حکمرانی کرنا اور قومی رہنمائی کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ کسی کو قومی امور و معاملات کی نگرانی اور ذمہ داری تفویض کرنا اس کو اُلٹی چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ جس شخص کو اس ذمہ داری کے نتائج اور اثرات کا شعور ہو، وہ آسانی سے اس گراں بار اور کمر توڑ دینے والی ذمہ داری کو قبول نہیں کرتا۔ خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروقؓ کا مشہور قول ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک پیاس سے مر گیا، تو عمرؓ سے قیامت کے روز اس کے بارے میں بھی باز پرس ہوگی۔ حضور نبی کریمؐ سے ایک دن حضرت ابوذر غِفاریؓ نے درخواست کی کہ آپؐ مختلف افراد کو ذمہ داریاں اور عہدے تفویض کرتے ہیں۔ مجھے بھی کوئی منصب عطا فرمائیں۔ آپؐ نے جواب دیا، اے ابوذر! جو شخص یہ عہدہ، منصب اور ذمہ داری خود طلب کرے۔ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیاجاتا ہے اور جس کو یہ ذمہ داری بغیر طلب کے تفویض کی جائے، پھر اللہ اس کی مدد اور رہنمائی فرماتا ہے۔
سیکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی جان و مال، عزت و آبرو اور معاش و مفاد کی ذمہ داری قبول کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ فلاحی ریاست کا تصور بہت وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ اس میں دنیا و آخرت کی تمام کامیابیوں، خوشحالی اور ترقی کے معنی و مفہوم شامل ہیں۔ ملک کے باشندوں کے لیے پُرامن اور ساز گار ماحول پیدا کرنا، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے تعلیمی و تربیتی ادارے قائم کرنا، امن و امان فراہم کرنے کے لیے پُرامن اور ساز گار ماحول پیدا کرنا، امن و امان کے لیے سیکورٹی اور تنظیمی ادارے قائم کرنا اور عدل و انصاف فراہم کرنا حکمران کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر حکمران کو اپنی ذمہ داریوں اور عوام کے حقوق کا شعور و احساس ہے اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرتا ہے، تو حضور نبی کریمؐ کے ارشاد کے مطابق ایسا حکمران قیامت کے روز عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوگا،جس کے علاوہ اس روز کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔
لیکن جو شخص حکمرانی کو عیش و عشرت، لوگوں پر حکم چلانے کی خواہش اور مال و دولت جمع کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور مختلف حربوں، سازشوں، جوڑ توڑ اور ظالمانہ جبرو استبداد کے ذریعے حکمراں بنتا ہے۔ ایسا شخص ظالم اور اس کی حکومت ظلم کی حکومت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کائنات میں ظلم برداشت نہیں کرتا۔ لوگوں پر عذاب کی شکل میں اور ظالم کو آزمانے کے لیے کچھ عرصے تک تو رسّی دراز کرتا ہے اور مہلت دیتا ہے، لیکن پھر اس کو اپنی قدرت کے شکنجے میں پکڑ کر ایسے کستا ہے کہ دنیا کے لیے نمونۂ عبرت بن جاتا ہے۔ اس کی مثالوں سے تاریخ کے اوراق پھرے پڑے ہیں۔ ہمارے موجودہ دور میں مسلمان حکمرانوں میں اس کی جیتی جاگتی مثال شہنشاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کا عبرت ناک انجام ہے۔ جس شخص نے چالیس سال تک امریکی حمایت، اپنی فوج، بیوروکریسی اور خفیہ ایجنسی ‘‘ساواک‘‘ کے ذریعے کوس لمن الملکی بجایا، جب اللہ کی گرفت میں آیا، تو پھر اسی شخص کو کوئی ملک پناہ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔
لیکن اقتدار و اختیار اور حکمرانی میں اتنا کشش اور مزہ ہے کہ ہر کوئی اسے حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگاتا ہے۔ ہمارے ملک میں اکہتر سال کے دوران میں نام نہاد سیاست دانوں، بیورو کریسی اور فوجی افراد نے اس کے لیے جان توڑ کوششیں کیں۔ ہر قسم کے حربے، سازشیں اور جبر و اکراہ کے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کیے، لیکن چند روزہ حکمرانی کے بعد زمانے اور حالات کے دھول میں خس و خاشاک کی طرح بہہ کر رہ گئے۔ اس وقت جب ہم موجودہ حکمراں ٹولے کا جائزہ لیتے ہیں، تو عمران خان نے اس حکمرانی اور اقتدار کے حصول کے لیے "تحریک انصاف” کے نام سے پارٹی بنائی، بلند بانگ دعوے کیے۔ عدل و انصاف کی فراہمی، قومی خود مختاری کے قیام اور ملک میں قانون کی بالادستی کی باتیں کیں۔ اچھی حکمرانی کے لیے دیانت دار، امانت دار اور با صلاحیت افراد کی ٹیم بنانے کی بات کی۔ کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف احتساب کی باتیں کیں۔ قومی احتساب بیورو کو مضبوط و فعال بنانے کے دعوے کیے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کو گرانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنے دیے۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر حکومت کے خلاف فضا ہموار کرنے کی جدو جہد کی۔ عوام پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی باریوں کے ساتھ حکومت کرنے اور ’’سٹیٹس کو‘‘ سے نالاں، بیزار اور تنگ آئے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے عمران خان کے نعروں پر یقین کرکے اس سے بہتری اور اچھی توقعات اور امیدیں قائم کیں۔ کیوں کہ عمران خان اس سے پہلے حکومت و سیاست میں شامل نہیں رہا تھا۔ اس پر کرپشن اور بد عنوانی کا داغ نہیں تھا۔ اُسے ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ کینسر کے علاج کے لیے اپنی والدہ کے نام سے شوکت خانم ہسپتال کے قیام کی نیک نامی بھی اس کے کارناموں میں شامل تھی۔ اور کرکٹ کھیلنے کے دوران میں اس کی شخصیت میں ایک دبنگ، نڈر اور قوتِ فیصلہ رکھنے والے لیڈر کی شان بھی سامنے آئی تھی۔ شروع میں عمران خان کی شخصیت اور وِژن سے متاثر ہو کر چند نیک نام اور پاک صاف اور با صلاحیت افراد بھی پارٹی میں شامل ہوئے تھے، جو کچھ عرصے میں اندونی صورتِ حال دیکھ کر اور عمران خان کی شخصیت کے چھپے گوشے دیکھ کر مایوس ہو کر باہر نکل آئے۔ لیکن اتنی عوامی توقعات، امیدوں اور خوش فہمیوں پر اوس اس وقت پڑگئی۔ جب عمران خان نے انتخابات جیتنے کے لیے وہی پرانے حربے اور طریقے اختیار کیے، جو بدنامِ زمےانہ اوربے اصول سیاست دانوں کا عام معمول تھے۔ انتخابات جیتنے کے لیے انھیں بد عنوان، کرپٹ اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے سیاست دانوں کو پارٹی میں شامل کیا۔
انتخابات میں جزوی کامیابی اور دھاندلی کے الزامات کے ساتھ بر سرِ اقتدار آنے کے بعد جو وزارتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ وہ تقریباً وہی ٹیم ہے، جو اس سے پہلے جنرل مشرف کی مارشل لاء حکومت میں وزیر تھے اور پرویز مشرف کو سو مرتبہ وردی میں منتخب کرنے کے دعوے دار تھے۔ پنجاب اور کے پی کے میں صوبائی حکومتیں ایسے افراد کی سرکردگی میں تشکیل دی گئیں، جن کی سوائے اس کے اور کوئی صلاحیت اور قابلیت نہیں کہ وہ صرف وفادار اور ’’یس مین‘‘ ہیں۔ کے پی کے میں وزارتوں، عہدوں اور مناصب کے لیے رسہ کشی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اسی طرح مرکزی کابینہ میں ایسے غیر ذمہ دار، نوعمر، ناتجربہ کار اور اخلاق و کردار سے محروم افراد کو شامل کیا گیا، جو سیاسی اخلاقیات سے عاری اور ضبط و تحمل کے وصف سے محروم ہیں۔
عمران سرکار کی سو روزہ ابتدائی کارکردگی کا خلاصہ یہ رہا کہ ہم نے سمت متعین کی۔ اجلاس پر اجلاس، بیان پر بیان لیکن عملی طور پر مہنگائی کا طوفان، ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ انتخابات سے قبل کی گئی تقریریں ہوا میں تحلیل ہوگئیں اور اب ’’یوٹرن‘‘ کے فضائل اور حسنات بیان کیے جا رہے ہیں۔ نیب ہمارے اختیار سے باہر، سٹیٹ بنک خود مختار، تو آخر آپ کس بات اور کس چیز کے وزیر اعظم ہیں؟ لیکن ایک بات بہر حال درست اور صحیح ہے کہ ہم جیسی قوم کے لیے عمران خان بھی غنیمت ہے۔ ہم بد سے بدتر اور بدتر سے بدترین کی طرف جارہے ہیں۔ اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ ہم حکمرانوں کی نااہلی، بد دیانتی اور ظلم کے ذریعے اللہ کے عذاب میں گرفتا ر ہیں۔

…………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔