مجھے ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے بہت دکھ ہوا یہ جان کر کہ گذشتہ کابینہ میٹنگ میں ہمارے وزیرِ اعظم جناب عمران خان صاحب نے کابینہ ارکان کو باقاعدہ یہ ہدایت کی کہ وہ عوامی سطح پر میڈیا کے ذریعے تین دفعہ کے سابق وزیراعظم محترم نواز شریف کے خلاف منظم پرچار کریں اور عوام کو نواز شریف کی کرپشن بارے آگاہ کریں۔
سادہ اور آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کابینہ ارکان کو یہ حکمِ شاہی دیا گیا ہے کہ وہ نواز شریف اور ان کی صاحب زادی محترمہ مریم شریف کی کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کریں۔
میرے قارئین یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ میں کبھی شریف خاندان کا فین نہیں رہا…… بلکہ شدید ناقد رہا ہوں۔ اور اب بھی ہوں…… بلکہ میں یہ بات مکمل دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ جو کچھ آج شریف خاندان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ شاید نظامِ قدرت کی وجہ سے ہے۔ کیوں کہ کبھی انہوں نے یہ سب بھٹو خاندان کے خلاف کیا تھا…… لیکن حق یہ ہے کہ اگر یہ سب کل غلط تھا، تو آج بھی غلط ہی ہے۔ اور اب اس انتقامی، حسد سے بھری اور غیر اخلاقی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ویسے خان صاحب کی خدمت میں ایک عرض کردوں کہ یہ پرچار عوامی سطح پر کبھی موثر ثابت نہیں ہوا۔ تاریخی طور پر اس پرچار کا آغاز آمرِ اول جنرل ایوب نے ’’ایبڈو‘‘ کی چھڑی سے کیا تھا…… اور اس کا خیال تھا کہ اس سے اس کے مخالف سیاست دان عوام میں عزت کھو دیں گے…… لیکن وقت نے ثابت کیا کہ خان عبدالغفار خان، مولانا بھاشانی، محترمہ فاطمہ جناح، شیخ مجیب الرحمان باقی رہے اور ایوب تاریخ میں آمر بن کر دفن ہوا۔
پھر ذوالفقار علی بھٹو دور میں نیب کو غدار قرار دے کر پابندی لگی اور ولی خان اور عطاء اﷲ مینگل کو بھٹو صاحب جلسوں میں غدار کہتے تھے کہ آج بھی اختر مینگل اور اسفندیار ولی وہی ہیں۔
پاکستانی تاریخ کی سب سے مکروہ کردار کشی کا آغاز اس وقت کے آمر و غاصب ضیاء الحق نے کیا۔ اور وقت کے مقبول ترین راہنما ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بے تحاشا کردار کشی کا پرچار کیا۔ مجھے یاد ہے کہ ٹیلی وِژن اور ریڈیو پاکستان پر ظلم کی داستان کے نام سے ایک پروگرام چلا کرتا تھا۔ ہر ایک گھنٹے بعد یہ دس بیس منٹ کا پروگرام ہوتا جس میں کسی ایک شخص کو لایا جاتا اور وہ بھٹو صاحب کے مظالم کا تذکرہ اس طرح کرتا جیسے بھٹو عام انسان نہیں…… بلکہ ایک نہایت ہی بے درد سخت دل درندہ تھا کہ جس نے عام لوگوں پر ظلم کی انتہا کر دی تھی۔ حتی کہ اخبارات پر بھٹو صاحب کی تصاویر شایع کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی…… لیکن کیا ہوا اس پرچار کا……! آج بھی بھٹو کی آخری آرام گاہ جو کہ لاڑکانہ کی ایک پسماندہ تحصیل ’’رتو ڈھیرو‘‘ کے دور دراز گاؤں گڑھی خدا بخش میں ہے…… وہاں 24 گھنٹے رونق لگی رہتی ہے۔ لوگ وہاں حاضری دے کر فخر محسوس کرتے ہیں…… لیکن ضیاء الحق کو فیصل مسجد میں دفنانے اور ’’سرکاری شہید‘‘ بنانے کے باجود بھی ویرانی کے ڈھیرے ہیں۔
پھر یہی سلوک محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ روا رکھا گیا…… لیکن آج بی بی اس قوم کی غیر متنازعہ شہید قرار دے دی گئی ہیں۔
پھر زرداری کو ’’چوروں کا بادشاہ‘‘ بنا کر پیش کیا گیا…… لیکن وہ ملک کا صدر بن گیا۔
نواز شریف کو ایک آمر نے جَلاوطن کیا۔ دن رات ’’چور……چور‘‘ کہا…… مگر عوام اس کو تیسری دفعہ وزراتِ عظمی کی کرسی پر لے آئے۔ دوسری طرف جنرل مشرف دوبئی میں بسترِ مرگ پر تنہا اور لاوارث پڑا ہے۔
قارئین، یہاں ماضیِ قریب کا ایک واقعہ بیان کرتا جاؤں۔ جب مشرف دور میں الیکشن کمیشن نیا بنایا گیا، تو اس کے ایک اہم رکن بلوچستان سے جسٹس طارق بھی تھے۔ یہ وہی جسٹس طارق ہیں کہ جن کا عدلیہ بحالی میں اعتزاز احسن کے ساتھ بڑا کردار ہے۔ انہوں نے جب کچھ حکومتی اقدامات پر اعتراض کیا، تو ان کو الیکشن کمیشن سے نکال باہر کردیا گیا…… مگر جیسے ہی وہ اصولی موقف پر الیکشن کمیشن سے فارغ ہوئے، تو ان کو وکلا کی تنظیم نے ایک بڑی اکثریت سے اپنا صدر بنا لیا…… اور اس پر شاید چوہدری شجاعت نے پرویز مشرف کو کہا تھا کہ جنرل صاحب غلط اور صحیح کا فیصلہ عوام کرتے ہیں، حکومتی اقدامات نہیں…… یعنی تاریخ میں یہ بات ہمیشہ سے ثابت شدہ ہے کہ آپ کی کامیابیاں اﷲ کے کرم کے بعد آپ کی محنت، صلاحیت اور نیک نیتی کی مرہون منت ہوتی ہیں۔ دوسروں کی غلطیوں اور خامیوں سے وابستہ نہیں ہوتیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب کے قریبی لوگ چوں کہ گذشتہ ساڑھے تین سال سے کسی ایک بھی شعبہ میں قابلِ قدر تو دور معمولی سی بھی کارگردگی نہ دِکھا سکے…… اور جو توجیح وہ پیش کرتے ہیں…… اس کی حیثیت اب عام عوام کے لیے ایک لطیفہ سے زیادہ قطعی نہیں۔ سو ان کو یہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ مخالفین کی کردار کشی کے سہارے ہی آپ کی سیاسی کامیابی ہے۔ حالاں کہ محترم وزیراعظم کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ تبدیلی اور نئی سیاسی ترجیحات کے دعوے دار ہیں۔ اگر نواز شریف واقعی مجرم ہیں، تو ملک میں تھوک کے حساب سے ادارے موجود ہیں۔ پولیس، ایف آئی اے، انکم ٹیکس، ایف بی آر اور سب سے بڑھ کر نیب ان سے تعاون کریں اور فیصلہ عدالتوں پر چھوڑ دیں۔ اس میں پروپیگنڈا اور کردار کشی کی ضرورت کیا ہے؟ جب کیس صحیح اور با وزن ہوں گے۔ فیصلے عدالتیں کریں گی، تو پھر آپ نہ بھی پرچار کریں، تب بھی عوام آپ کے مخالفین بارے جان لیں گے۔ لیکن یہ تو نہایت ہی بے ہودہ اور کم ظرفی کی اعلا مثال ہے کہ آپ خود کوئی کام نہ کریں…… لیکن جوں ہی مسلم لیگ ن کی جانب سے محترم نواز شریف کی واپسی کی بات ہو…… یا مریم شریف معمولی سا متحرک ہوں…… آپ کابینہ کو یہ ہدایت دیں کہ وہ مخالفانہ پرچار کریں۔ اور یہ امید لگا لیں کہ اس طرح آپ نواز شریف پر سیاسی الزام تراشی کے زور پر اپنی مقبولیت قائم رکھ لیں گے، تو اس سے زیادہ بچکانہ اور غیر حقیقی سوچ ہو ہی نہیں سکتی۔
بہرحال ہم اب بھی محترم وزیرِ اعظم صاحب سے یہی توقع کرتے ہیں کہ اب شاید اپنا رویہ تبدیل کرلیں اور نئے سال کی شروعات سے ہم اﷲ کرے دیکھیں کہ کابینہ کے ارکان نئے منصوبوں بارے پریس کانفرنس کریں۔ مثلاً میرا خواب ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محترم شیخ رشید احمد یہ پریس کانفرنس کر رہے ہوں کہ ہم نے پولیس میں اصلاحات کا بل پیش کر دیا ہے جس سے امن و امان میں بہتری ہوگی۔ صوبائی وزیرِ بلدیات ہم کو یہ خبر دے رہے ہوں کہ آئندہ دوسالوں تک ملک کے اکثر علاقوں میں بلدیاتی کام تکمیل کو پہنچ جائیں گے، اور صفائی کا نظام مکمل ہو جائے گا۔ وزیرِ صحت صاحب علاج کی سہولتوں کا اعلان کر رہے ہوں۔ وزیرِ تعلیم، تعلیم کی بہتری کے اقدامات کی خبر دے رہے ہوں۔ اس طرح دوسرے وزرا زراعت کی بہتری، ٹریفک کے معمولات میں مشکلات کے خاتمے، بے روزگاری اور مہنگائی پر کنٹرول وغیرہ وغیرہ کی خوشخبریاں سنا رہے ہوں۔ اور شہزاد اکبر صاحب محض مخالفین کی کردار کشی کی بجائے ہمیں یہ بتا رہے ہوں کہ نیب نے اتنے مجرم پکڑے…… کس کس کو سزا ہوئی اور کس کس سے کتنی رقم برآمد ہوئی؟ تب ہی ملک میں تبدیلی نظر آئے گی۔
جنابِ والا! اب یہ پرچار کرنا، کردار کشی کرنا، چور چور کے آوازے کسنا اپنا احساس کھوچکے ہیں۔ آپ ذرا اپنی ایجنسیوں سے ایک سروے کروالیں کہ اب شہزاد اکبر یا شیخ رشید کی پریس کانفرنس کو کتنے اشخاص دیکھتے ہیں؟ اور جو دیکھتے ان میں سے کتنے متاثر ہوتے ہیں؟ آپ پر ہر بات واضح ہو جائے گی۔
خان صاحب! ہم نے دیکھا ہے کہ آپ کی حکومت کے شروع میں یہ باتیں عام لوگ بہت دلچسپی اور امید سے سنتے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ لوگ اس کو غیر سنجیدہ لینا شروع ہوگئے۔ پھر تیسرے سال لوگ اس کو لطیفہ بنا کر ہنسنا شروع ہوگئے اور اب آپ یقین کریں کہ ایسی پریس کانفرسیں آپ کی قیمت گھٹا رہی ہیں۔ اب ہم نے بچشمِ خود دیکھا ہے کہ لوگ جب بھی کابینہ کے ارکان کے منھ سے یہ باتیں سنتے ہیں، ان کی گالیوں، مذمتوں کا رُخ حزبِ اختلاف کے راہنماؤں کی بجائے آپ اور آپ کی حکومت کی طرف شروع ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ اب یہ سن کر سابقہ حکمرانوں کی مذمت نہیں کرتے بلکہ عجیب طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ وہ جیسے بھی تھے، آپ سے بہت بہتر تھے!
اس لیے جناب وزیرِ اعظم…… ہم حسبِ معمول اور بار بار آپ کو ایک ہی مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ اگر سیاست میں زندہ رہنا ہے، تو مخالفین کے جرائم کا پرچار کریں، نہ کروایں…… بلکہ اپنے مثبت کاموں کا پرچار کریں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے کارناموں کا پرچار کریں۔ البتہ یہ پرچار کرنے سے پہلے یہ بات لازم ہے کہ آپ کے پلے کوئی کام کارنامہ بھی ہو!
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔