بابوزئی قامی تڑون جرگہ اور سلگتے مسائل

’’بابوزئی قامی تڑون جرگہ‘‘ تحصیلِ بابوزئی کے اندر ایک مکمل غیر سیاسی جرگہ ہے، جس نے سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر اُن لوگوں کو جمع کیا ہے، جن کے خلاف کسی قسم کے اخلاقی، مالیاتی یا دیگر الزامات نہیں…… اور جن کا مقصد صرف اور صرف تحصیلِ بابوزئی میں رہنے والے لوگوں […]
سوات موٹر وے فیز ٹو: تاخیر، ناکامی اور نقصان

اس وقت نہ صرف مینگورہ شہر غیر قانونی رکشوں اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شدید گھٹن کا شکار ہے، بل کہ اربن پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے آبادی کے غیر فطری پھیلاو (Irregular Expansion) نے لاکھوں لوگوں کو محصور کر دیا ہے۔ہم جیسے غیر ممالک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑی بھاری قیمت […]
خدا، بھوک اور سرمایہ دارانہ فریب

اشتراکی سوویت انقلاب کے عظیم راہ نما لینن نے کہا تھا: ’’ہم مذہبی لوگوں سے موت کے بعد والی جنت پر نہیں الجھنا چاہتے۔ ہمارا مقصد اِس زندگی کو تمام انسانیت کے لیے جنت بنانا ہے۔‘‘لبرل ازم، جدید سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔ اس فکر کے حامل لوگ مادر پدر آزادی کو ہی اصل […]
مینگورہ کی تاریخی جنازہ گاہ (جنازو جمات) کا نوحہ

جنازو جمات (مسجد)، ڈھیرئی مقبرہ مینگورہ، محض ایک جنازہ گاہ یا عمارت نہیں تھی جس کو مسمار کرکے اب ایک اور عمارت زیرِ تعمیر ہے۔ یہ تو ورثہ تھا، تاریخ تھی، ایک تعلق تھا۔والی صاحب جیسے جہاں دیدہ انسان نے جنازو جمات کے لیے جگہ کا انتخاب کیا، تو اس میں اُن کی دور اندیشی […]
زلزلے کا فکری و سائنسی مطالعہ

معلوم تاریخ کے مطالعے کے بعد ایک اندازہ لگایا گیا ہے کہ اب تک آنے والے زلزلے 8 کروڑ انسانوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ اس سے زلزلوں کی ہلاکت خیزی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جب کہ مالی نقصانات کو اعداد میں بیان کرنا ممکن نہیں۔اب زلزلے انسان کے لیے ہمیشہ خطرات اور پریشانیوں کا […]
مذہبی بنیاد پرستی کا حقیقی پس منظر

بنیاد پرستی کو کئی دفعہ اسلام سے نتھی کیا جاتا ہے، جو تاریخی طور پر غلط ہے۔ اگر ہم بنیاد پرستی کی تشریح سے پہلے تاریخ میں اس کے احیا پر بات کریں، تو بنیاد پرستی کی تحریک یا نظریے کو 19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں قدامت پسند مسیحیوں یعنی […]
طاقت کا کالا بازار (دروغ بر گردنِ راوی)

بڑا سنتے آئے ہیں کہ تھانے بکتے ہیں، ایس ایچ اُوز پیسے دے کر پوسٹنگ لیتے ہیں۔ ایک مخصوص ’’تھانہ کلچر‘‘ ہوتا ہے اوپر خدا، نیچے ایس ایچ اُو مالک ہے۔ جسے چاہے عزت دے ، جسے چاہے ذلیل کرے۔ ایس ایچ اُو کے پاس وہ سارے اختیارات ہوتے ہیں کہ اگر اُس میں فرعونیت […]
انصاف کا نڈر علم بردار، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ

فسطائیت اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے خلاف ڈٹ جانے والے مردِ مجاہد، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ (شہید) وہ شخص جس نے آئین کی پاس داری کا حلف لیا تھا اور اسی جرم میں مجرم ٹھہرا کہ وہ آئین کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ آمریت کو صریحاً خلافِ آئین کہتا […]
مینگورہ شہر کا خاموش المیہ

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں مینگورہ شہر بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ ڈینگی، ملیریا، کورونا، آلودگی، چوہوں کی بے تحاشا افزایش، شہری سیلاب کے خدشات، بے ہنگم ٹریفک، ٹریفک جام، سینے اور سانس کے امراض اور نہ صرف مینگورہ شہر بل کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریض…… اگر […]
خدمت، سیاست اور فکری جمود کا المیہ

ڈاکٹر گوہر علی نے ’’بنو قابل‘‘ یا ’’بنو قابلِ سیاست‘‘ کے عنوان سے لفظونہ ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے ایک عمدہ تحریر لکھی ہے۔ اُمید ہے کہ جماعتِ اسلامی کے ’’فارمولا ذہن‘‘ والے افراد اس کو تعمیری تنقید کے طور پر لیں گے، اس لیے میں ڈاکٹر گوہر کی بات آگے بڑھانے کی جسارت […]
’’قامی تڑون جرگہ‘‘ اور ہمارے کرنے کے کام

سوات کیا پورے ملاکنڈ ڈویژن میں تحصیلِ بابوزئی کو کئی وجوہات کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ یہ ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی، عدالتی اور تاریخی ہیڈکوارٹر بھی ہے ۔ کاروباری مواقع کے لحاظ سے بھی یہ ایک بڑی تحصیل ہے۔ یوں اس تحصیل میں آبادی کی مسلسل […]
لاہورِ ثانی، ’’مینگورہ‘‘

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے، کیوں کہ وہاں سموگ ہوتا ہے…… مگر خیبرپختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن، خصوصاً مینگورہ (سوات) کا کوئی والی وارث نہیں، جو آکر دیکھے کہ آلودگی کسے کہتے ہیں!ایک چھوٹا سا شہر اور اُس میں ہزاروں رکشے اور اُن سے اٹھتے ہوئے دھویں […]
’’کیس نمبر 9‘‘: فارمولا کہانیوں سے انحراف

عام طور پر پاکستانی ٹی وی ڈرامے محبت، جاگیرداری، غریب اور امیر کی شادی، محبت میں ناکامی کے خدشات کے بعد ہونے والی شادی، سیاسی خانوادوں کے رویوں کی عکاسی اور ساس بہو کے تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں…… مگر ’’کیس نمبر 9‘‘ نے سب کچھ بالکل 180 درجے پر گھما دیا ہے۔ معروف اینکر […]
خلیل الرحمان قمر کا ’’منٹوئی تجربہ‘‘

خلیل الرحمان قمر مجموعی طور پر میرا پسندیدہ مصنف کبھی نہیں رہا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں:پہلی وجہ، اُن کی اُلجھی ہوئی شخصیت ہے۔دوسری وجہ، اُن کا جنسی امتیاز پر مبنی احمقانہ بیانیہ ہے۔تیسری وجہ، اُن کا مکمل کمرشل نظریہ ہے۔ایک نجی ٹی وی چینل پر ’’مَیں منٹو نہیں ہوں‘‘ نامی ڈراما اِن دنوں چل […]
نور حنی گل، شاہی مستری ریاستِ سوات

ریاستِ سوات قائم ہوئی، تو شاہی ماحول پیدا ہوا۔ شاہی سواری موٹر کار سے بہتر اور کیا ہو سکتی تھی۔ اس لیے سڑکیں بنیں اور لاریاں آئیں……مگر جہاں ڈرائیور اور میکینک نہ ہوں، وہاں گاڑی چلائے گا کون؟ابتدائی دور میں سوات میں یا تو ڈرائیور باہر سے آتے تھے یا پھر مقامی لوگ پشاور، لاہور […]
اقدار کا زوال یا زمانے کی تبدیلی؟

فضل رازق شہاب صاحب نے کچھ عرصہ پہلے ایک تحریر اپنی فیس بک وال پر دی تھی، جس میں لکھا تھا:مَیں نہیں جانتا کہ یہ الفاظ کس نے لکھے ہیں، اگر وقت ہو، تو پڑھ لیں۔مرد کے کپڑوں میں عورت کی صفائی جھلکتی ہے۔ عورت کے لباس میں مردانگی دکھائی دیتی ہے۔ لڑکیوں کے لباس […]
حیدر علی خان کی داستانِ وفا

مینگورہ کے مین بازار چوک مینگروال (مینگورہ کے باسی) میں، ’’اڈہ‘‘ سے غورئی چینہ کی طرف جانے والا راستہ محلہ اسحاق کے بعد دوسرا پوش ایریا سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کے مکانات رہایشیوں کی نفاست، آرٹ اور فنِ تعمیر سے لگاؤ کی جھلک سمجھے جاتے تھے۔ چوڑا راستہ اُن کی دل کی کشادگی کی غمازی […]
فضل رازق شہاب: ایک عہد کا نام

قارئین! قومیں بانجھ تب ہوتی ہیں، جب اُن میں علم و فن سے محبت ختم ہوجائے۔ یوں تاریخ سے رغبت معدوم رہتی ہے اور اسلاف کی عظمت کا وزن دل پر نہیں رہتا؛ حال بے حال ہو جاتا ہے اور مستقبل غیر یقینی بن جاتا ہے۔وہ قومیں گم ہو جاتی ہیں، جو صاحبِ علم کی […]
ماضی کا لنڈیکس، حال کی کالونی

آج کا لنڈیکس، کل کے لنڈیکس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ لنڈیکس جو کبھی باغوں، باغیچوں، کھیتوں اور ہریالی کے لیے جانا جاتا تھا، چند ہی گھر تھے اور مولی، گاجر، خربوزے کی فصلیں عام ملتی تھیں…… اب ایک رہایشی کالونی کے سوا کچھ نہیں۔کامران خان پل کب بنا، یہ مجھے یاد نہیں، مگر یہ […]
نظریات کے چراغ اور کارپوریٹ اندھیرا
یہ محض تصویر نہیں…… ایک تاریخ ہے، جد و جہد ہے، نظریات کی کہانی ہے۔تصویر کے دائیں جانب فضل رحمان نونو، درمیان میں عبداللہ یوسف زئی اور ساتھ عبدالعزیز شاہین ایڈوکیٹ (سابقہ محکمۂ تعلیم) نظر آتے ہیں۔ یہ سب مینگورہ شہر کے اصلی باشندے ہیں۔مینگورہ ایک چھوٹے قصبے سے بڑھتے بڑھتے خیبرپختونخوا کا آبادی کے […]
سیلاب…… تباہی بھی، امتحان بھی

وہ جمعے کا دن تھا…… یعنی چھٹی کا دن تھا۔ کاروبار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں ہفتے بیت گئے تھے۔ صبح سے رات تک کی محنت نے بدن توڑ کے رکھ دیا تھا۔ مَیں یوں سویا ہوا تھا، جیسے بے سدھ، ہر شے سے بے نیاز، حتیٰ کہ اس احساس سے بھی […]