خدمت، سیاست اور فکری جمود کا المیہ

ڈاکٹر گوہر علی نے ’’بنو قابل‘‘ یا ’’بنو قابلِ سیاست‘‘ کے عنوان سے لفظونہ ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے ایک عمدہ تحریر لکھی ہے۔ اُمید ہے کہ جماعتِ اسلامی کے ’’فارمولا ذہن‘‘ والے افراد اس کو تعمیری تنقید کے طور پر لیں گے، اس لیے میں ڈاکٹر گوہر کی بات آگے بڑھانے کی جسارت […]
’’بنو قابل‘‘ یا ’’بنو قابلِ سیاست؟‘‘

گذشتہ دنوں سوات کی تحصیلِ کبل کے معروف کبل گراؤنڈ میں ایک بڑا منظر دیکھنے کو ملا۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام سوات، بونیر اور شانگلہ کے ہزاروں نوجوان ’’بنو قابل‘‘ پروگرام کے ٹیسٹ میں شریک ہوئے۔ بہ ظاہر یہ نوجوانوں کو آئی ٹی کی جدید مہارتیں سکھانے کا ایک قدم ہے، لیکن اس […]
نظریات کے چراغ اور کارپوریٹ اندھیرا
یہ محض تصویر نہیں…… ایک تاریخ ہے، جد و جہد ہے، نظریات کی کہانی ہے۔تصویر کے دائیں جانب فضل رحمان نونو، درمیان میں عبداللہ یوسف زئی اور ساتھ عبدالعزیز شاہین ایڈوکیٹ (سابقہ محکمۂ تعلیم) نظر آتے ہیں۔ یہ سب مینگورہ شہر کے اصلی باشندے ہیں۔مینگورہ ایک چھوٹے قصبے سے بڑھتے بڑھتے خیبرپختونخوا کا آبادی کے […]