محترم ڈاکٹر سلطان روم صاحب بلاشبہ ایک محنتی محقق اور تاریخ کے حوالے سے ایک گہرا تنقیدی نقطۂ نظر رکھتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ادب، سماج اور تاریخ کے ہر پہلو پہ ان کی سوچ اور نظریہ سے اتفاق کیا جائے۔ کوئی بھی انسان فکر و سوچ اور عقل و فہم کے لحاظ سے مکمل نہیں ہوسکتا لیکن اس کے باوجود اگر کوئی خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے اپنے ذاتی تعصبات اور نفرت انگیز اختلافات کو تاریخ کی درستی کا رنگ دے اور اس پر پوری ڈھٹائی کے ساتھ وقتاً فوقتاً اصرار بھی کرے، تو اس پر حیرت اور افسوس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
8 دسمبر 2021ء کے روزنامہ ’’آزادی‘‘ کے ادارتی صفحہ پر ’’ہمارے لکھاری اور تاریخ‘‘ کے ’’دل کش عنوان‘‘ سے ڈاکٹر موصوف کا کالم شائع ہوا ہے جس میں ’’اسے پرواز کرنے دو!‘‘ کے مترجم کے خیالات پر جس سوقیانہ انداز میں جرح کی گئی ہے، اس کی توقع ڈاکٹر صاحب جیسی شخصیت سے نہیں کی جاسکتی۔ انھیں حق حاصل ہے کہ وہ کسی کتاب کے کسی حصے پر تنقید ضرور کریں لیکن ان کا طرزِ تحریر اگر دل آزار ہو یا وہ اپنی تنقید میں کسی کی شخصیت پر ذاتی حملے کریں، یہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ تنقید خواہ ادبی ہو یا تاریخ کی کسی درستی کے حوالے سے ہو، انداز مہذبانہ، شائستہ اور ادبی دائرے کے اندر ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب میرے لیے استاد کا درجہ رکھتے ہیں اور اگر مجھے ان کا احترام ملحوظِ خاطر نہ ہوتا، تو مَیں ان کی تنقید کا جواب بھی اسی اُسلوب میں دیتا لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ ان کا طرزِ تحریر کسی بھی لحاظ سے کسی مہذب اور متمدن عالم کی عکاسی نہیں کرتا۔ انھوں نے کتاب پر لکھے گئے میرے تاثرات میں سے یہ پیراگراف نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اسے پرواز کرنے دو! ایک ایسی کہانی ہے جس میں ہمارے معاشرے کے غیرفطری، غیر انسانی اور عدم مساوات پر مبنی رسوم و رواج کو مسترد کردیا گیا ہے اور سماج کو بتایا گیا ہے کہ بہن اور بیٹی کی شکل میں ہر گھر میں بے نظیر بھٹو موجود ہے اور ملالہ کی طرح لامتناہی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی حامل لڑکیاں موجود ہیں لیکن انھیں صنفی امتیاز کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے ، ان کے پَروں کو نہ کاٹا جائے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرکے انھیں اونچی اُڑان کا موقع دیا جائے ۔‘‘
انھوں نے کتاب میں آگے ایک اور پیراگراف نقل کیا ہے: ’’یہ ہمارے معاشرے کے ہر گھر کی کہانی ہے لیکن اسے بیان کرنے کی جرأت اور حوصلہ صرف ضیاء الدین جیسی بلند قامت شخصیات کا خاصہ ہے۔‘‘
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ’’یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ واقعی سوات کا پورا معاشرہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کتاب میں اس کی منظر کشی کی گئی ہے اور واقعی سوات کے پورے معاشرے کے رسوم و رواج ’’غیرفطری، غیرانسانی اور عدم مساوات پر مبنی‘‘ ہیں اور واقعی کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ’’وہ ہمارے معاشرے کے ہر گھر کی کہانی ہے ‘‘ یا مترجم کا اپنے آپ کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرنے کی کوشش اور خوشامد اور چاپلوسی کی انتہا ہے؟ اگرچہ سوات کا باشندہ ہونے اور یہاں کے سماج کا اپنے طور پر رکھنے والے شعور اور فہم و ادراک کی بنیاد پر میرا یقین ہے کہ ایسا نہیں ہے، تاہم مترجم کی تحریر کو مدنظر رکھتے ہوئے شک پڑتا ہے کہ شائد مترجم کے اپنے گھر، خاندان، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں کی کہانی ایسی ہی ہے جس کی بنیاد پر اسے یہ سوات کے ہر گھر کی کہانی معلوم ہوتی ہے لیکن وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ سوات کی ہر گھر کی کہانی ہرگز ایسی نہیں ہے۔‘‘
اس بارے میں عرض ہے کہ مَیں نے سواتی معاشرے کی بات نہیں کی ہے۔ مَیں نے عمومی انداز میں پورے پاکستانی معاشرے کی بات کی ہے اور ہر گھر کی کہانی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ واقعتا ہر گھر میں ایسا ہی ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ مستثنیات کے علاوہ عام طور پر ہر گھر میں کسی نہ کسی حوالے سے خواتین کا استحصال کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق انھیں منصفانہ طور پر نہیں دیے جاتے۔ مَیں اس کی محض چند ایک مثالیں دوں گا، کیوں کہ میرا کالم پھر بہت طویل ہوجائے گا۔ کل ہی فیصل آباد کے حوالے سے ایک خبر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں گردش کر رہی ہے جس کے تحت وہاں کے ایک دکان دار نے تین خواتین کو چوری کے الزام میں زود و کوب کیا ہے اور ان کے کپڑے پھاڑ کر انھیں بے لباس کردیا ہے اور یہی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پہ ’’اَپ لوڈ‘‘ بھی کی ہے۔ دریائے سوات کے اس پار جہاں ڈاکٹر صاحب رہائش پزیر ہیں۔ وہاں سے اکثر و بیشتر یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ بھائی نے غیرت کے نام پر بہن کو قتل کردیا، باپ نے اسی الزام کے تحت بیٹی کو زندگی سے محروم کردیا اور دلہن نے شادی کے ایک مہینے کے بعد خود کشی کرلی۔ یہ سب کچھ کس قسم کے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے؟ ہم نے اپنے قرب و جوار میں بہت سے ایسے گھرانے دیکھے ہیں جہاں لڑکیاں تعلیم سے یک سر محروم ہیں…… یا اگر کسی لڑکی نے بی اے کیا ہے یا ایم اے کیا ہے، تو اسے اس کی شدید خواہش کے باوجود ملازمت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مَیں نے تو ایسے بھی لیڈی ڈاکٹر دیکھے ہیں جنھوں نے اپنی ایم بی بی ایس مکمل کی ہے لیکن شادی کے بعد شوہر یا اس کے گھر والے اسے ملازمت یا ذاتی کلینک کھولنے کی اجازت نہیں دیتے۔ امیر گھرانوں میں آپ کو ایسی چھوٹی چھوٹی بچیاں بے شمار نظر آئیں گی جن کا کام گھروں کی صفائی اور دیگر ناپسندیدہ اعمال انجام دینا ہوتا ہے۔ ان چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کو ان کے بچپن سے اور تعلیم کے حصول سے محروم رکھا جاتا ہے۔ کیا یہ ان کا استحصال نہیں ہے؟ میرے لکھنے کا مقصد معاشرے کی عمومی صورتِ حال کو واضح کرنا تھا۔
ڈاکٹر صاحب! کس اوچھے انداز میں آپ نے اس حوالے سے میری مثال دی ہے، میرے خاندان اور دوستوں کی مثال دی ہے۔ تنقید کا یہ انداز خالصتاً ذاتیات کے زمرے میں آتا ہے اور اس حوالے سے میرے پاس آپ کے کئی ای میل موجود ہیں جن میں آپ نے جس توہین آمیز اور غیر پارلیمانی انداز میں مجھے مخاطب کیا ہے، اس سے مجھے آپ کی جارحانہ ذہنیت کا اندازہ بہ خوبی ہوچکا ہے۔ تنقید لوگ برائے اصلاح کرتے ہیں لیکن آپ تو گالی تک دینے پر اتر آتے ہیں۔ ادبی تنقید دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا نہیں ہوتی۔ ایسا اگر کوئی کرتا ہے، تو اس طرح وہ اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب! میری کوئی بیٹی نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو یقینا مَیں اسے اعلا تعلیم دلواتا۔ کیوں کہ مجھے احساس ہے کہ لڑکی اللہ کی رحمت ہے اور اس کے حقوق کسی بھی لحاظ سے لڑکے سے کم نہیں۔ جب میں کم سِن تھا، تو میری چھوٹی بہنوں کے بارے میں ہم بھائیوں کو میرے والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ مجھے بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں زیادہ عزیز ہیں اور وہ ہمارے مقابلے میں ہماری بہنوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر گھر میں ایسا ہوتا ہے۔ مَیں نے تو معاشرے کے عمومی رویے کی نشان دہی کی ہے۔ میرے لکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پورا معاشرہ ایسا ہے۔ اگر کوئی ذی شعور اور غیر متعصبانہ شخص کتاب پر میرے پورے تاثرات پڑھ لے، تو وہ ہرگز یہ خیال نہیں کرے گا کہ میرا مطلب پورا معاشرہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب! یہ کتاب صرف اہلِ سوات کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ اس کا مخاطب پورا پاکستانی معاشرہ ہے۔ مَیں نے تو سواتی معاشرہ نہیں لکھا بلکہ پاکستان کے عمومی معاشرے کی بات کی ہے۔ افسوس! منفی ذہنیت ہمیشہ مثبت پہلو میں بھی منفی رُخ تلاش کرنے میں سرگرداں رہتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے خوشامد اور چاپلوسی کی انتہا کی بات کی ہے، تو عرض ہے کہ مَیں نے نہ خوشامد کی ہے اور نہ چاپلوسی ہی سے کام لیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب! آپ تو مجھے بہ خوبی جانتے ہیں کہ میرا قلم کب کسی کی خوشامد پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ سوات کی شورش کے دوران مجھے طاقت ور اداروں سے ذاتی مفاد کے حوالے سے تحریصات کے علاوہ سنگین دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں لیکن نہ میں کسی لالچ میں آیا ہوں اور نہ کسی کی دھمکیوں نے مجھے حق اور سچ لکھنے سے باز ہی رکھا ہے۔
ضیاء الدین یوسف زئی صاحب کی کتاب اپنی نوعیت کی ایک منفرد اور "Motivational” کتاب ہے۔ انھوں نے اپنی کہانی لکھی ہے اور اسے صرف اور محض اہلِ سوات کے لیے نہیں لکھا۔ ان کا مخاطب اُردو پڑھنے والا ہر شخص ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کی روداد میں شامل تلخ و شیریں واقعات اور چھوٹی بڑی مشکلات اس لیے لکھی ہیں، تاکہ کوئی اسے پڑھے اور اس میں زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے امید اور توانائی پیدا ہوسکے۔
ضیاء الدین صاحب کے بعض خیالات سے اختلاف بھی ممکن ہے لیکن انھوں نے جس خوبی اور سچائی کے ساتھ اپنے بچپن سے لے کر موجودہ دور تک اپنے خیالات قلم بند کیے ہیں، مَیں اب بھی کہتا ہوں کہ معاشرے میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہوں گے جو اپنی غربت، اپنی بہنوں کی زبوں حالی، بعض معاملات میں اپنے والد کا نامناسب طرزِ عمل اور زندگی میں قدم قدم پر اپنی بے بسی کو اتنی جرأت اور صاف گوئی سے بیان کرسکیں۔ جب کوئی شخص معاشرے میں کسی بلند مقام پر پہنچ جاتا ہے، تو وہ اپنا ماضی فراموش کردیتا ہے اور اس کا تذکرہ اتنی بے باکی سے نہیں کرتا۔ وہ خود کو جدی پشتی امیر اور بلند خاندانی شخص ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن صاحبِ کتاب نے ایسا نہیں کیا ہے۔ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کو جس خوب صورتی اور ہنرمندی کے ساتھ مروجہ معاشرتی زندگی کے ساتھ ضم کرنے کی کوشش ہے، اس میں یقینا بعض لوگوں کو اپنی زندگی کی جھلکیاں نظر آتی ہوں گی۔ باقی یہ کتاب آپ کے مزاجِ گرامی پر اس لیے گراں گزرتی ہے کہ ضیاء الدین اور ملالہ کے بارے میں آپ کے ذہن میں تعصب اور نفرت کا زہر بھرا ہوا ہے۔
آپ نے مذکورہ پیراگراف کتاب پر لکھے گئے میرے ان تاثرات سے لیا ہے جو مَیں نے ایک ادیب یا مترجم کی حیثیت سے لکھے ہیں اور یہ تاثرات مَیں نے کتاب کے مندرجات اور اس میں بیان کیے گئے مصنف کے خیالات پڑھ کر اور سمجھ کر لکھے ہیں۔ اس طرح کے تاثرات مَیں نے ابھی تک اُردو اور پشتو کی چالیس پچاس کتابوں پر لکھے ہوں گے اور ظاہر ہے جب مَیں کسی کتاب پر اپنے تاثرات قلم بند کرتا ہوں، توجب مجھے کتاب اور صاحبِ کتاب میں کچھ اچھا نظر آتا ہے، تو حوصلہ افزائی کی غرض سے اس کی جائز توصیف بھی کرتا ہوں۔ مَیں نے تو آپ کی کتابوں پر بھی تبصرے لکھے ہیں جو شائع ہوئے ہیں۔ ان میں تو مَیں نے آپ کی بھی بے حد تعریف کی ہے۔
کیا مَیں نے ضیاء الدین صاحب کی طرح آپ کی بھی خوشامد اور چاپلوسی کی انتہا کی ہے؟
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ڈاکٹر صاحب اپنا قیمتی وقت نان ایشوز میں کیوں ضائع کرتے ہیں؟ وہ ملالہ اور ضیاء الدین کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ کسی کو محض اپنی ذاتی پسند و ناپسند پر مطعون ٹھہرانا کسی ہوش مند انسان کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ سواتی معاشرے کا حسن و قبح جس طرح آپ جانتے ہیں، اسی طرح ہم بھی سمجھتے ہیں۔ آپ پورے معاشرے کا تجزیہ اپنے قابلِ قدر گھرانے اور اپنے قابلِ احترام خاندان کو بنیاد بناکر نہ کریں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ معاشرے کے دوسرے لوگوں سے کٹے ہوئے ہوں۔ اسی معاشرے کی جڑوں میں خواتین کے حوالے سے ایسی خوف ناک کہانیاں دفن ہیں جنھیں سن کر انسان سکتے میں آجاتا ہے۔ کتاب کے بنیادی مندرجات اور اس میں شامل چند صفحات پر مشتمل میرے تاثرات سے یہ نتیجہ کسی بھی صورت نہیں نکلتا کہ سواتی معاشرہ ہر قسم کی خرابیوں کا گڑھ ہے۔ کتاب کا اصل موضوع اگرچہ خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز ہے لیکن اس میں سماجی زندگی سے جڑے دوسرے موضوعات کا اتنا خوب صورت تنوع موجود ہے جو کتاب کو، پڑھنے والوں کے لیے نہ صرف دلچسپ بناتی ہے بلکہ اس میں سیکھنے اور سمجھنے کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔
ضیاء الدین یوسف زئی اور ملالہ کو قدرت نے جو عزت اور مقام دیا ہے، وہ اس کے مستحق بھی ہیں۔ ان میں اگر صلاحیت نہ ہوتی، تو کوئی ان کو گھاس بھی نہیں ڈالتا۔ پوری دنیا اور بڑے بڑے ممالک کے سربراہان ناسمجھ ہیں، احمق ہیں جو ان کو عزت اور احترام دیتے ہیں۔ بس ہمارے ملک کے بعض لوگ نہایت زیرک اور عقل مند ہیں جو اپنے ان قابل قدر لوگوں کو گالم گلوچ سے نوازتے ہیں جو معاشرے کے لیے کئی حوالوں سے گراں قدر خدمات انجام دیتے ہیں اور دنیا میں اپنے ملک اور قوم کا سافٹ امیج اُجاگر کرتے ہیں۔
مینگورہ اور ملک کے کئی پس ماندہ اضلاع میں لڑکیوں کی تعلیم کی ترویج کے لیے ملالہ فنڈ نے اب تک 7.5 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں جب کہ ان کی ذاتی جیب سے بچوں اور بچیوں کی تعلیم کے لیے امداد کے علاوہ ملالہ نے اپنے والدین کے آبائی علاقے برکانا میں ’’شانگلہ گرلز اسکول‘‘ کے نام سے ایک بہت بڑا تعلیمی ادارہ بھی قائم کیا ہے جس میں اس وقت چھے سو بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اسکول کی بلڈنگ کے لیے ملالہ نے نوبل پیس پرائز سے ملنے والی سات کروڑ روپے کی اپنی ذاتی رقم استعمال کی ہے جب کہ بلڈنگ کی تعمیر اور اسکول چلانے کے لیے کروڑوں کی رقم ملالہ فنڈ نے مہیا کی ہے۔ اس اسکول میں زیرِ تعلیم بچیوں کی کتابیں، یونی فارم اور ٹرانسپورٹ سب ملالہ فنڈ کے ذریعے ادا کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ اور دیگر انتظامی سٹاف کی صورت میں علاقے کے لوگوں کو باعزت روزگار کے مواقع بھی ملے ہیں۔ ضیاء الدین کی طرف سے ذاتی طور پر بیماروں، غریبوں اور تنگ دست دوستوں کی پیہم مدد اس کے علاوہ ہے۔ واضح رہے کہ اس اسکول میں زیادہ تر وہ غریب بچیاں پڑھ رہی ہیں جن کے خاندان میں کسی بچی نے کبھی اسکول کی دہلیز پر قدم بھی نہیں رکھا تھا۔
آپ ذرا سوچیے شانگلہ جیسے دور افتادہ علاقے میں اتنا بڑا تعلیمی ادارہ جو مستقبل میں کالج بنے گا اور جس میں طالب علم بچیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے، جب یہ بچیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر تعلیم یافتہ مائیں بنیں گی اور ان میں بعض استانیاں، ڈاکٹر، نرس اور دوسرے شعبوں میں اپنی خدمات انجام دیں گی، تو ضلع شانگلہ میں مستقبل میں کتنی بڑی سماجی تبدیلی آئے گی، وہاں کے معاشرے میں کس قدر مثبت اقدار جنم لیں گی، یہ بات تو اس وقت آپ کو مضحکہ خیز لگے گی لیکن یاد رکھیں بعض لوگ تاریخ لکھتے ہیں لیکن بعض لوگ اپنے معاشروں میں علم و شعور اور آگہی کی روشنی پھیلا کر تاریخ بناتے ہیں۔
’’ووگ میگزین‘‘ میں ملالہ کے انٹرویو کے ایک متنازعہ بیان پر پاکستان بھر میں ایک خاص ذہنیت کے حامل لوگوں نے ملالہ، ضیاء الدین اور ان کے خاندان کو جس طرح دشنام کی زد پر رکھا تھا اور انھیں کفر کے فتوؤں سے نوازا جا رہا تھا، اس کے جواب میں فیس بک کی ایک پوسٹ میں مَیں نے لکھا تھا کہ:’’ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماروں اور نفسیاتی مریضوں کی کوئی کمی نہیں۔‘‘ مَیں نے یہ فقرہ سوات کے بارے میں نہیں لکھا تھا بلکہ قومی سطح پر عام لوگوں کے ذہنوں میں جو خاص بیانیہ ’’خاص لوگوں‘‘ کی طرف سے ٹھونسا گیا ہے، اس کی طرف اشارہ کرکے لکھا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب نے مجھے مخاطب کرکے لکھا ہے کہ: ’’اسے خود کیوں سوات کا ہر گھر ایسا نظر آ رہا ہے؟ آیا وہ خود بھی ذہنی بیمار اور نفسیاتی مریض ہے ؟‘‘
جب کوئی شخص خود کو خدائی فوجدار سمجھنے لگتا ہے اور ذاتی عناد اور بغضِ معاویہ کے مصداق کسے کے پیچھے بلاوجہ پڑ جاتا ہے اور سیاق و سباق سے ہٹ کر معمولی معمولی نکتوں کو بزعمِ خود بڑا بنا کر کسی باعزت شخص کو بے عزت کرنے کی سرتوڑ لیکن ناکام کوشش کرتا ہے، تو اسے خود سوچنا چاہیے کہ ذہنی بیمار اور نفسیاتی مریض کی یہ علامتیں کس میں پائی جاتی ہیں؟
…………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔