57 total views, 1 views today

قارئین! کچھ دن قبل جو ’’سانحہ‘‘ مری میں پیش آیا…… اس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اس میں انتظامی بدنظمی اور حکومت کی نااہلی تو بالکل واضح ہے کہ وزرا فخر سے یہ خبر تو سنا رہے تھے کہ ’’مری جہاں صرف 4 ہزار گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ گنجایش نہیں، وہاں 1 لاکھ 60 ہزار گاڑیاں داخل ہوچکی ہیں۔ مری میں ہوٹلوں کے کرائے بہت بڑھ گئے ہیں……!‘‘ لیکن اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے نہ کوئی لایحۂ عمل، نہ کوئی طریقۂ کار…… اور اوپر سے ظلم کی انتہا کہ محکمۂ موسمیات نے تین دن قبل یہ ’’الرٹ‘‘ تحریری طور پر جاری کر دیا تھا کہ مری میں ایک برفانی طوفان آرہا ہے…… لیکن اس کے باجود آپ نے نہ کوئی تیاری کی اور نہ ہی بندوبست…… اور پھر کیا ہوا…… سب جام ہوکر رہ گیا۔ ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں…… اور درجنوں قیمتی جانوں کا صدمہ سہنا پڑا۔
نااہلی کی انتہا دیکھیں کہ جناب وزیرِ اعظم اپنے وزرا کو یہ ہدایت دیتے ہیں کہ ’’نواز شریف کے خلاف میڈیا میں پرچار کریں!‘‘ لیکن ان کو یہ نہیں کہا جاتا کہ ’’مری کے حالات سے قوم کو آگاہ کریں کہ وہاں مت جائیں حالات خراب ہیں۔‘‘ اگر بس یہی کام کر دیا جاتا، تو پھر یقینا بہت سے لوگ خاص کر راولپنڈی سے باہر کے لوگ کافی تعداد میں مری آنے سے گریز کرتے۔
اس تمام سانحے کا سب سے درد ناک پہلو اس پولیس والے جوان کا شاید ’’واٹس اَپ‘‘ میسج ہے کہ جو اس نے اپنے کزن کو بھیجا…… اور اغلب امکان یہی ہے کہ یقینا اس پولیس والے نے اسی طرح کے پیغامات اپنے محکمہ اور دوسرے سرکاری حلقوں کو بھیجے ہوں گے۔ اب اس نے بھیجے یا نہیں…… لیکن اس کے کزن نے تو کم از کم یہ واضح کیا کہ اس نے وزیرِ اعظم ہاوس سے لے کر نچلے افسران تک اس سے سب کو اسی وقت آگاہ کر دیا تھا۔ کیا پھر بھی جو کچھ اُس پولیس والے کے ساتھ ہوا…… وہ کسی بھی اخلاقی، شعرعی و قانونی ضابطے کے مطابق قابلِ توجیح یا قابلِ معافی بنتا ہے ؟
نہیں…… اور بالکل نہیں! مَیں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اس پولیس والے کی موت نہیں ہوئی…… بلکہ اس کو ریاست نے قتل کیا ہے…… اور اصول کا تقاضا ہے کہ حکومت کے سربراہ کے طور پر وزیرِ اعظم براہِ راست ذمہ دار ہے۔ اس لیے اس پولیس والے کے لواحقین…… خصوصاً اس کے رشتہ کا وہ بھائی کہ جس کو اس نے میسج بھیجا تھا اور اس نے اعلا اربابِ اختیار کو آگاہ کر دیا تھا…… وہ فوری طور پر وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلا، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، وفاقی و صوبائی وزرائے داخلہ اور کمشنر مری پر باقاعدہ تعزیراتِ پاکستان کی ’’دفعہ تین سو دو‘‘ یعنی قتل کی ایف آئی آر کٹوائیں…… اور اس مجرمانہ غفلت کے مجرمین کو قانون کے دایرہ میں لایا جائے۔
اور اگر لواحقین یہ ہمت نہیں کرتے، تو پھر سندھ کے حوالے سے بہت متحرک ہماری اعلا عدلیہ…… خصوصاً سپریم کورٹ اس پر فوراً ’’سیوموٹو ایکشن‘‘ لے اور خود حکومتی اربابِ اختیار کو طلب کرے۔ کیوں کہ وزیراعظم کے اقدامات تو ہم پہلے سے ہی سانحۂ ساہیوال، سانحۂ اسلام آباد وغیرہ میں دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے بس لفاظی کرنی ہے اور چند دن بس جذباتی بیانات دینے ہیں۔ اس کے بعد کمیٹی تشکیل ہوگی…… پھر اس کمیٹی کی رپورٹ آئے گی۔ وقتی طور پر چند معمولی افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی کا حکم صادر ہوگا…… بس چند ماہ بعد قوم بھول جائے گی…… اور مجوزہ سرکاری ملازم باعزت بری…… تمام تر الاؤنسز اور تنخواہوں کے ساتھ بحال…… اور ہم کسی اور اسی طرح کے سانحے کا انتظار کریں گے…… جب سانحہ ہوگا تو پھر شور شرابا اور آسمان سر پر اٹھائیں گے۔
قارئین، لیکن ہم وزیراعظم سے یہ بات کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ’’جناب والا! کہاں ہے ریاست مدینہ…… اور یہ جو آپ روز عوام اور میڈیا کو مغرب کا منترہ پڑھاتے ہیں…… اور ظاہر یوں کرتے ہیں کہ جیسے آپ کے علاوہ 22 کروڑ پاکستانیوں نے یورپ اور امریکہ بس فلموں میں ہی دیکھا ہو…… تو جنابِ والا! اپنے ضمیر سے فیصلہ لے لیں۔ اگر یہ واقعہ خاص کر اس مظلوم پولیس والے کا واقعہ لندن پیرس یا نیو یارک میں ہوا ہوتا، تو اب تک حکومت ہوا میں اُڑ چکی ہوتی…… اور اس کا سربراہ سیدھا جیل میں ہوتا۔
جنابِ والا! لیکن آپ ٹس سے مس نہیں ہوئے…… بلکہ پوری ڈھٹائی سے کرسی پر بیٹھ کر عیش میں ہیں۔
جناب والا! آپ کی ہمشیرہ محترمہ بہت قابل احترام ہیں…… اور ان کی حفاظت آپ اور حکومت کا حق ہے…… لیکن اس مظلوم پولیس والے کی بھی کوئی بہن ہوگی۔ اگر حلیمہ بی بی واسطے ’’ہیلی کاپٹر‘‘ چترال جا سکتا ہے، تو کیا اس پولیس والے کا یہ حق بھی نہ تھا کہ اس کی بروقت بس جان ہی بچا لی جاتی، ایسا ممکن تھا اگر سربراہ کے سینہ میں دل ہوتا۔
بقولِ ساغر صدیقی
جس دور میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی
اس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے
اور جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ یہاں کمائی کیا جانیں لٹ چکی ہیں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔