات میں سیاسی طاقت کی بات ہو، تو طاقت ور حلقوں سے مراد فوجی اسٹیبلشمنٹ لی جاتی ہے…… لیکن یہ بات کلی نہیں بلکہ جزوی طور پر صحیح ہے…… جب کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کچھ دوسرے عناصر بھی اس میں شامل ہیں۔ جن میں سے مضبوط ترین بزنس ٹائی کونز ہیں۔ پھر میڈیا میں بیٹھے ہوئے وہ بلیک میلر کہ جن کے لیے صحیح جمہوری حکومت سے معاملات طے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور تاریخ میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ہمارے ملک میں مین سٹریم میڈیا کے مالکان آمرانہ دور میں بہت مطمئن رہتے ہیں لیکن ہر جمہوری دور میں ان کی پریشانی زیادہ ہوتی ہے۔
پھر معذرت کے ساتھ ہماری عدلیہ بھی بہرحال ایک فریق ہے اس میں۔ سول بیورو کریسی کے لیے ہمیشہ آمریت پُرسکون رہتی ہے۔ ان کی روز پیشگی اور شوکاز نوٹس نہیں ہوتے۔ مزید جرنیل بھی بہرحال سب سے مستفید بھی ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ طاقت ور بھی۔ سو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس صورتِ حال کا جایزہ سب سے پہلے تو سیاسی جماعتوں کو لینا چاہیے اور ان کو ہر وقت گیٹ نمبر چار کی انٹری یا میڈیا کے سیٹھوں کی چاپلوسی کی بجائے ایک سی اُو ڈی طرز کا معاہدہ کچھ محدود نِکات پر وسیع پیمانے پر کرنا چاہیے کہ وہ اب کسی طاقت ور سے بارگینگ نہیں کریں گے۔ دوم، ہماری سول سوسایٹی کو اس پر کوئی مؤثر لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔ خاص کر ہمارے وکلا کی تنظیموں کو قیادت کرنا ہوگی۔ پھر وہ این جی اُوز اساتذہ دانشوروں مختلف ’’تھنک ٹینک‘‘ حتی کہ شاعروں اور فنکاروں، علما کی تنظیموں کو ساتھ ملا کر ایک فریم ورک تشکیل دے کر نہ صرف عام عوام کو اس بارے شعور دیں…… بلکہ فوجی بارکس میں موجود جوانوں، عدالت کے جونیئر جج اور ملازمین ورکنگ صحافیوں اور چھوٹے سرکاری ملازمین تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ہماری ترقی کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے صحیح صاف اور مکمل جمہوریت…… جس کا بنیادی مقصد محض صاف شفاف الیکشن نہیں بلکہ عوام و ملک واسطے ڈیلیورنس ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب اختیارات کا مرکز اور طاقت کا سرچشمہ ’’عوام‘‘ ہوں گے۔ اس کے لیے غیر ضروری حب الوطنی یا دین کے نام پر آئین کی خلاف ورزی بحیثیتِ مجموعی تمام معاشرے کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔ کیوں کہ جب تک ساری قوم اس پر متفق نہ ہوگی، تب تک محض خالی تقریروں اور تحریروں سے یہ معمولی سے مفاد پرست عناصر صحیح راہ پر آجائیں، مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اور پھر ان شاء اﷲ باجی نسرین جیسے لوگ یہ فکر ترک کردیں گے کہ ’’جتھوں ملے اُتھوں کھا۔‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔