سیالکوٹ واقعہ کے بعد اندازہ ہوا کہ حبیب جالب نے سچ کہا تھا
’’تم وحشی ہو تم قاتل ہو‘‘
سیالکوٹ میں ایک جیتا جاگتا انسان جلا دیا گیا…… کیوں؟ ایک کاغذ پہ لکھا تھا ’’یاحسین!‘‘ اور ’’درود شریف پڑھ لیں!‘‘ اور اس سری لنکن منیجر نے وہ کاغذ پھاڑ کر پھینک دیا، جس پہ اسے مل کر سب نے مار ڈالا۔ حالاں کہ وہ شخص معافیاں مانگتا رہا۔ ایک ایک کے پاؤں پڑا کہ معاف کر دو۔ ظاہر ہے، وہ ایک غیر مسلم تھا۔ اسے اتنا علم نہیں ہوتا ہوگا…… لیکن اسے کیا علم تھا کہ یہاں انسانیت کے قاتل انسانیت اور اسلام دونوں کو سرمشار کرنے والے جانور موجود ہیں۔ سیالکوٹ میں پیش آنے والا سانحہ شرمناک، انتہائی قابلِ مذمت اور اسلام و انسانیت کی توہین ہے…… جو پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا۔
سیالکوٹ، دنیا بھر میں سپورٹس مصنوعات برآمد کرنے کے لیے مشہور ہے۔ پاکستان کا اس واقعہ سے بہت نقصان ہوگا۔
سیالکوٹ واقعہ کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسا کرنے والوں نے اسلام اور پاکستان کو بدنام کیا ہے۔ اسلام، امن و سلامتی کا دین ہے۔ توہینِ رسالتؐ یا ناموسِ رسالتؐ کا معاملہ ہو، تو ہمارے پاس قوانین موجود ہیں۔ ایسا کر کے ان لوگوں نے پاکستان اور اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی…… بلکہ ایسا کرنا سیرتِ طیبہ کی مخالفت ہے۔ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علما اس واقعہ کی مذمت کرتے ہیں۔ رواں سال پنجاب میں توہینِ رسالتؐ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پنجاب میں توہینِ رسالتؐ سے متعلق کوئی ایف آردرج نہیں ہوئی۔
پچھلے سال ’’متحدہ علما بورڈ‘‘ نے 113 کیس دیکھے…… اور جن پر الزامات تھے، انہیں ’’متحدہ علما بورڈ‘‘ نے بری کیا۔ ملزمان نے اسلام کے نام پر یہ کام کر کے ہمیں شرمندہ کیا ہے۔ تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ سیالکوٹ میں ظلم کی انتہا ہوئی ہے۔ دینِ اسلام امن، دوستی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ہمارے دین میں تشدد کی ممانعت ہے۔ ہر غیر ملکی اور غیر مسلم پاکستانی کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح کے واقعات عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
جیسا کہ پہلے کہا کہ سیالکوٹ میں غیر ملکی شہری کو جلانے کے دور رس منفی نتائج نکلیں گے۔ یہ آگ سری لنکن شہری کو نہیں بلکہ پاکستانی ساکھ اور ملکی برآمدات کولگائی گئی ہے۔ خدارا! پاکستان کو انسانوں کے رہنے کے قابل چھوڑ دیں! اسلام کے نام پر بننے والے اس پاک وطن میں پتا نہیں کیوں صلۂ رحمی، برداشت، امن و امان، صبر و تحمل، دلیل، فکر، سوچ، روشن خیالی، اعتدال پسندی، جدت خیالی، بچے، عورتیں اور اقلیتیں جل رہی ہیں۔
مرنے والا ایک غیر مسلم تھا، مسافر تھا، پردیسی تھا…… اسلامی جمہوریہ میں اپنے حصے کا رزق لینے آیا تھا۔ نوکری کرنے آیا تھا۔ بس مہمان تھا۔ عربی نہیں پڑھنا آتی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ درود لکھا ہے یا کلمہ؟ مشین پر لگا ہوا اسٹیکر پھاڑ کے پھینک دیا…… گناہ کیا! اگر کوئی دیوانہ، مجنوں، پاگل قرآن کا صفحہ پھاڑ کر پھینک دے…… تب کیا کیا جائے گا…… اسے بھی مار ڈالا جائے گا……؟ پاگل اور دیوانے پر دنیا جہاں کا کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا۔ ٹھیک اسی طرح غیر مسلم پر شرعی قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ اسے تو عربی پڑھنا نہ آتی تھی۔ شعور ہی نہ تھا کہ کیا لکھا ہے؟ آپ تو دین کے ٹھیکیدارتھے۔ سمجھا دیتے ناں اسے پیار سے، محبت سے، وضاحت کردیتے کہ یہ درود لکھا ہے۔ اس میں ہمارے رحمت والے رحیم نبیؐ کا نام لکھا ہے۔ مسکرا کر سمجھا دیتے، وہ واقعی شرمندہ ہوجاتا، معذرت کردیتا، کہتا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ قابلِ احترام کاغذ تھا……! مگر کیا کیا تم نے، مار ڈالا تم نے اسے……! پکڑ لیا، گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ وہ گھبرایا۔ اسے تو پنجابی نہ آتی تھی۔ انگریزی میں پوچھتا رہا ہوگا کہ بھائی کیا کیا ہے میں نے؟ تم نے تھپڑ دے مارے۔ پھر گھسیٹتے ہوئے باہر لے آئے۔’’گستاخ‘‘، ’’گستاخ‘‘ کے نعرے لگائے۔ مزید عوام اکٹھے کیے۔ لوگوں کو بھڑکایا۔ اس کے سر پر ڈنڈے مارے اور چہرے پہ پتھر پھینکے۔ اُس اَدھ موے کو ٹانگ سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹتے رہے اور پھر…… اور پھر جلا دیا! خدا تمھیں پوچھے، تم نے اس کے ایک بندے کو جلایا۔ پھر سیلفیاں لیں جلتے انسان کے ساتھ……!
اب سکوت سا ہے ہر سو۔ عجب سی فضا میں بو ہے…… گوشت جلنے کی بو……! دیکھو تو…… ذرا گوشت جلنے کی بو کے ساتھ ساتھ آپ سب کے ضمیر جلنے کی بوبھی ہے؟
بدبختو! خدا تمھیں پوچھے۔ اس کی ماں بین کرتی ہوگی۔ بیوی بچے روتے ہوں گے۔ بھائی اور بہنیں سوگ کرتی ہوں گی۔
وہ مسافر تھا، پردیسی تھا، مہمان تھا، غیر مسلم تھا، جانے دیتے…… تمہارا کیا جاتا؟ اگر اس بات پہ قتل کرنا بنتا ہے…… تو پھر پوری قوم کو قتل کردیا جائے۔ کیونکہ ہمارے کوڑے کے ڈھیر، ندی نالوں، گلی کوچوں میں قرآنی اوراق، اللہ اور رسولؐ کے اسمائے مبارک، قرآنی آیت لکھے اخبارات، کتب، پوسٹر، جھنڈے، بینر بکثرت ملتے ہیں…… اور وہ پھینکے والے بھی مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ کیا مسلمانوں کی گستاخی، گستاخی نہیں……؟
اُن مردود قاتلوں کی شکلیں دیکھ کر لگتا نہیں کہ کبھی انہوں نے مسجد کا رخ بھی کیا ہو! شاید ہی انہوں نے کبھی جمعہ بھی پڑھا ہو۔ انہوں نے کبھی قرآن مجید بھی اٹھایا ہو۔ انہوں نے کوڑے پہ گرے مقدس اوراق بھی اٹھائے ہوں۔ انہیں پورے کلمے بھی آتے ہوں…… مگر ان ظالموں نے ایک شخص کو ایک کاغذ کے ٹکڑے پہ قتل کر دیا۔ یہ مردود، جاہل، گنوار ہیں۔
کاش! یہاں کوئی سچا مسلمان ہوتا…… جو دین کو جانتا ہوتا، تو اس شخص کو پیار سے سمجھا دیتا۔ اخلاق کا مظاہرہ کرتا۔ اسے بتاتا کہ ہم انتہا پسند نہیں۔ یہ ہمارا دین ہے…… جو ورق اس نے پھاڑا ہے، وہ ہمارے لیے مقدس ہے۔ شاید وہ شخص متاثر ہو کر ایمان لے آتا…… لیکن ان ظالموں نے نہ صرف اُسے مار ڈالا…… بلکہ اس شخص کے خاندان، ماں، بچوں کے ذہنوں میں بھی اسلام کے خلاف زہر بھر دیا…… بلکہ ساتھ ساتھ سری لنکن مسلمانوں کی جان بھی خطرے میں ڈال دی۔ اس واقعہ پر وزیرِ اعلا پنجاب عثمان بزدار نے فوری ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا، بلکہ اس کام کی خود نگرانی بھی کی اور کہا کہ نہ صرف انصاف ہوگا…… بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔ حکومت ان تمام قاتلوں کو اس موقع پہ سلیفیاں بناتے رہے اور نعرے لگاتے رہے، فی الفور گرفتار کرکے نشان عبرت بنائے۔
جاتے جاتے اتنا ہی کہوں گا کہ ’’اہلِ سری لنکا! ہم شرمندہ ہیں!‘‘
’’تم وحشی ہو، تم قاتل ہو!‘‘
ناموس کے جھوٹے رکھوالو!
بے جرم ستم کرنے والو!
کیا سیرتِ نبویؐ جانتے ہو؟
کیا دین کو سمجھا ہے تم نے؟
کیا یاد بھی ہے پیغامِ نبیؐ؟
کیا نبیؐ کی بات بھی مانتے ہو؟
یوں جانیں لو یوں ظلم کرو!
کیا یہ قرآن میں آیا تھا؟
اُس رحمتِ عالمؐ نے تم کو
کیا یہ اسلام سکھایا تھا؟
لاشوں پہ پتھر برسانا
کیا یہ ایمان کا حصہ ہے؟
الزام لگاؤ مار بھی دو!
دامن سے مٹی جھاڑ بھی دو!
مسلماں بھی کہلاؤ اور پھر
ماؤں کی گود اُجاڑ بھی دو!
تم سے نہ کوئی سوال کرے
نہ ظلم کو جرم خیال کرے
اس دیس میں جو بھی جب چاہے
لاشوں کو یوں پامال کرے!
لیکن تم اتنا یاد رکھو!
وہ وقت بھی آخر آنا ہے
ہے جس کے نام پہ ظلم کیا
اس ذات کے آگے جانا ہے
اس خونِ ناحق کو پھر وہ
میزان حشر میں تولے گا!
وہ سرورِ عالمؐ محسنِ جاں
تم سے اتنا تو بولیں گے
اے ظلم جبر کے متوالو!
تم حق کے نام پہ باطل ہو
’’تم وحشی ہو، تم قاتل ہو!‘‘
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔