’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ (پرانی صبحوں کا لمس)

ہمیں جب بھی پشاور یا اسلام آباد کے لیے رختِ سفر باندھنا ہوتا، تو اولاً گاڑی میں تیل ڈلواتے، ثانیاً ٹائروں میں ہوا بھرواتے اور ثالثاً پیٹ کی پوجا پاٹ کرتے۔ سو، تیل جہاں سے بھی ڈلواتے اور ہوا جہاں سے بھی بھرواتے، اس پہ کوئی روک ٹوک نہیں تھی، مگر ناشتا ہمیشہ ’’ٹرکونو ہوٹل‘‘ […]
مینگورہ کی ’’بدنامِ زمانہ‘‘ دیواروں میں سے ایک

15 ستمبر 2025ء کی شام مین بازار چوک سے گزرتے ہوئے میری نگاہ سروس شوز کے برابر والی اس گلی کی دیوار پر جا ٹھہری، جو مین بازار چوک کو مینگورہ شہر کی مشہور چینہ مارکیٹ سے ملاتی ہے۔ یہ مینگورہ شہر کی ’’بدنامِ زمانہ دیواروں‘‘ میں سے ایک ہے۔ اس کی اہمیت سے مجھ […]
قیمتی پتھروں کا زندگی پر اثر

میرے والد فضل رحمان المعروف علی رحمان (مرحوم و مغفور) اسلحہ رکھنے کے ساتھ چاندی کی قیمتی نگینوں والی انگوٹھیاں پہننے کا بھی شوق رکھتے تھے۔ زندگی کے آخری حصے میں وہ تقریباً دماغی توازن کھو بیٹھے تھے، جو اکیلے اُن کا نہیں، بل کہ اُن کے بڑے بیٹے کے ناتے میرا بھی ایک تکلیف […]
آڈیو کیسٹ کے ساتھ جڑی یادیں

میرا بڑا بیٹا ’’سنو فلیک جنریشن‘‘ (Snowflake Generation) سے تعلق رکھتا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ہر وقت یا تو سمارٹ فون ہوتا ہے، یا پھر وہ اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر ’’کوڈنگ‘‘ کی دنیا کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے والد کے بچپن اور لڑکپن کے محبوب […]
مینگورہ خوڑ

مینگورہ شہر کے دِل ’’نشاط چوک‘‘ سے تقریباً تیس، چالیس قدم آگے سیدو روڈ پر ایک پُل آتا ہے جس کے بائیں ہاتھ چینہ مارکیٹ کی طرف ایک چھوٹی سی سڑک جدا ہوتی ہے۔ تصویر میں دکھائی دینے والی ندی، جسے ہم پشتو میں خوڑ کہتے ہیں، 90ء کی دہائی میں صاف و شفاف بہتی […]
’’کروڑے‘‘ (Wild Berries)

ہم اپنے لڑکپن میں ’’کَروَڑُوں‘‘ (Wild Berries) کے شیدائی تھے۔ جب کبھی اپنی پھوپھی کے ہاں مرغزار جاتے، تو دن کا بیش تر حصہ درے کے پہاڑوں میں ’’کروڑے‘‘ اکھٹا کرنے کی غرض سے مہم جوئی کی نذر ہوتا۔’’کَروَڑے‘‘ پسند کرنے اور ان کی تلاش میں شوقیہ نکلنے والے جانتے ہیں کہ اس کے پودے […]
’’دَ ہوٹل ڈوڈیٔ‘‘ (تندوری نان)

بچپن میں سکول جانے سے قبل ایک ہی ضد ہوتی کہ اگر چائے کے ساتھ تناول فرمانے کو اگر گرما گرم نان ہوگی، تو ہی ناشتا ہوگا۔ پھر جیسے ہی پیسے تھمائے جاتے ، چشمِ زدن میں محلہ وزیر مال (مینگورہ) کے تندور والے سے گرما گرم نان خرید کر واپس آجاتے۔ چاچا جی (مستنصر […]
د ملاکنڈ سُرے (ملاکنڈ ٹنل)

میری طرح 80ء کی دہائی میں آنکھ کھولنے والوں کو ملاکنڈ ٹنل کی سحر انگیزی کا اندازہ بہ خوبی ہوگا۔ مَیں چوں کہ ’’ٹریول سِکنس‘‘ (Travel Sickess) سے متاثر ہوں، سفر کے دوران میں اُلٹی نہ کروں، تو دل کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا۔ اس لیے جب بچپن میں ’’جی ٹی ایس بس‘‘ کے ذریعے […]
بت کڑہ

وہ بھی کیا دن تھے، جب گرمی کے دنوں میں ہم مینگورہ خوڑ (ندی) میں نہا کر دوپہر کی تپتی دھوپ میں آلوچوں کے کسی باغ پر ہلہ بول دیتے۔ بندہ اگر 4، 5 عدد آلوچے باغ سے اُٹھا لیتا یا کسی درخت سے توڑ لیتا، تو باغ کی رکھوالی کرنے والا درگزر سے کام […]
دَ رَسُو پُل

لکڑی اور لوہے کی رسی کی مدد سے بنایا گیا یہ پُل کوکارئی (سوات) کا ہے۔ اس جگہ کی خوب صورتی ہمارے ایک ہم دمِ دیرینہ کے بہ قول ’’اَن بیان ایبل‘‘ (Unbayanable) ہے۔ ہم اسے پشتو میں ’’دَ رَسُو پُل‘‘ کہتے ہیں۔ اسے انگریزی میں "Suspension Bridge” کہتے ہیں۔ اُردو میں شاید اس کے […]
چاٹی قلفہ

90ء کی دہائی میں ہم لڑکوں کا پسندیدہ ترین قلفہ تصویر میں دکھائی دینے والا یہ ’’چاٹی قلفہ‘‘ تھا۔ اِسے اُس وقت ایک طرح سے عیاشی کا سامان سمجھا جاتا تھا۔ اندازہ لگائیں کہ چار آنے ہمیں کھانے کو ملتے تھے اور آٹھ آنے قلفے کی قیمت تھی۔سب سے لذیذ قلفہ کھتیڑا بازار میں غالباً […]
شیر عالم خان ککوڑے

مینگورہ شہر کے کباب خانوں کا جب بھی کبھی ذکر ہوگا، ’’میرجو ‘‘ کباب خانہ (کباب خانہ کو ہم پشتو میں عام طور پر کڑھے بولتے ہیں) کے بغیر بات مکمل نہیں ہوگی۔ ’’میرجو کڑھے‘‘ مجھے یاد ہے مگر اس کے ساتھ میری کوئی ایسی یاد وابستہ نہیں، جسے یہاں رقم کیا جاسکے۔ البتہ اس […]
’’کچالان‘‘

اب کون سے حالات بہتر ہیں، مگر جیب جب مکمل طور پر خالی ہوا کرتی تھی، تو ’’کچالو‘‘ اُس وقت ہماری مرغوب ترین غذا ہوتا تھا۔پسند ہر کسی کی اپنی اپنی ہے، مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ مینگورہ شہر میں تاج چوک کے کچالو تیار کرنے والے کا مقابلہ شاید ہی کوئی کر پائے۔ میرے […]
جمعہ بازار، مین بازار مینگورہ سوات

مَیں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، جمعہ کے روز مین بازار (مینگورہ سوات) کی دکانیں بند ہی پائی ہیں۔ کب سے مین بازار میں جمعہ بازار لگتا ہے؟ اس حوالے سے وثوق سے کچھ نہیں کَہ سکتا، مگر مجھے بچپن سے جمعہ کے روز اس بازار کے تھڑوں پر مختلف چیزیں بیچنے والے یاد […]