آج وزیرِ اعظم عمران خان تواتر کے ساتھ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان ٹریک پر واپس آگیا ہے۔ کرپٹ مافیا کا احتساب اور طاقتور کو قانون کے تابع کیا جارہا ہے۔
ان کا یہ دعوا پاکستان کے عوام تسلیم کرتے اگر وہ اپنے سہ سالہ دورِ حکومت میں کسی بھی مافیا کا احتساب کرنے میں کامیاب ہوتے…… لیکن بدقسمتی سے ان ہی کے دورِ حکومت میں چینی اور آٹے کا بحران سامنے آیا۔ مہنگائی نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ بے روزگاری نے غریب پاکستانیوں کا جینا دوبھر کردیا۔
کرپٹ مافیا کے احتساب کی دعویدار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیرِ اعظم کے ’’کورونا پیکیج‘‘ پر اربوں روپے کے اخراجات کا آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ کیا، تو پتا چلا کہ ان اخراجات میں چالیس ارب روپے کی بدعنوانی پائی گئی ہے۔
چند روز قبل آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضہ جاری کرنے کے لیے دوسری شرائط کے علاوہ یہ شرط بھی رکھی تھی کہ اس رپورٹ کو پبلک کیا جائے۔ شفافیت اور ایمان داری کے دعوے کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت اس رپورٹ کو اس لیے چھپائے ہوئے تھی کہ اس میں چالیس ارب روپے کی بدعنوانی کا ذکر تھا۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق ’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ کو وزیرِ اعظم کورونا پیکیج کے تحت 133 ارب روپے دیے گئے جس میں آڈٹ رپورٹ کے مطابق 25 ارب روپے کی بدعنوانی ہوئی۔
یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن کو دس ارب روپے اس پروگرام کے تحت دیے گئے جس میں 5 ارب 20 کروڑ کی بدعنوانی پائی گئی۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو 22 ارب 20 کروڑ روپے اس پروگرام کے تحت دیے گئے جس میں 4 ارب 80 کروڑ کی بدعنوانی کی نشاندہی کی گئی۔
ان تین برسوں میں یہ معلوم ہوا کہ آئل مافیا، چینی مافیا، گندم مافیا کے خلاف کوئی طاقت کارروائی نہیں کرسکتی۔ آج بھی پاکستان کا نظام ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور مافیا پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی بڑی جماعتوں، برسرِ اقتدار شخصیات اور مافیاؤں میں قریبی تعلق ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کرپشن آج بھی عروج پر ہے…… بلکہ بدعنوان عناصر مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ہمارے ملک کے سرکاری اداروں میں محض بورڈ پر ضرور لکھا ہوتا ہے: "Say no to corruption” مگر یہاں کسی کام کا بحسن و خوبی انجام پانا بغیر رشوت دیے قطعاً ممکن نہیں۔
ہر سرکاری دفتر کے باہر کچھ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں…… جو اس دفتر کے ماحول اور مشکلات کو حل کرنے کا فن جانتے ہیں…… جب کہ بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے اس ناسور کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب لوگ بدعنوانی کے مرتکب ہو کر بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے…… بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں۔ اسے اپنی عقلمندی، عیاری، چالاکی، ذہانت اور ہنر سمجھتے ہیں۔ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے سماجی اور معاشرتی اسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور انسانی و مذہبی اقدار کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ کرپشن سے بھرپور تھانہ کلچر، حکومتی اداروں میں کرپشن کا راج، حصول انصاف کا کم زور نظام، مصلحتوں اور بدعنوان افسران کی وجہ سے عوام میں بے بسی اور بے اختیاری کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ عوام میں عدم اطمینان کے باعث، حکومتی و سرکاری اور عدالتی اداروں پر ان کے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے…… جب کہ ملک میں موجود انسدادِ بدعنوانی کے محکموں کی مایوس کن کارکردگی اور ان سے استفادے کا پیچیدہ اور سست رو طریقۂ کار، سرکاری اداروں میں کرپشن کا باعث بن رہا ہے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بنیادی سرکاری ادارے مثلاً بجلی، سوئی گیس، شہری ترقی کے ادارے، میونسپل کمیٹیاں، لوکل گورنمنٹ کے دفاتر، سرکاری ادارے کم اور بدعنوانی کی نرسریاں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تعینات معمولی افسران کے بھی اثاثہ جات اور عالی شان طرزِ زندگی دیکھ کر شہری انگشتِ بدنداں رہ جاتے ہیں۔ یہاں بر سراقتدار رہنے والے حکمرانوں میں سے بھی بعض کلیدی عہدوں پر فائز سیاسی لیڈر کرپشن میں بری طرح ملوث رہے ہیں۔ ان کی کرپشن ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے…… مگر کہیں سیاسی مصلحتوں اور کہیں کم زور سسٹم کے باعث یہ افراد کرپشن کے تمام الزامات سے اس طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں جیسے دودھ کے دھلے ہوں۔
یہاں اقتدار پر قابض رہنے والے بدعنوان حکمرانوں کی لوٹ مار اور بندر بانٹ، اور قر ضوں کے انبار کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور عام لوگوں کا زندگی گزارنا اجیرن ہو چکا ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے عہدوں پر فائز سرکاری افسر اور حکمران گروہ قومی دولت کی لوٹ مار کے باعث عیش و عشرت میں مگن رہے ہیں اور دوسری طرف غریب اور فاقہ کش لوگ آج بھی خود سوزی اور خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ بدعنوانی کے خاتمے میں موجودہ حکومت کسی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور نیب جیسے ادارے محض روایتی انداز میں کام کر رہے ہیں…… جن پر عوام کو اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کو بھی نئے ٹاسک دیے جائیں۔ ان کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور ان کی کارکردگی کو تیز تر کیا جائے۔ خوش قسمتی سے پاکستان جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے اور اسے ہم اپنی بد قسمتی کہیں یا ستم ظریفی کہ ہمارے حکمران یہاں دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ نہیں کررہے۔ ہم اس بدنصیبی اور بدقسمتی کو اپنی خوش قسمتی میں بدل سکتے ہیں اور اپنے پیارے پاکستان کو جنت نظیر خطہ بنا سکتے ہیں۔ اگر اداروں میں میرٹ کو فروغ دیا جائے، ہر سرکاری ادارے سے رشوت ستانی کا مکمل خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے، سستے اور فوری انصاف کو فروغ دیا جائے اور ملکی مفاد کو ذاتی اور انفرادی مفاد پر ترجیح نہ دی جائے۔ سفارشی کلچر کا خاتمہ ، امیری اور غریبی کے سٹیٹس کو مٹانے کے لئے کلیدی کردار اداکیا جائے ۔تاکہ حقیقی معنوں میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور ہر طاقتور قانون کے تابع ہو۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔