پچھلے دنوں عدالتِ عظمی نے کراچی میں متنازعہ عمارات اور ناجائز قبضہ کے کیس میں عمومی ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک میجر آکر کہہ دیتا ہے کہ یہ کرو اور قانون بے بس ہو جاتا ہے۔‘‘
مَیں نے مختلف وکلا سے معلوم کیا، تو پتا چلا کہ یہ عدالتی ریمارکس عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں اور اس کا مقصد کچھ خامیوں کی نشان دہی ہوتا ہے یا معاملے کو مزید واضح کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کسی خاص ادارے، محکمے عہدے، حتی کہ کسی شخص کی توہین و تضحیک نہیں ہوتا…… لیکن اس پر ایک میجر صاحب کا ایک خط سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوا۔ جس میں میجر صاحب نے بہت خوب صورت بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نہایت ہی ادبی انداز کی لغت استعمال کی۔ اس خط میں میجر صاحب نے عدالت کے ان ریمارکس پر ایک لحاظ سے شدید احتجاج کیا اور یہ ثابت کیا کہ شاید میجر کے عہدے کی توہین کی گئی ہے۔ اس میں انہوں نے میجر بننے کے طریقۂ کار پر بھی بات کی اور ڈیوٹی کے دوران میں ملنے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
ویسے یہ بات اصولی طور پر صحیح ہے کہ کسی بھی عدالتی یا غیر عدالتی ادارے کی طرف سے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط لازم ہے۔ اور صرف میجر صاحب ہی نہیں بلکہ ایک عام سپاہی سے جنرل تک…… بلکہ پولیس کے سپاہی سے آئی جی تک کسی سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے چپڑاسی سے لے کر جنرل مینیجر تک تمام لوگ یکساں عزت کے حق دار ہیں۔ کسی بھی دوسرے ادارے بلاشبہ وہ عدالتِ عظمیٰ ہی کیوں نہ ہو…… کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا ہے کہ وہ بے شک مکمل نیک نیتی سے ہی ہو، ایسے الفاظ استعمال کرے کہ جس سے کسی کی بھی دل آزاری کا پہلو نکلتا ہو۔ یہ اخلاقی و انسانی مروجہ ضابطوں کے مطابق قابلِ تنقید ہے…… لیکن ہم یہاں پر میجر صاحب کی خدمت میں یہ عرض نہایت ہی احترام کے ساتھ ضرور کریں گے کہ آپ نے اپنے مؤقف کے حق میں جو دلائل دیے ہیں، وہ کسی بھی لحاظ سے آپ کو اچھوتا، خاص یا منفرد نہیں بناتے۔ مثلا آپ نے میجر بننے کے طریقۂ کار کو بیان کیا ہے۔ سر! پولیس کا ڈی ایس پی بھی کوئی صرف ناشتہ کرکے نہیں بن جاتا…… نہ نادرہ کا کلرک یا ایڈمن آفیسر راتوں رات بنتا ہے۔ وزیر یا ایم این اے بننے واسطے جس طرح کے پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں، اس سے ہم سب آگاہ ہیں۔ بقولِ شیخ رشید ’’جنازے پڑھ پڑھ کر ہی کندھے جھک جاتے ہیں۔‘‘ اور جہاں تک آپ نے دورانِ ملازمت آنے والی مشکلات کا ذکر کیا ہے، تو محترم میجر صاحب! پولیس کا تھانیدار اور واپڈا کا لائین مین یا ریلوے کا ٹی سی بھی روز ان مشکلات سے گزرتا ہے۔
دوسرا آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے بلکہ سمجھنا چاہیے کہ آپ پاک فوج کو باقاعدہ ایک معاہدے کے تحت ہی جوائن کرتے ہیں۔ آپ کو آپ کی ذمہ داریوں سے آگاہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے عوض آپ کو تمام سہولیات اور تنخواہ بارے بتا دیا جاتا ہے۔ یہ آپ کوئی ’’رضاکارانہ‘‘ خدمتِ خلق نہیں کرتے…… بلکہ باقاعدہ بطورِ ملازم آپ اس کو اپنی مرضی اور خواہش سے اپناتے ہیں…… بلکہ بعض معاملات میں تو کچھ اضافی اقدامات بھی کرتے ہیں سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہونے یا آگے ترقی کرنے کی خاطر۔ سو اگر آپ کو یہ پسند نہیں، یا زیادتی محسوس ہوتی ہے، تو نہ تو حکومت، نہ ریاست، نہ پاک فوج بطورِ ادارہ آپ کو مجبور کرتی ہے کہ آپ لازماً میجر بن کر ملک و قوم پر احسان جتائیں۔ دل مانتا ہے، تو کریں…… نہیں مانتا، تو نہ کریں۔ ہم نے بہت سے لوگوں کو عین ملازمت کی شروعات بلکہ دورانِ ملازمت بھی نوکری چھوڑتے دیکھا ہے۔ سو اس وجہ سے اگر اپنے لیے آپ کچھ رعایت چاہتے ہیں، تو معذرت کے ساتھ ہمیں آئین و قانون دیکھنا ہوگا۔
سر! وہ مشہور واقعہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ جس میں سر ونسٹن چرچل نے ایک تمغہ یافتہ برطانوی جنرل کو کچھ کہا تھا…… یا مشرقی پاکستان میں بھارت کے ہیرو افسر کو اندراگاندھی نے کس طرح نکالا تھا۔ باقی اگر آپ اس کو اصولی اختلاف کہ جو بے شک آپ کا حق ہے…… کی بنیاد پر لیتے ہیں، تو جنابِ والا ذرا ان واقعات پر بھی غور کرلیں کہ جب ایک سرکاری ملازم مطلب فوجی جنرل طاقت کے زور پر ایک منتخب آئینی وزیراعظم کو کک مار کر بند کر دیتا ہے اور خود حکومت پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اس کے بعد تمام دنیا کے سامنے کہتا ہے کہ میں ان سیاست دانوں کی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔ یہ سیاست دان حکومت کی ہڈی دیکھ کر میری طرف کتے کی طرح دُم ہلاتے آئیں گے۔ میں ان چور اور بدمعاش سیاست دانوں کو معاشرے سے اُٹھا کر باہر پھنک دوں گا۔ اس کے بعد وہ باقاعدہ عدلیہ کو استعمال کرکے سیاست دانوں پر ظلم کی انتہا کرتا ہے۔ راتوں رات ’’ق لیگ‘‘، ’’کنونشن لیگ‘‘، ’’پیپلز پارٹی پیٹریاٹ‘‘ بنا دی جاتی ہیں۔ ’’آئی جی آئی‘‘ کا نا ممکن ظہور ہو جاتا ہے۔ کسی منتخب راہنما کو پھانسی لٹکا دیتا ہے اور کسی کو قید اورکسی کو ملک بدر کر دیتا ہے۔ سیاسی کارکنان کو کوڑے مارتا ہے۔ ان کو گرفتار کرتا ہے۔ ’’ایل ایف اُو جیسے قوانین کا نفاذ کرتا ہے اور پھر عدلیہ کو اپنی وردی کی طاقت کا غلام بنا لیتا ہے۔ اعلا ترین عدلیہ کے جج صاحبان ہر اس فیصلہ پر دستخط کرتے ہیں کہ جو تقریباً باقاعدہ راولپنڈی سے لکھا لکھایا آتا ہے۔ پھر الیکشن کمیشن اس کے گھر کی لونڈی بن جاتی ہے۔ کبھی قائد اعظم کی بہن کو رسوا کیا جاتا ہے اور کبھی بھٹو کی بیٹی کو بے عزت کیا جاتا ہے۔ ملک کو امریکہ کے تابع فرمان بنایاجاتا ہے۔ کارگل میں مہم جوئی کی جاتی ہے۔ ڈھاکہ میں ہتھیار پھینک کر ملک دو لخت کیا جاتا ہے۔ سیاچین پر بھارتی قبضہ کروا کر کہا جاتا ہے کہ وہاں تو گھاس کا تنکا بھی نہیں اُگتا۔ کبھی راجیو کو خوش کرنے واسطے کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے مندر میں گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں اور کبھی کھٹمنڈو واچپائی کے پاؤں پڑتا ہے، تو تب میجر صاحب کیا آپ کے وقار کو تکلیف نہیں ہوتی۔ آپ کی انا کی قربانی نہیں ہوتی۔ کیا یہ دکھ بھی کبھی آپ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھیں گے؟
درحقیقت ہم من حیث القوم بس تصویر کا ایک ہی رُخ دیکھنے کے عادی ہیں۔ ہم کو وہ بات ہی درست لگتی ہے جس میں ہمیں لگے کہ شاید اس میں براہِ راست ہم کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ عدلیہ میں آئے روز ایسے ریمارکس مختلف معاشرے کے طبقات پر آتے رہتے ہیں…… بلکہ یہاں تو میجر کے عہدے کا ذکر بطورِ تمثیل ہوا۔ دوسرے لوگوں کو تو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کمشنر کو بار ہا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس والوں کو تو اکثر خراب کرکے رکھ دیا جاتا ہے۔ سیاست دان بے چارے تو روزانہ ذلیل ہوتے ہیں۔ ہم نے تو یہاں تک دیکھا کہ معزز جج صاحبان کی جانب سے دھمکی دی جاتی ہے کہ ایسا نہ ہوا، تو ہم وزیراعظم اور وزیر اعلا کو کٹہرے میں لاکھڑا کر دیں گے۔
ایک منتخب وزیراعظم کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جونیئرافسران کے سامنے بطورِ ملزم پیش ہو۔ منتخب صدر پر غداری کا الزام لگا کر تفتیش کی جاتی ہے۔ سفرا و وزرا تو بہت معمول کی بات ہے۔ صحافی اور پروفیسر تک عدالتی پیشی کو بھگتتے رہتے ہیں…… لیکن ہم نے کبھی اس پر محترم میجر صاحب کی طرح اظہارِ افسوس نہیں دیکھا۔
یہاں پر ہم فوج کے اعلا اربابِ اختیار خاص کر سروسز چیفس اور خصوصی طور پر چیف آف آرمی سٹاف سے بھی یہ اپیل کریں گے کہ وہ اب فوج کی ٹریننگ اور تربیت کے انداز میں بدلاؤ لائیں۔ اب یہ دورِ غلامی کی طرح سپریم سمجھنے کا ’’مائنڈ سیٹ‘‘ تبدیل کیا جائے۔ قانون ہو یا انسانی اخلاقیات، اقدار ہوں یا دین…… سب کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ ایک حدیث سید المرسلینؐ کے مطابق ’’کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں۔‘‘
کوئی مقدس گائے ہے اور نہ کوئی حقیر۔ اس لیے محترم میجر صاحب، دھیرج رکھیں! ہمارے دل میں میجر کے رینک کی بہت عزت ہے…… لیکن آپ بھی مہربانی کریں اور معمولی سے ریمارکس کو جواز بنا کر خواہ مخواہ دوسرے فوجی افسران میں بددلی پیدا نہ کریں۔ آپ کی عین نوازش ہوگی۔
نوٹ:۔ ایک ضروری وضاحت ن لیگ کے دوستوں کے لیے۔ میرے ن لیگ پر کالم کو کچھ لیگی دوستوں نے بہت منفی لیا۔ میرا مقصد صرف ایک خامی کی نشان دہی تھا…… نہ کہ کسی کی مخالفت۔ دوسرا یہ میرا نکتۂ نظر ہے کہ آپ دوسری طرف کا نکتۂ نظر رکھنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سو میں اور میرا ادارہ آپ کے لیے حاضر ہے۔ آپ اپنا نکتۂ نظر تہذیب کے دائرے میں دیں۔ ہم اس پر بھی قلم اٹھائیں گے…… بنا کسی کانٹ چھانٹ کے۔ فیصلہ بہرحال عوام کی ہی عدالت میں ہوگا۔ میں ایک دفعہ پھر یہ عرض کروں گا کہ میرا یا میرے ادارے کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا بالکل نہیں تھا…… لیکن اس کے باحود بھی اگر کسی کی کوئی دل آزاری ہوئی ہو، تو بصد احترام معافی کے خواست گار ہیں۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔