افواہیں پھیلانا، جھوٹا پروپیگنڈا کرنا اور مخالفین پر کیچڑ اُچھالنا ہماری سیاست میں رایج تو تھا ہی…… لیکن الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے اس میں اور تیزی پیدا کر دی۔ منٹوں میں افواہ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچ جاتی ہے۔
سیاست دان اپنی سیاسی زندگی اور پارٹی میں جان ڈالنے کے لیے افواہیں پھیلاکر عوام کو ایسے ’’کنفیوز‘‘ کرتے ہیں کہ اُنہیں جھوٹ اور سچ کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ گذشتہ کئی دنوں سے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر افواہیں اور جھوٹی خبریں چل رہی ہیں۔ کوئی کَہ رہا ہے کہ وزیر عمران خان نے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے لیے صدرِ مملکت عارف علوی سے ایک سمری تیار کروائی ہے اور صدرِ مملکت ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ یہ تین ماہ کے لیے ہوگی۔ اس دوران میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ عدالت کو ایمرجنسی ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا وغیرہ۔
ہنسی اور مذاق کی حد تک تو یہ گپ شپ ٹھیک ہے…… لیکن ایمرجنسی لگانے کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں ڈھیر ساری سخت شرایط ہیں۔ اُن شرایط کو پورا کرنا اگر ناممکن نہیں، تو مشکل ضرور ہے۔ اگر صدرِ مملکت ایمرجنسی لگانا بھی چاہے، تو اُس صورت میں ایمرجنسی کے حق میں قومی اسمبلی اور سینٹ سے قرارداد پاس کرانا پڑے گا۔ صدارتی نظام لانے کی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنھیں آئینِ پاکستان کا علم نہیں ہوتا۔
دوسری طرف مریم صفدر نے شوشا چھوڑا ہے کہ حکومت چند دن کی مہمان ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی کارکردگی قابلِ رشک نہیں اور اس کی پرفارمنس اتنی خراب ہے کہ اتحاد ی تو اتحادی خود تحریکِ انصاف کے اپنے ارکانِ اسمبلی خوش نہیں…… لیکن خراب کارکردگی کے باوجود بھی حکومت جانے کا امکان نہیں۔ حزبِ اختلاف میں بھی وہ دم خم نہیں کہ حکومت کو گراسکے۔ حزبِ اقتدار کی کارکردگی اگر قابلِ رشک نہیں، تو دوسری طرف حزبِ اختلاف میں دو بڑی پارٹیاں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کسی بھی قدم اُٹھانے کے حق میں نہیں۔ دونوں پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ سے امید لگائے بیٹھی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان سے ناراض ہوکر انہیں فارغ کر دیا جائے گا…… لیکن یہ کام ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ حالات ایسے رہیں گے۔ مہنگائی، خراب معیشت اور نااہلی کے ساتھ حکومت چلتی رہے گی۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر جو خبریں چلائی جا رہی ہیں۔ اگر واقعی وزیرِ اعظم عمران خان نے ایسا کوئی قدم اُٹھانے کی غلطی کی، تو حکومت گھر جا سکتی ہے۔ پی ڈی ایم کے لانگ مارچ، جلسے جلوسوں اور دھرنوں سے حکومت کو کچھ ہونے والا نہیں۔ حالات جوں کے توں رہیں گے۔
قارئین، لیکن کچھ دنوں سے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن)، تحریکِ انصاف کے چار اور پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) کے چار ارکان قومی اسمبلی کے باغی ہونے کا شوشا چھوڑا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے کسی سے ملاقات کرکے اُن سے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے واقعی ملک کے ساتھ بہت برا کیا ہے…… مگر ہمارے بارے میں کیوں سوچا نہیں جاتا؟ اخباری نامہ نگاروں کے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جواب دیا کہ چاروں پہلی قِطار میں بیٹھتے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے دعوا کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چار ارکانِ قومی اسمبلی نے مقتدرہ حلقوں سے ملاقات کرتے ہوئے اُن سے کہا کہ عمران خان نیازی کی نااہلی کی سزا اسمبلی کو نہیں ملنی چاہیے۔ اسمبلی کے خاتمہ کی بجائے حکومت کو فارغ کر دیا جائے اور ’’اِن ہاؤس‘‘ تبدیلی لائی جائے۔ احسن اقبال کے مطابق چار ارکانِ قومی اسمبلی وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں۔ سوال پوچھنے پر احسن اقبال نے بھی گول مول سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک تعلق پشاور سے، دوسرے کا تعلق جنوبی پنجاب، تیسرے کا کراچی اور چوتھے کا سنٹرل پنجاب سے ہے۔
کمال کی بات یہ ہے کہ کوئی کسی کا نام لینا یا بتانا نہیں چاہتا۔ یہ افواہ بھی زیرِ گردش ہے کہ میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ڈیل ہوچکی ہے اور وہ بہت جلد پاکستان آنے والے ہیں۔ ان کے تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔
جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے والوں میں کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ اِدھر کے چار اور اُدھر کے چار ارکانِ قومی اسمبلی کس کس سے ملے، کیا وعدے وعید ہوئے اور نہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کی ڈیل کس نے کس سے کی؟ حالاں کہ ڈایریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے اور یہ ادارہ ہر حکومت کے ساتھ ہوتا ہے۔
پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اُن سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کس نے ڈیل کس سے کی، کس کے لیے کی اور کس لیے کی؟ پرنٹ اور لیکٹرانک میڈیا کو’’من گھڑت‘‘ خبروں سے پرہیز کرنا چاہیے…… یہی ملک کے بہتر مفاد میں ہے۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔