حکومت نے اسلام آباد کے سکولوں کو کارپوریشن کے ماتحت کیا، تو اساتذہ نے تالے لگا دیے۔
ہمیں اپنے مطالبات کے لیے بچوں کا مستقبل داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ اس وقت اساتذہ کی تنخواہیں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے بہت کم ہیں۔ ایک سکول ٹیچر اپنے گذر بسر کے لیے پارٹ ٹائم کام نہ کرے، تو وہ اپنے بچوں کو بھی اچھی تعلیم نہیں دلا سکتا۔ ہمارا نظامِ تعلیم چوں کہ تین قسم کا ہے جو مختلف طبقات پیدا کر رہا ہے۔ سب سے اوپر وہ ایلیٹ کلاس ہے جو اپنے بچوں کو اعلا پرائیوٹ انگلش سکولوں میں پڑھاتا ہے اور پھر وہی طبقہ ہم پر ہر لحاظ سے حکمرانی کرتا ہے۔
وزیرِاعظم عمران خان کا بھی کہنا ہے کہ انگلش میڈیم میں ذہنی غلامی ہے۔ ہمارے ملک کے نیچے آنے کی بڑی وجہ یہی تعلیمی نظام ہے۔ سرکاری سکولوں میں پہلے بڑا اچھا نظام تھا، لیکن آہستہ آہستہ نیچے کی طرف چلا گیا۔ ماضی میں کسی نے تعلیم کی بہتری پر توجہ نہیں دی۔ طبقاتی نظامِ تعلیم نے معاشرے کو تقسیم کردیا۔ اب حکومت نے یکساں نظامِ تعلیم رائج کر دیا جو مستقبل میں ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ انگریز کے تعلیمی نظام نے ہمیں کلچر اور اسلام سے بھی دور کیا۔ اصولاً جب ہم آزاد ہوئے تب ہمیں ایک سلیبس بنانا چاہیے تھا…… مگر مفاد پرست عناصر نے ہمارے نظامِ تعلیم کو طبقاتی بنا دیااورسکولوں کا نظام تین طرف چلا گیا۔ ایک طرف دینی مدارس، دوسری طرف اردو میڈیم اور چھوٹی سی کلاس کے لیے انگلش میڈیم بن گئے…… بالفاظِ دیگر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے لیے انگلش میڈیم سکول بن گئے۔ ان سکولوں سے فارغ ہونے والے بچے مقابلے کے امتحانوں میں پاس ہوکر اعلا سرکاری عہدوں پر بیٹھ گئے…… جب کہ ہمارے سرکاری سکولوں سے ایم اے کرنے والے کبھی پولیس کانسٹیبل کے لیے دوڑ لگارہے ہوتے ہیں، کبھی کلرک اور نائب قاصد بھرتی ہونے کے لیے درخواستیں جمع کروا رہے ہوتے ہیں اور کبھی کبھار تو بے روزگاری سے تنگ آکر رہڑھی لگا لیتے ہیں۔
تان آکر وہی پر ٹوٹتی ہے کہ ایک بات سبھی طبقات میں مشترک ہے کہ ہماری یہ تعلیم ہمیں ایک مفید پاکستانی شہری نہیں بناسکی۔ اس نصاب نے جو قوم تیار کی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ نصابی اور غیر نصابی اخلاقی تربیت میں اضافہ ہونا چاہیے۔ پہلا سبق معاشرتی آداب پر مبنی ہونا چاہیے۔ جیسے سڑک پر پیدل یا گاڑی میں چلنے کے آداب، اسکول، کالج، یونیورسٹی، بازار، بسیں، دفاتر میں خواتین کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے…… اور تو اور ہمیں صفائی کے آداب کا بھی پتا نہیں۔ اپنے گھر کا کوڑا ہمسائے کے دروازے کے سامنے پھینکنا عین ثواب سمجھتے ہیں۔ چلتی گاڑی سے سگریٹ اور جوس کے ڈبے سڑک پر پھینکنا ہم نے اپنا کلچر بنا رکھا ہے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ نے میں ہم تمام اخلاقی قدریں بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ کسی بھی قوم کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے لازمی ہے کہ قوم کا ہر فرد ترقی کے عمل میں موثر حصہ لے، تاکہ جلد از جلد معاشرے کے تمام لوگ ترقی و خوشحالی کی منازلطے کر سکیں۔
قارئین، معاشی آسودگی اور سرخروئی کے لیے ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو از سر نو تبدیل کرنا پڑے گا۔ دینِ اسلام میں حصولِ تعلیم کی بار بار تلقین کی گئی ہے…… اور علم کو مومن کی گمشدہ میراث قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی نگرانی وفاقی حکومت کی وزارتِ تعلیم اور صوبائی حکومتیں کرتی ہیں۔ وفاقی حکومت زیادہ تر تحقیق اور ترقیِ نصاب، تصدیق اور سرمایہ کاری میں مدد کرتی ہے۔ آئینِ پاکستان کی شق 25-A کے مطابق ریاست 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی معیاری تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔ سب سے زیادہ شرحِ تعلیم اسلام آباد کی ہے جو 96 فیصد ہے۔ سب سے کم کوہلو کی ہے جو 28 فیصد ہے۔ 2000ء اور 2004ء کے درمیان 55 سے 64 سال تک کی عمر والے پاکستانی شہریوں کی شرحِ تعلیم 38 فیصد ہے۔ 45 سے 54 سال تک کی عمر والے افراد میں شرحِ تعلیم 46 فیصد تھی۔ 25 سے 34 سال تک عمر والے افراد میں شرحِ تعلیم 57 فیصد اور 15 سے 24 سال والے افراد میں 72 فی صد شرح تعلیم تھی۔
شرحِ تعلیم کچھ علاقوں میں زیادہ اور کچھ میں کم ہے۔ پاکستان میں دنیا کے اکثر ممالک سے شرحِ تعلیم زیادہ ہے…… لیکن پاکستان کا شمار ان ممالک میں بھی ہوتا ہے…… جہاں ایک بہت بڑی آبادی (5 ملین سے زیادہ) سکولوں سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرِاعلا پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب میں ہائرایجوکیشن کے بجٹ میں 286 فیصداور سکول ایجوکیشن کے بجٹ میں 29 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ کیوں کہ حصولِ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے ’’ای ٹرانسفر پالیسی‘‘ متعارف کرائی اور یہ اعزاز سب سے پہلے محکمۂ تعلیم کو حاصل ہوا۔ اب تک میرٹ کی بنیاد پر 86 ہزار سے زائد اساتذہ ’’ای ٹرانسفر پالیسی‘‘ سے مستفید ہوچکے ہیں۔ اساتذہ کو ’’ای ریٹائرمنٹ‘‘، ’’ای پروموشن‘‘، ’’ای پنشن‘‘ اور ’’ای لیو‘‘ کی سہولتیں بھی میسر ہیں۔ حکومت نے 3 برس میں 1533 سکول اَپ گریڈ کیے ہیں۔
رواں مالی سال میں مزید 7 ہزار سکول اَپ گریڈ کیے جائیں گے اور مجموعی طورپر 27 ہزار سکول اَپ گریڈ کیے جائیں گے جن میں جنوبی پنجاب کے 40 فیصد سکول شامل ہیں اور گرلز سکولوں کا تناسب 53 فیصد ہے۔ 17 اضلاع کے سکولوں میں 400 لائبریریاں بنائی گئی ہیں۔
پہلی مرتبہ ’’ٹرانس جینڈر‘‘ کی تعلیم اور ٹریننگ پر توجہ دی گئی۔ ملتان میں پہلا ٹرانس جینڈر سکول قائم کیا گیا ہے۔ یہ سب تبدیلیاں اس وقت کارآمد ہوں گی جب ہمارا نظامِ تعلیم ایک ہوگا۔ اُردو ہماری قومی زبان ہے۔ اس لیے مقابلے کے امتحانات بھی اُردو ہی میں لیے جائیں، تاکہ ہمارے سرکاری سکولوں کے بچے بھی کوئی ڈھنگ کی نوکری کرسکیں۔ ہمارے اساتذہ بھی پوری محنت سے بچوں کو کتابی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ سکولوں کی تالہ بندی کسی مسئلہ کا حل نہیں…… بلکہ مذاکرات سے بہتری کی گنجائش نکل آتی ہے۔
……………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔